اپوزیشن کے جلسے اور حکومتی جواب

اپوزیشن کے جلسے اور حکومتی جواب
اپوزیشن کے جلسے اور حکومتی جواب

  

حالیہ دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ گوجرانوالہ میں پیپلز پارٹی، نون لیگ اور جے یو آئی کا مشترکہ جلسہ ہوا جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ فوج پر بھی تنقید کی گئی۔ نواز شریف صاحب کی جانب سے حاضر سروس جرنیلوں پر تنقید کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ اگر بالفرض ان کی بات صداقت پر مبنی بھی ہو تب بھی میڈیا اور عوامی اجتماع میں ایسی باتیں کہنا براہ راست دشمن ممالک کو خوش کرنا ہے اور اس میں پاکستان کی کوئی بھلائی نہیں ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ کیسا تھا، لوگ کتنے تھے، ان سوالوں کے جواب اتنے اہم نہیں ہیں جتنا ان کے خطابات میں کہی گئی باتیں اہم ہیں۔ چنانچہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے بھی نواز شریف کی تقریر کا جواب دیا۔ ان کے جواب دینے سے ایک بات یہ ثابت ہوئی کہ وہ نوازشریف کو کتنا اہم سمجھتے ہیں، اگر ان کی نظر میں نواز شریف کی اہمیت نہ ہوتی تو وہ تقریر کو نظرانداز کر سکتے تھے یا اپنے کسی وزیر کو جواب دینے کا کہہ سکتے تھے۔ دوسری بات ان کے جواب دینے کا لہجہ تھا، جس سے ان کی بے بسی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب اگر نواز شریف صاحب پاکستان آئیں گے تو انہیں کوئی رعایت نہیں ملے گی، یعنی وہ گویا خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم نے ایک مجرم کو رعایت دی تھی اور یہ بھی کہ وہ اس کے سامنے اتنے بے بس ہیں کہ انٹرپول کے ذریعے بھی انہیں واپس نہیں لا سکتے، جب ان کا خود پاکستان آنے کا دل کرے گا تب آئیں گے۔

کچھ دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھا ہونے سے عمران خان صاحب کی قوت اور طاقت ثابت ہو رہی ہے۔ حالانکہ جو سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے وہ ویسے بھی طاقتور ہوتی ہے اور جب کسی حکومتی جماعت کے خلاف کوئی تحریک چلائی جاتی ہے تو وہ مخالف سیاسی جماعتیں مشترک طور پر چلاتی ہیں، ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کے سپورٹر کہتے ہیں کہ نواز شریف کو عدالت نے جانے دیا تھا، حکومت عدالت کے سامنے بے بس ہے۔ وہ بھی بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ اصل میں حکومت صرف عدالت کے سامنے نہیں بلکہ مافیا کے سامنے بھی بے بس ہے، کسی شعبے میں اصلاحات کرنی ہوں تب بھی حکومت بے بس ہے، کوئی نیا اور بہتر قانون لانا ہو تب بھی حکومت بے بس ہے، کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں، حکومت آئی ایم ایف کے سامنے بھی بے بس ہے، قرضے لینے کے لئے اس کی بھی ساری شرائط اسے ماننی پڑتی ہیں، حکومت کا اگر بس چلتا ہے تو صرف بیچاری عوام پر، کہ انہیں نوکریوں کے جھوٹے خواب دکھاو، ہر روز قیمتیں بڑھا دو، نئے ٹیکس لگاتے جاو، تنخواہیں اور پنشنیں نہ بڑھاو، اور جب عوام کی چیخیں نکلیں انہیں یہ لوری دے کر سلا دو کہ ہم نے چوروں کو پکڑا ہے، ہم معیشت ٹھیک کر رہے ہیں۔

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -