ماجھے کا علاقہ اور ہمارے گاؤں 

ماجھے کا علاقہ اور ہمارے گاؤں 
ماجھے کا علاقہ اور ہمارے گاؤں 

  

ماجھے کا لغوی معنیٰ ہے مرکزی۔ پنجاب کا مرکزی علاقہ جو جہلم سے دریائے بیاس تک کے علاقے پر مشتمل ہے ماجھا کہلاتا ہے۔ اس میں شامل دریائے بیاس اور راوی کا بہت بڑا حصہ، جسے باری دواب کہتے ہیں، راوی اور چناب کے درمیان کا تمام حصہ جسے رچنا دواب کہتے ہیں اور چناب اور جہلم کا درمیانی کچھ حصہ جسے جچ دواب کہتے ہیں، شامل ہیں۔دواب اصل میں دو آب مطلب دو پانی سے بنا ہے جس کا مفہوم ہے کہ دو پانیوں یا دو دریاؤں کے درمیان کی زمین۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت یہ علاقہ بھی دو حصوں میں بٹ گیا۔ بھارت کے حصے میں ماجھے کے اضلاع ترن تارن، گورداسپور، پٹھانکوٹ اور امرتسر اور پاکستان کے حصے میں سیالکوٹ، شیخوپورہ، نارووال، حافظ آباد، گجرات، فیصل آباد، ساہیوال، گوجرانوالا، قصور اور لاہور آئے۔ بر صغیر میں انگریز آئے تو انہوں نے برصغیر کے ہر حصے کے بارے میں  ایک دلچسپ تفصیل شائع کی۔ اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا انداز حکمرانی اس قدر مستحکم کیوں اور کیسے تھا۔

1890 کی جی سی واکر کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی اس وقت چار تحصیلیں تھیں، لاہور، قصور، چونیاں اور شرقپور۔زرعی آمدن کے لحاظ سے لاہور پہلے نمبر پر، قصور دوسرے اور چونیاں تیسرے نمبر پر تھا۔ شرقپور کا علاقہ جو آج انتہائی زرخیر جانا جاتا ہے، سوائے دریائی زمین کے،پانی کی کمیابی کی وجہ سے زیادہ تر بنجر زمینوں پر مشتمل تھا اور اس کی زرعی آمدن بہت معمولی تھی۔ آمدن اکٹھی کرنے میں نمبردار، ذیلدار، پٹواری اور دیگر افسروں کی حیثیت اور کردارکیا تھا اور بہت سی باتیں درج ہیں۔ اس رپورٹ  میں دی گئی باتوں کے بارے تفصیل سے اگر لکھا جائے تو شاید کئی کتابوں پر وہ تفصیل درج ہو۔  اس رپورٹ میں لاہوراور دیگر تحصیلوں کی آبادی، ان کے مکین، مکینوں کی عادتیں۔ ان کی ذات پات، ہر ذات کے لوگوں کے اجتماعی اور ذاتی کردار،صحت، تعلیم، سماجی مقام، چال چلن، جرائم کے حوالے سے ہر ذات کا طرز عمل اور اتنا کچھ اس قدر تفصیل سے درج ہے کہ آدمی اس وقت کی تمام آبادی کے بارے مکمل جان جاتا ہے۔آج کے میرے جیسے شہر کے مکینوں کوگاؤں کے اجتماعی کلچر سے واقفیت کے لئے ایسی رپورٹوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے 

جی سی واکر کی رپورٹ کے مطابق جب حکومت برطانیہ نے پنجاب کا نظم ونسق سنبھالاتو ٹرانسپورٹ کے ذرائع محدود ہونے کے سبب اس وقت گاؤں ایک مکمل ادارہ ہوتا تھا جو اپنے معاملات میں بہت حد تک خود کفیل ہوتا تھا۔گاؤں کی زمینیں کسی ایک یا دو برادری کے لوگوں کی ملکیت ہوتی تھیں۔ملکیت کے حساب سے ماجھے کے علاقے میں سب سے زیادہ زمین کے مالک جٹ تھے، دوسرے نمبر پر ارائیں، تیسرے نمبر پرراجپوت۔ اس علاقے میں آباد راجپوت زیادہ تر مسلمان ہیں مگر ان کی تعداد بڑھنے کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی تمام چھوٹی ذات کے مسلمانوں نے خود کو راجپوت کہلوانا شروع کر دیا ہے حالانکہ ان کا راجپوتوں سے بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اس کے بعد کھوکھر برادری تھی جو پہلے خود کو راجپوت کہتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اپنی علیحدہ پہچان بنا لی۔مگر چونیاں کے کھوکھر خود کو جٹ بتاتے تھے۔ستلج دریا کے ساتھ جو نچلی سطح کی زمین جسے حطار کہتے ہیں وہاں ڈوگربرادری کے ستر کے قریب گاؤں تھے جو سارے مسلمان تھے۔یہ لوگ اچھے کاشتکار نہ ہونےء کے سبب غربت میں زندگی گزارتے تھے۔کمبوہ برادری کے ستلج کے حطار میں بائیس مکمل ملکیتی گاؤں تھے، جن میں تیرہ ہندو اور نو مسلمانوں کے تھے۔ مسلمان کمبوہ کل چھبیس فیصد ہیں اور ان کی عادات ارائیوں سے ملتی جلتی ہیں، شاید ان ہی سے علیحدہ ہوئی کوئی ذات ہے۔

شرقپور کے علاقے میں کھرل برادری بھی آباد ہے۔ یہ خود کو راجپوتوں سے موسوم کرتے اور گھیتی باڑی کرتے ہیں۔ محنتی نہیں اس لئے غریب ہیں۔ جھگڑالو اور جرائم پیشہ ہیں مویشی چوروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔مہتم ذات کے لوگوں کے سات گاؤں ہیں زیادہ ہندو ہیں اور شکاری اور جرائم پیشہ لوگ ہیں۔لبانا ذات کے لوگ زیادہ تر سکھ ہیں اور راوی کے دونوں کناروں پر لاہور اور شرقپور میں آباد ہیں۔اس کے علاوہ شیخ، قریشی، مغل اور کھوجے بھی مخصوص تعداد میں موجود ہیں۔کھوجے عربی میں خواجہ اور ہندوؤں میں کھتری کہلاتے ہیں اور یہ لوگ،لوگوں کے ساتھ پیسے کا لین دین کرتے ہیں۔یہ نوے فیصد ہندو، سات فیصد مسلمان اور صرف تین فیصد سکھ ہیں۔یہ وہ برادریاں ہیں جن کی ملکیتی زمینیں لاہور اور اس کے گرد و نواح میں تھیں۔ان کے علاوہ گاؤں کانظام چلانے میں بہت سی چھوٹی برادریاں بھی شریک کار تھیں۔ایک بڑی تعداد محنت کش اور چھوٹی ذات کے چوہڑوں کی تھی جو لاہور میں بارہ فیصد سے زیادہ تھے۔ یہ نوے فیصد ہندو، سات فیصد مسلمان اور تین فیصد سکھ تھے مگر ہر گاؤں میں چاہے وہ کسی ذات کے لوگوں کا ہو، موجود تھے۔ ان میں چند لوگ صفائی کا کام کرتے مگر زیادہ تر کھیت مزدور تھے۔ہر مسلمان گاؤں میں موچی اور ہندو گاؤں میں چمار موجود تھا جو چمڑے کا ہر طرح کا کام کرتا۔

جولاہے کا وجود ہر گاؤں میں لوگوں کو کپڑے فراہم کرنے کی ضمانت تھا۔ماچھی یا بہشتی کا کام گاؤں میں جہاں ضرورت ہو وہاں پانی مہیا کرنا تھا۔ وہ گھروں اور چوپال میں حسب ضرورت پانی فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا۔ اس کی بیوی بھٹیارن دوپہر کے بعد ایک بڑی کڑاہی میں مکئی اور دیگر چیزیں بھون کر دیتی جو لوگوں کی شام کی عمومی خوراک تھی۔ بھٹیارن گاؤں میں ضرورت کے وقت دایہ کا کام بھی کرتی۔اس وقت لوہار اور سنیارے کا کام گاؤں میں ایک ہی شخص سر انجام دیتاوہ کھیتی باڑی کے آلات، گھروں کے لوہے کے برتن اور زیورات سمیت ہر چیز بناتا۔ترکھان کا کام لکڑی کی چیزیں دیہات کے لوگوں کو مہیا کرنا تھا۔کمہار کا کام مٹی کے برتن بنانا اور اپنے گدھوں کی مدد سے گاؤں میں بار برداری کا کام کرنا تھا۔گاؤں کی ضروریات کے لئے تیل کی فراہمی تیلی کی ذمہ داری تھی۔ نائی لوگوں کی حجامت اور مساج کرنے کے علاوہ شادی بیاہ پر خاندان کی مدد اور کھانے پکانے کا کام کرتا۔ چھینبا دھوبی اور درزی کا کام کرتا اور مراثی شادی بیاہ  اور دیگر تقریبات کے موقع پر گانے بجانے اور عام حالات میں پیغام رسانی کا کام کرتا۔یوں اس وقت کا گاؤں ایک مربوط نظام کے تحت ایک مکمل خود کفیل یونٹ تھا۔

مزید :

رائے -کالم -