"اپوزیشن ”کے مقابلے میں ”اپوزیشن"

"اپوزیشن ”کے مقابلے میں ”اپوزیشن"

  

بچپن سے مختلف محاورے سنتے آ رہے ہیں، دنیا گول ہے، دنیا بہت چھوٹی ہے، کرما ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، دوسروں کے لئے گڑھا کھودنے والا خود ہی اس میں گر جاتا ہے، کھسیانی بلی کھمبا نوچے،وغیرہ وغیرہ۔یہ تو معلوم نہیں کہ یہ محاورے کس نے، کب، کیسے اور کیوں ایجاد کئے لیکن یہ سارے محاورے ہمارے سیاستدانوں اور آج کل کے سیاسی حالات کی بہترین عکاسی کرتے نظر آ رہے ہیں، بلی چوہے کا جو کھیل ہمارے تمام اہل سیاست کھیل رہے ہیں وہ بہت ہی دلچسپ ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوا، کامیاب تھا یا ناکام، یہ موضوع زیر بحث ہے اور نہ ہی اس سے مجھے کوئی غرض۔ پوری اپوزیشن اس وقت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی بھی ہو گئی ہے، جلسے بھی مل کر کر رہی ہے اور تقریریں بھی۔میاں محمد نواز شریف نے دل کے تمام پھپھولے پھوڑے، لندن میں بیٹھنے کا فائدہ اٹھایا اور بہت کچھ کہہ گئے بلکہ لگتا ہے سب کچھ ہی کہہ گئے۔ کیوں کہہ گئے یہ وہ ہی جانتے ہیں۔مریم نواز اور بلال بھٹو زرداری کی تقاریر بھی بھرپور تھیں اور دیگر رہنما بھی کسی سے کم نہ تھے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست کے تمام کھلاڑیوں میں جوش خطابت کمال کاہے، ایسی ایسی باتیں اور دعوے کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور دماغ بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ سب ”اہل دانش“ اپنے اپنے دور میں ان تمام مسائل کا حل کیوں نہیں ڈھونڈ پائے۔اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والے، دل میں عوام کا درد رکھنے والے، حساس سیاستدان اقتدار میں تھے  پھر بھی ملک ترقی پذیربلکہ پسماندہ ہی رہا، ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونے کا خواب بس خواب ہی کیوں ہے؟ آج بھی سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بہت سے لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جاگیردارانہ نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، روز بروز غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں، بیروزگاری عام ہے،  اقتصادی صورتحال دگر گوں ہے۔

خیر اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے، حکومت پر تنقید کرنا، اس کو نااہل کا خطاب دینا،اس کی قابلیت پر شک کرنا، یہی توروایت ہے۔ اقتدار سے باہر رہنے والی ہر جماعت کو لگتا ہے کہ وہ اگر برسر اقتدار ہوتی تو ملک کا نقشہ ہی بدل دیتی۔ جیسا کہ یہ گمان پاکستان تحریک انصاف والوں کو بھی تھا،ان کا خیال تھا وہ سال تو کیا مہینوں ہی میں ملک کا نقشہ بدل دیں گے، نیا پاکستان بن جائے گا، نقشہ تو وہ بدل ہی رہے ہیں لیکن کس رخ پر، اس پر پر اب کیاتبصرہ کیا جائے۔ بہر حال اپوزیشن کا تو کام ہی باتیں بناتے رہنا ہے اور اس پر سجتا بھی ہے لیکن یہ ہماری حکمران جماعت اس شوق میں کیوں مبتلا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وزرا کرام اور بذات خود وزیر اعظم صاحب کیوں ان سب تقاریر کا جواب دینے میں دن رات مصروف ہیں، جیسے پاؤں پر لگی سر پر بجھی۔ وزیراعظم صاحب تو چلو پہلی بار وزیر اعظم بنے ہیں جذبات کی رو میں بہہ کر بہت سی باتیں کر جاتے ہیں،اب آخر وہ مسلسل کئی برس حزب اختلاف کا حصہ رہے ہیں تو ابھی تک وہ اس سے باہر نہیں آ پارہے، مگر یہ جو ان کے ساتھ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے ہیں، سیاست کی اونچ نیچ سے بخوبی واقف ہیں، وہ بھی دو دن سے مسلسل کبھی پریس کانفرنس کرہے ہیں، کبھی ٹویٹ کے ذریعے جھنجلاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں، کبھی ٹی وی پروگرام میں پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ ویسے تو تحریک انصاف کے تمام رہنما ہی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن بعض تو ایسے ہیں جن کی باتیں سن کر تو مجھے یقین آ جاتا ہے کہ ان سے بڑا دانشمند کوئی نہیں ہے، ایسی ایسی توجیہہ پیش کرتے ہیں ہر بات کی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے،ایک صاحب تو صوبے سے وفاق تک کا سفر طے کر چکے ہیں، ترجمانی کا فرض صدق دل سے نبھا رہے ہیں اور دوسرے صاحب دوبارہ وزارت کے عہدے پر فائز ہو ئے ہیں، یقیناً ان دونوں حضرات کی پیٹھ تھپتھپانی تو بنتی ہے۔

بہرحال اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ جلسے جلوسوں، تقریروں، الزام تراشیوں، سیاسی بیان بازیوں، شکوہ جواب شکوہ سے کام نہیں چلنا، یہ سب دل بہلانے کا سبب تو ہو سکتے ہیں مسئلے کا حل ہر گز نہیں ہیں۔ 

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپوزیشن ہے ہی، حکومت حزب اختلاف کا کام ہی کر رہی ہے، حالانکہ یہ شوق تو وہ گزشتہ دور حکومت میں پورا کر چکی ہے۔ یہ سب خواتین و حضرات دھرنے اور احتجاج کے عمل سے گزر چکے ہیں،یہ اتنی پرانی بات بھی نہیں ہے کہ ان کے دل و دماغ سے حذف ہو گئی ہو۔ان کو تو معلوم ہے کہ ان کے مہینوں پر محیط دھرنے بھی کچھ خاص کام نہیں آئے تھے یا پھر ان کی جھنجھلاہٹ اس لئے ہے کہ ان کو لگتا ہے کہ اس کے اثرات بعد میں مرتب ضرور ہوجاتے ہیں۔ ہماری کیا بلکہ عوام کی خواہش تو یہ ہے کہ اہل اقتدار بیان بازی کا شغل چھوڑ یں اور کرنے والے کام کریں۔ملک میں آٹے کا بحران ہر تھوڑی عرصے بعد سر اٹھا لیتا ہے،پھر چینی بھی آٹے کی ساتھی بن جاتی ہے،جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس سے کہیں زیادہ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے،گھر سے نکلنا مشکل ہے، سڑک پر پھرنا محال ہے۔حکومت والے اپنے کام میں دل لگائے باقی دل لگی کا کام اپوزیشن کے لئے چھوڑ دیں، جس کا کام اس کو ساجھے۔یقین مانیں ٹائیگر فورس ہر مسئلے کا حل نہیں نکال سکتی، کچھ ہاتھ پاؤں حکومتی اہلکاروں کو بھی ہلانے پڑیں گے، نئے پاکستان کے بعد مزید نئے پن پاکستان کی گنجائش نکلنا کافی مشکل ہے۔

مزید :

رائے -کالم -