سیاست کی شہ رگ 

 سیاست کی شہ رگ 
 سیاست کی شہ رگ 

  

  پاکستان کی سیاسی صورت حال میں تیزی سے شدت آ رہی ہے۔ پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ سے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں گوجرانوالہ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا کیونکہ یہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جی ٹی روڈ پر لاہور اور راولپنڈی کے درمیان سب سے بڑا، اہم ترین اور سیاسی طور پر انتہائی متحر ک شہر ہے۔ پی ڈی ایم جلسہ میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ سٹیڈیم پورا بھر گیا تو انتظامیہ کو گیٹ مقفل کرنا پڑے جس کی وجہ سے لوگوں کی زیادہ تعداد سٹیڈیم سے باہر اور جی ٹی روڈ پر رہ گئی۔ نقطہ آغاز سے ہی حکومت کے خلاف تحریک جاندار لگ رہی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا ہے کیونکہ عوام کی اکثریت مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا ہے، گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے سے حکومت کے خلاف جذبات بھڑکتے جا رہے ہیں۔ سوا دو سال میں عمران خان حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ عمران خان نے مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے محکموں کی ناقص کارکردگی کا کھلا اعتراف ہے۔ حکومتیں، ان کے ادارے اور اداروں کے میکنزم کیا کر رہے ہیں؟ اس طرح کی پارٹی فورس کا ریکارڈ صرف ہٹلر کے نازی جرمنی اور بھارت کے آر ایس ایس اور شیو سینا میں ہی ملتا ہے جو حکومتی شہہ پر خوف و ہراس پھیلانے اور بھتہ خوری کے علاوہ اور کوئی کام نہیں 

کرتے۔ ٹائیگر فورس کی وجہ سے دکاندارآٹا، دالیں، چینی اور گھی وغیرہ رکھنا ختم کر دیں گے جس کی وجہ سے یہ بنیادی چیزیں مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی۔ عوام کو اب اشیائے ضرورت سستی ہونے کا نہیں بلکہ گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔ نوکریاں ختم، کاروبار ختم، خوراک ختم، سکون ختم... سونامی‘ اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے سب کچھ بہا لے جا رہا ہے۔اچھی گوورننس کا ذکر اب صرف کتابوں میں ہی مل سکتا ہے۔ پاکستان کی تمام حکومتیں بشمول وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں‘ ڈلیور کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتیں۔ عمران خان جب کہتے تھے کہ میں انہیں رلاؤں گا تو لوگ سمجھتے تھے کہ اپنی ذاتی مخاصمت کی وجہ سے شریف خاندان کی بات کرتے ہیں لیکن یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کروڑوں لوگوں کو دھاڑیں مار کر رونے پر مجبور کر دیں گے۔ آٹا، چینی، دالیں اور گھی وغیرہ کی قیمتیں 71 سال میں جہاں تک پہنچی تھیں، عمران خان اور ان کے گرد بیٹھے وزیروں مشیروں نے صرف دو سال میں انہیں دوگنا کرکے دکھایا ہے۔ آٹا، گندم، چینی کنٹرول کرنے والے ان کی کابینہ کا حصہ ہیں۔ عوام کے جسم سے کپڑے اتر رہے ہیں اور مافیا کی تجوریوں میں سینکڑوں ارب جا رہے ہیں۔ پٹرول، گیس اور بجلی والے مافیا بھی وزیر اعظم کے اردگرد ہیں اور انہی کاروبار وں سے سینکڑوں ارب کمانے والے کابینہ میں بیٹھ کر مزید سینکڑوں ارب کما رہے ہیں۔ ایسا مفادات کا ٹکراؤ اس سے پہلے نہ کبھی ہمارے یہاں دیکھنے میں آیااور نہ کسی اور ملک میں، بلکہ کہیں اور تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ نئے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ حالات ایسے ہی چلتے رہے تو موہنجوداڑو اور ٹیکسلا کے کھنڈرات اور باقی کے پاکستان میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جائے گا۔ جی ٹی روڈ پاکستان کی سیاست کی شہ رگ ہے اور اس شہ رگ میں اب حکومت کی بجائے اپوزیشن کا خون دوڑ رہا ہے جس کا واضح اظہار پی ڈی ایم کے جلسہ میں لوگوں کے جوش و خروش اور انتہائی چارج اپ ہونے سے ہو چکا ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان نے دارالحکومت کے سرکاری کنونشن سنٹر میں سرکاری خرچ پر بلائے اور ٹھہرائے گئے ذاتی فورس (جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں) کے نوجوانوں سے خطاب میں اپنی بھڑاس نکالتے نکالتے عندیہ دے دیا کہ وہ ا ب خود سخت گھبرائے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ یہ کمپنی اب زیادہ دیر نہیں چلے گی۔جب کوئی وزیر اعظم سیاسی مخالفین کی   نقلیں اتارنا شروع کر دے تو سمجھ جانا چاہئے کہ اس کے پاس 

کہنے کے لئے کوئی سیاسی بات نہیں ہے۔ ان کی اکثر باتوں میں آئین اور قانون کی بجائے انتقام کی بو آتی ہے۔ ٹائیگر فورس کو انہوں نے کہا کہ اب کسی کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔ شائد انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ وزیر اعظم کا نہیں بلکہ سپیکر کا استحقاق ہوتا ہے اور وہ وزیر اعظم کی رائے کا پابند نہیں ہے (اسمبلی رولز، شق 108)۔ ائرکنڈیشنر اتروانے سے لے کر عام قیدیوں والی جیل میں رکھنا اور اس طرح کی بہت سی باتیں ذاتی انتقام اور خواہشات کا مظہر ہیں۔ ناکام حکومت کی وجہ سے اپوزیشن کی سیاسی سپیس بڑھتی جائے گی اور اس کا براہ راست اثر یہ ہوگا کہ اداروں کے لئے حکومت کی بے جا حمائت کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جائے گا اور وہ حکومت کو اس کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ عمران خان حکومت میں قطعاً اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر حالات کا مقابلہ کر سکے۔میاں نواز شریف ایک جہاندیدہ سیاست دان ہیں جنہوں نے پچھلے تین عشروں میں مقتدرہ کی طرف سے اٹھا کر باہر پھینکنے کے باوجود بار بار باؤنس بیک کیا ہے۔ انہوں نے احتجاجی تحریک کے دوران شعلہ بیان تقاریر میں وزیر اعظم کی بجائے مقتدرہ کو ٹارگٹ کیا ہے جس کی وجہ سے مقابلہ اب جمہوریت پسند سیاسی قوتوں اور جمہوری عمل میں بار بار رکاوٹیں ڈالنے والوں کے درمیان ہے اور جس کی وجہ سے وزیر اعظم کسی حد تک غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ اب کسی کو جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا پڑے گا کہ جو بیانیہ پہلے صرف چھوٹے صوبوں میں پروان چڑھ رہا تھا، کیا اسے جی ٹی روڈ پر افورڈ کیا جا سکتا ہے؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو عشروں پر محیط عادتیں ترک کرکے انہیں ایک جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -