برطانیہ میں لاک ڈائون کے دوران شہری نفسیاتی امراض کا شکار ہونے لگے

برطانیہ میں لاک ڈائون کے دوران شہری نفسیاتی امراض کا شکار ہونے لگے
برطانیہ میں لاک ڈائون کے دوران شہری نفسیاتی امراض کا شکار ہونے لگے

  

لندن(مجتبیٰ علی شاہ ) کورونا لاک ڈائون کے دوران پاکستانی اور دیگر نسلی اقلیتوں کے بعض افراد کی ذہنی صحت پر زبردست منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور وہ مختلف قسم کے نفسیاتی امراض  کا شکار بن رہے ہیں۔ گلاسگو یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق جنوبی ایشیاء کے افراد پر کورونا لاک ڈائون کے دوران ذہنی دبائو میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ سفید فام افراد میں یہ شرح صرف 6.5 فیصد ہے۔

ممتاز پاکستانی  برطانوی ڈاکٹر سید انجم گردیزی  نے ڈیلی پاکستان کو بتایا  کہ کورونا وائرس کے درمیان معاشرے کے سبھی گروپس میں سٹریس بڑھی ہے لیکن ایشیائیوں اور چند دیگر نسلی اقلیتوں میں اس کی شرح خاصی زیادہ ہے۔ یہ افراد کورونا وائرس کا زیادہ نشانہ بنے ہیں اور اس وجہ سے وائرس اوراپنی صحت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں، یہ لوگ چونکہ خاندانی اقدار پر زیادہ زور دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ رابطوں میں رہتے ہیں ان کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھتے ہیں، یہی طرز عمل ان کا دوستوں کے بارے میں بھی ہوتا ہے، چنانچہ یہ اس طرح کے معاملات کا بہت زیادہ اثر قبول کرتے ہیں۔ سماجی طور پر بھی یہ اپنے خاندان اور دوستوں سے زیادہ ملاقاتیں کرتے ہیں، جب کہ کورونا کی پابندیوں کے باعث ان کو گھروں میں بند رہنا پڑا، مالی طور پر بھی ان کے حالات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -