ضربِ عضب دوم کی ضرورت؟

ضربِ عضب دوم کی ضرورت؟
ضربِ عضب دوم کی ضرورت؟

  

15اکتوبر 2020ء پاکستان کی تاریخ کا ایک تاریک دن تھا۔ اس طرح کے تاریک دن ہم پاکستانیوں کی زندگی میں اکثر آتے رہتے ہیں۔ ہم ان کا نوٹس خواہ لیں یا نہ لیں، ان دنوں کی آمد و شد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سیاہ روز اقوام،سیاہ دن دیکھنے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ ہم نے امید لگائی تھی کہ PTI کی حکومت آئے گی تو شاید کوئی ”تبدیلی“ آ ہی جائے لیکن وائے افسوس، قوم کی شبِ تار،شبِ یلدا کی طرف بڑھ رہی ہے۔

15اکتوبر کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو دو سانحات کا سامنا ہوا۔ ایک شمالی وزیرستان میں اور دوسرا جنوبی بلوچستان میں …… وزیرستان میں ایک بارودی مائن پھٹی اور ہمارے 6آفیسر / جوان شہید ہو گئے۔ ایک 24برس کا جوانِ رعنا، کیپٹن عمر فاروق، دو JCOs اور تین دوسرے لوئر رینکس کے وردی پوش…… آئی ایس پی آر نے جو کچھ کہا، وہی ہمارے میڈیا نے اُگل دیا، میڈیا کو شاید اجازت نہیں کہ وہ ان علاقوں میں جا کر بچشمِ خود حالات کا جائزہ لے اور رپورٹیں وغیرہ مرتب کرے…… اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی یورشی کوریج کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں۔ ہمارے میڈیائی نامہ نگار اپنی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالتے۔ کون ان شورش زدہ علاقوں میں جائے، پہلے پشتو سیکھے، پھر ان علاقوں کے مکینوں سے راہ و رسم پیدا کرے اور اخبار (یا ٹی وی چینل) کو رپورٹ بھیجے یا ان کے لئے کوئی سٹوری فائل کرے؟ دوسری بڑی وجہ ہماری فوج نے اس کی اجازت ہی نہیں دی۔ فوج کا موقف ہے کہ کوئی میڈیائی نمائندہ غیر جانبدارانہ رپورٹ مرتب نہیں کر سکتا۔ سب صحافی وابستہ مفادات کے اسیر ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کی تصویر کشی منع ہے اور یہ بھی سیکیورٹی فوسز کا کیا دھرا ہے۔ آج کل گوگل ارتھ کا زمانہ ہے۔ ایک ایک انچ جگہ کی تصویر لی جا سکتی ہے لیکن نہ تو کوئی میڈیا چینل یہ جسارت کرتا ہے اور نہ کسی اخبار کے مالکان کو یہ ہمت ہوتی ہے کہ وہ خواہ مخواہ سیکیورٹی فورسز سے ٹکر لے اور پھر ”مگروں ٹکور“ کراتا پھرے!

پاکستان کے تین علاقے زیادہ خطرناک اور گرم ہیں اور یہاں آئے روز ہماری فورسز کی اتلافات ہوتی رہتی ہیں۔ شمال میں دیر اور باجوڑ کے علاقے، وسطی مغربی پاکستان میں وزیرستان کا علاقہ اور جنوبی پاکستان میں تربت، ہوشاب اور خضدار کے گرد و پیش کے علاقے…… ان تینوں علاقوں میں انسرجنسی میں انڈیا (RAW)ملوث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں بڑے تسلسل سے ہماری اموات ہو رہی ہیں۔ ہم یہاں ان علاقوں سے دور بیٹھے ہیں۔ بس کسی ٹی وی پر خبر آ جاتی ہے کہ فلاں جگہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے اور فلاں تعداد میں ہمارے جوان اور آفیسر شہید ہو گئے ہیں …… کون  ہے جو ان خبروں کو سنجیدگی سے لیتا ہے؟ یہ تو ان شہدا کے لواحقین سے پوچھ کر دیکھو کہ ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہے۔ میں جب بھی ان حادثوں اور سانحوں کی خبر دیکھتا اور سنتا ہوں تو پہلا خیال جو میرے دل میں آتا ہے وہ ان شہدا کی ماؤں، بیویوں، بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کا آتا ہے۔ میں اپنے آپ کو کبھی ماں کے روپ میں ڈھالتا ہوں، کبھی بیوی کے اور کبھی بہن کے۔ اور لگتا ہے میرا رواں رواں فریاد بہ لب ہے، دل سینے سے باہر آ گیا ہے اور میرے سامنے پڑا تڑپ رہاہے اور میں اسے دیکھ رہا ہوں …… قارئین سے گزارش ہے کہ اسے میری لفاظی نہ سمجھیں، خدا کی قسم! مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ راتوں کو خواب بھی آتے ہیں تو انہی مناظر کے…… خیال کرتا ہوں کہ آرمی کے جو سپوت شہید ہو رہے ہیں، ان کی شہادتوں کا ردعمل کیا ہو رہا ہے؟ کیا ان کی یونٹیں جذبہ ء انتقام سے عاری ہو گئی ہیں؟ کیا وہ اپنے شہیدوں کو Disown کر رہی ہیں؟…… اگر ایسا نہیں تو جن علاقوں میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہاں کے مکینوں کی ’خبر‘ کیوں نہیں لیتیں؟

شمالی وزیرستان میں جس جگہ یہ بارودی سرنگ پھٹی، کیا اس کے آس پاس کوئی آبادی نہیں؟ کیا انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے آپریشنوں (IBOs) کا یہی حشر ہونا چاہیے جو ہو رہا ہے؟ آخر دہشت گردوں اور سرنگیں لگانے والوں کے سہولت کار بھی تو ہوں گے۔ یہ علاقے صدیوں سے اس طرح کے سانحات کے چشم دید گواہ ہیں۔ کیا ان علاقوں کے مکیں اتنے ہی بے خبر ہیں کہ ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون، کس جگہ، کس وقت زمین کھود کر یہ سرنگ لگا گیا ہے؟ کیا ان کو پوچھا نہیں جا سکتا؟ شاید پوچھا جاتا ہو گا اور شاید انکوائریاں بھی ہوتی ہوں گی مگر نتیجہ کیا ہے؟ اب تو یہ علاقے رفتہ رفتہ Settled ایریاز بن رہے ہیں۔

جس روز یہ سانحہ ہوا، اسی روز ARY اسی شمالی وزیرستان میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کو اپنی سکرینوں پر دکھا رہا تھا۔ یعنی ایک طرف آپ وزیرستان کو خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کے شاٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اقدامات دکھا رہے ہیں اور دوسری طرف اپنی فوج کے 6شہیدوں کی لاشیں اکٹھی کرکے ان کے تابوت ان کے ”وطنوں“ میں  بھیج رہے ہیں!

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست

دوسرا سانحہ اسی روز اوڑمارا کے قریب (جنوبی بلوچستان کا ساحلِ بحر) ہوا جس میں رینجرز کے سات جوان اور OGDC کی ٹیم کے محافظوں میں سے سات گارڈز شہید ہو گئے۔ ایک ہی دن 20 افراد کا مارا جانا جن میں ریگولر آرمی، رینجرز اور گارڈز شامل ہوں، ایک نہائت لرزہ خیز حادثہ ہے۔ جہاں شمالی وزیرستان میں ریگولر آرمی کو شہید کرنے والوں میں میرن شاہ۔ دتہ خیل روڈ پر ہارڈ کور دہشت گرد شامل ہیں جن کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور وہ افغان سرحد پار کرکے آتے جاتے رہتے ہیں وہاں اوڑمارا پر حملے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ مری، بگٹی اور مینگل وغیرہ قبائل کے وہ لوگ ہیں جن کی ڈوریں وہاں کے سیاستدان ہلاتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں CPECمواصلات کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ ریگولر آرمی کے ایک ڈویژن سے زیادہ آفیسرز اور جوان CPEC کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ان کے علاوہ رینجرز کے سینکڑوں آل رینکس بھی ہیں۔ اگر اس کے باوجود دن دیہاڑے کوئی چھاپہ مار پارٹی کسی قافلے پر حملہ کرکے 14محافظ مار دیتی ہے تو اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ان چھاپہ ماروں کی ٹریننگ بلوچستان کے اندر ہو رہی ہے یا بلوچستان سے باہر کسی ہمسایہ ملک میں اس کی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں ہیں؟ ان کا سراغ لگانا آسان نہیں۔ بلوچستان کا رقبہ بہت وسیع اور اس کی ٹیرین حد درجہ دشوار گزار اور فریبی (Deceptive)ہے۔ میں خود ان علاقوں میں تین سال تک پھرتا رہا ہوں اور ہماری یونٹ (قلات سکاؤٹس) ہفتے میں دوبار IGFC گشت (25کلومیٹر تک) اور DIGFCگشت (15کلومیٹر تک) اس ٹیرین کو کھنگالتی رہی ہے۔

اگرچہ ہمارا گشتی ایریا قلات سے لس بیلا تک تھا لیکن اس دور میں چونکہ یہی ایک یونٹ اس علاقے میں تھی اس لئے خضدار کو مرکز مان کر اس کے چاروں طرف کے علاقوں میں گشتیں (Patrols) نکالی جاتی تھیں …… لیکن اس کے باوجود جب تک علاقے کے سرداروں کا تعاون حاصل نہ ہو، کسی ٹیکٹیکل کامیابی کا حصول بھی ناممکن تھا۔ اگرچہ یہ بلوچ قبائل سابق فاٹا کے باسی قبائل سے زیادہ جنگجو اور ذہین نہیں لیکن دونوں کا موازنہ کروں تو 60اور 40کا فرق ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔ بلوچ قبائل بھی ان وسیع و عریض اور سنگلاخ علاقوں کو اپنے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانتے پہچانتے تھے۔ آج وہاں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے، آبادیاں بڑھ گئی ہیں لیکن اس بات کو بھی دھیان میں رکھیں کہ اس جنوبی بلوچستان علاقے میں ابھی تک مستقل طور پر کوئی ایک ڈویژن کی نفری بھی صف بند نہیں کی جا سکی۔ اس کی بہت سی انتظامی اور  انصرامی (لوجسٹیکل) وجوہات ہوں گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج سے 50برس پہلے اگر خضدار میں ایک سکاؤٹس یونٹ (900افراد) تھی تو آج وہاں ایک بریگیڈ (3000ٹروپس) ہے۔ اور یہ  فورس خضدار سے گوادر تک کے ایریا کو Coverکرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہے۔

یہ دونوں سانحات وزیرستان اور جنوبی بلوچستان میں 15اکتوبر کو پیش آئے لیکن 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں PDM (پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ) کا جو اجلاس ہوا اس میں نوازشریف صاحب کی تقریر براہِ راست وڈیولنک کے ذریعے لندن سے نشر کی گئی اور عوام کو سنوائی گئی۔ میاں صاحب کی تقریر کو 17اکتوبر کے اخبار DAWN نے یہ کوریج دی: ”مسٹر شریف نے یہ بات دہرائی کہ ان کا یہ مصمم ارادہ ہے کہ وہ اس سسٹم کو تبدیل کرکے رہیں گے کہ جو پردے کے پیچھے سے آپریٹ کرتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت، فوج (Establishment) نے ختم کی۔ بعدازاں دھاندلی کے ذریعے الیکشن کروائے گئے اور نااہل ”خان“ کو قوم پر مسلط کر دیا گیا“۔

میں ان کی تقریر پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ صرف یہ ضرور کہوں گا کہ جس فوج کے 14جوان اور آفیسرز ایک ہی روز شہید ہو گئے ہوں کیا وہ اپنے اوپر یہ الزام لگانے والوں کو معاف کرے گی؟…… آنے والے ایام میں پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کے ساتھ ہے!…… کیا فوج کو ایک اور ’ضرب عضب‘ کی ضرورت نہیں؟ اور کیا یہ ’ضرب عضب دوم‘ شمالی وزیرستان اور جنوبی بلوچستان پر مرکوز ہوگا یا اس کے ڈانڈے ’ملک گیر‘ ہوں گے؟

مزید :

رائے -کالم -