باجوہ صاحب !آپ ہمارے لیے قابل احترام لیکن اپنے دوست سے بچیں جو آپ کو بدنام کرنے پر تلا ہے:مولانافضل الرحمان

باجوہ صاحب !آپ ہمارے لیے قابل احترام لیکن اپنے دوست سے بچیں جو آپ کو بدنام ...
باجوہ صاحب !آپ ہمارے لیے قابل احترام لیکن اپنے دوست سے بچیں جو آپ کو بدنام کرنے پر تلا ہے:مولانافضل الرحمان

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہ کٹھ پتلی وزیراعظم جب بھی تقریر کرتا ہے کوئی نہ کوئی بونگی مار کر راز فاش کر دیتا ہے۔باجوہ صاحب !آپ ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن اپنے دوست سے بچیں جو آپ کو بدنام کرنے پر تلا ہے۔

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے نتیجے میں آنے والی حکومت کو تسلیم نہیں کر سکتے۔انہوںنے کہا کہ ہمیں ڈرانے، دھمکانےاور لالچ بھی دینے کی کوشش کی گی لیکن ہم نہ کسی کی دھمکیوں سے ڈرے نہ لالچ میں آئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت منظور نہیں۔کٹھ پتلی وزیراعظم جب بھی تقریر کرتا ہے کوئی نہ کوئی بونگی مار کر راز فاش کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ خواجہ آصف نے رات کے آٹھ بجے جنرل باجوہ کو فون کر کے کہا کہ میں ہار رہا ہوں مجھے جتواد ولیکن بیوقوف کو خیال نہیں آیا کہ میں اس بات کی تصدیق کر رہا ہوں کہ مجھےبھی جنرل باجوہ نے ہی جتوایا ہے۔انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ باجوہ صاحب!ہم آپ کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن آپ اپنے دوستوں سے بچیں جو آپ کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اگر عوام کو آج آپ سے شکایت ہے تو اس کا گلہ ہم سے نہ کیجئے اپنے دوستوں سے جا کر کریں۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشی طور پر مضبوط نہ ہو، جب ریاستیں معاشی طور پر کمزور ہوجاتی ہیں تو ریاست اپنا وجود کھو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، جب مسلم لیگ ن نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تھا تو معاشی ترقی کا تخمینہ ساڑھے 5فیصد لگایا تھا، اگلے سال وہ اس تخمینہ کو ساڑھے 6فیصد پر لے گئے لیکن جب سے جعلی اور نااہل حکمران آئے تو یہ پہلے سال ہی بجٹ کو ایک اعشاریہ آٹھ پر لے آئے اور دوسرے سال تخمینہ زیرو اعشاریہ تیس فیصد رہ گیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب 26لاکھ نوجوانوں کوبیروزگارکرنے پر ختم کیا۔ پچاس لاکھ مکانات دینے کا وعدہ کر کے پچاس لاکھ گھر تجاوزات کے نام پر گرادیئے، یہ نا اہل ہیں،ان میں صلاحیت نہیں ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے ، وہ چکی میں پس رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ کشمیر کو تین حصوں میں بانٹ کر کشمیر کا سودا کرکے مگرمچھ کے بہارہے ہیں، این ایف سی کے تحت صوبوں کو ان کا حصہ ملنا چاہیے ،اگر سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کیا تو یہ آئین کے خلاف ہوگا جو ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط تھی کہ واجپائی خود چل کر پاکستان آیا اور ہمارے ساتھ تجارت کرنی چاہی لیکن اب تو افغانستان بھی ہم سے تجارت نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ موجود ہ نااہل حکمرانوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -