بدلا ہوا وزیر اعظم، مگر کیسے؟

بدلا ہوا وزیر اعظم، مگر کیسے؟
بدلا ہوا وزیر اعظم، مگر کیسے؟

  

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کرسی کے ہتھے پر مکا مار کے کہا تھا اپوزیشن انہیں کمزور نہ سمجھے، وہ اس سے نمٹنا جانتے ہیں ……  اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کے وارننگ دی ہے کہ  وہ کسی ڈاکو کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اب ان کے مخالفین ایک بدلا ہوا عمران خان دیکھیں گے جو انہیں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دے گا۔ اللہ خیر کرے گوجرانوالہ کے ایک جلسے نے وزیر اعظم کو تبدیل کر دیا ہے تو آئندہ آنے والے جلسے کیا رنگ دکھائیں گے؟ ہم نے انہی کالموں میں پہلے بھی گزارش کی تھی کہ اپوزیشن کا آپ جتنا زیادہ نوٹس لیں گے، وہ اتنا ہی ابھرتی چلی جائے گی۔ وزیر اعظم کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ وہ مغل بادشاہ نہیں، ایک منتخب  وزیر اعظم ہیں جو آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی دینے سے دل کا غبار تو شاید نکل سکتا، ہو مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ  وزیر اعظم اپنے مخالفین کو اندھا دھند سبق سکھا سکیں۔ ملک میں عدالتیں موجود ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں، ان کی موجوگی میں ایسے نہیں کیا جا سکتا کہ فرد واحد کی زبان سے نکلے ہوئے لفظ قانون بن جائیں۔

میرا آج بھی یہی خیال ہے کہ اپوزیشن بڑی مہارت سے  وزیر اعظم کو ٹریپ کر رہی ہے، وہ انہیں اپنی وکٹ پر لے آئی ہے اور صبح و شام  وزیر اعظم اسی کا ذکر کرنے لگے ہیں۔ اپوزیشن میں چاہے جتنی خامیاں ہوں، وہ رہتی اپوزیشن ہی ہے جس کا کام وقت کے حکمران کو الجھانا اور بے یقینی کا شکار کرنا ہوتا ہے، عمران خان نجانے کیوں اتنے مضطرب ہو گئے ہیں، جلسے ہوتے رہتے ہیں، الزام لگتے رہتے ہیں، مگر حکومت اپنا کام کرتی چلی جاتی ہے۔ اس وقت تو ایسے لگ رہا ہے کہ حکومت نے اپنا بنیادی کام چھوڑ دیا ہے اور اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ یہی تو اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت معمول کے کام نہ کرے اور سیاسی انتشار میں الجھ جائے۔ ایسے مواقع پر حکومت کی سب سے اہم حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو کم کرنے کے لئے جت جاتی ہے، انہیں قدم قدم پر ریلیف دیتی ہے، تاکہ اپوزیشن کے پروپیگنڈے کا توڑ کر سکے۔ یہاں ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی، اُلٹا جو تھوڑے بہت کام چل رہے تھے، انہیں بھی بریکیں لگ گئی ہیں اور ہر طرف اپوزیشن کو بے اثر ثابت کرنے کی جدوجہد ہو رہی ہے۔ حکومت کو مہنگائی کم کرنے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات اٹھانے چاہئیں، کیونکہ یہی وہ ایندھن ہے جو اپوزیشن کی تحریک کو آگ بنا سکتا ہے، کشیدگی اور بڑھے گی اور معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکلتے چلے جائیں گے۔

کاش!  وزیر اعظم اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر ملک میں موجود ان مافیاز کو وارننگ دیتے جنہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور  ضرورت کی ہر شے کو عوام کی دسترس سے دور کر دیا ہے۔ وہ یہ اعلان کرتے کہ آج سے میری مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف جنگ ہے، انہیں کسی قیمت پر عوام کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد وہ اپنے اس اعلان کو عملی جامہ بھی پہناتے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، گوشت، انڈے، دودھ اور ہر بنیادی ضرورت کی چیز کو جنسِ نایاب بنانے والوں کو نشان عبرت بناتے تو ان کے خلاف نہ کوئی تحریک منظم ہو سکتی اور نہ ہی انہیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ ہوتا۔ وہ اصل کی طرف آنے کی بجائے نقل کی طرف چلے گئے۔ بھلا اس قسم کی باتوں سے عوام کو اب کیا غرض ہو سکتی ہے۔؟ یہ باتیں تو پچھلے دو برسوں سے وہ سن رہے ہیں، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، ایک ایک کو پکڑ کے جیلوں میں ڈالوں گا…… نوازشریف اور آصف زرداری کی کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ کسی بھوکے سے پوچھا گیا، چاند کیسا لگ رہا ہے، اس نے کہا روٹی جیسا…… عوام کو اربوں کھربوں کی کرپشن کہانیاں سنا کر دوسری طرف معیشت کو سنبھالا نہ دے کر عوام کے لئے ایسی ہی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے۔ وہ دو وقت کی روٹی مانگتے ہیں، جواب میں، کسی کو این آر او نہیں دوں گا کی آواز لگا دی جاتی ہے۔ اپوزیشن کی ہر بات کو جھٹلانے والے وزراء اب خود بھی اس حقیقت کو نہیں جھٹلا پا رہے کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، مگر اس کا توڑ کرنے کی دور دور تک کوئی سکیم، کوئی کوشش دکھائی نہیں دے رہی۔

اپوزیشن نے بڑی مہارت سے اپنی تحریک کا ایک ایسا مکسچر تیار کیا ہے جو ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک طرف نوازشریف نتائج سے بے پروا ہو کر میدان میں کود پڑے ہیں، دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری ہیں جو یہ اپیلیں کر رہے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت درمیان میں جرنیلوں کو نہ لائے، ان کا ذکر نہ کرے، جبکہ مولانا فضل الرحمن ان دونوں کے درمیان کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسی کے اندر حکومت کی معاشی محاذ پر ناکامی اور نا اہلی کا تڑکا بھی لگایا جاتا ہے تاکہ عوام کو خوش کیا جا سکے۔   نوازشریف کے پاس سوائے اس بیانیہ کے اب کچھ ہے ہی نہیں۔ انہیں وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ انہیں ایک کٹھ پتلی ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں عمران خان کے اختیار میں نہیں،چونکہ نوازشریف کے ساتھ ان کی جماعت کھڑی ہے، اس لئے ان کے بیانیہ کی حمایت کرنے والے بہر طور موجود ہیں، یہی بات ان کی بارگین پاور کو بڑھاتی ہے۔ اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ مجھے اپوزیشن کے لئے ایک بدلا ہوا وزیر اعظم بننا چاہئے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ناکامی ہے، انہیں خود کو عوام کے لئے بدلنا چاہئے، عوام کو اگر احساس ہو گیا کہ وزیر اعظم کی انہیں ریلیف دینے میں بے بسی وہ نہیں رہی وہ جو دو سال بھگت چکے ہیں تو یہ بات وزیر اعظم کے لئے ایک مضبوط ڈھال بن جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -