بارش اور سیلاب ست متعدد شہروں میں تباہی ، مختلف واقعات میں10 افرادجاں بحق

بارش اور سیلاب ست متعدد شہروں میں تباہی ، مختلف واقعات میں10 افرادجاں بحق

نصیر آباد /مظفر آباد /جیکب آباد /راجن پور /لاہور (این این آئی) آزاد کشمیر سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں منگل کو بھی بارش اور برف کا سلسلہ جاری رہا ¾ باغ میں مکان کی چھت گرنے کے واقعات میں تین بچوں سمیت 10افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ¾ شہروں میں کئی کئی فٹ برساتی پانی جمع ہوگیا ¾ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ وادی نیلم اور ایبٹ آباد روڈ ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ¾ بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بعض اضلاع میں آنیوالے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ، متاثرین کھلے آسمان تلے اور اونچے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں ¾بعض علاقوں میں بیماریاں اور تعفن پھیلنا شروع ہوگیا ہے ¾ڈینگی کی افزائش میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا تفصیلات کے مطابق مظفر آباد کے ضلع باغ میں مکان کی چھت گر نے سے 3 بچے جاں بحق ہوگئے تاہم بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مختلف علاقوں میں سڑکیں بند ہوگئی ہیںادھر دیامر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی اور لینڈ سلائنڈنگ سے چلاس اور دیامر کے درمیان شاہراہ قراقرم بند ہوگئی ہے جبکہ بابو سر ٹاپ اور ملحقہ پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ بھی جاری رہا ادھر بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بعض اضلاع میں آنیوالے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا لوگوں پر بھوک، پیاس اور بیماری کے حملے جاری ہیں۔ نصیر آباد کے گوٹھ حمید میر حسن، منجو شوری، قبا شیر خان میں اب بھی امدادی کام شروع نہیں کیا گیانکاسی آب نہ ہونے سے لوگ غذائی قلت کا شکارہوگئے اور آلودہ پانی کے استعمال سے متاثرین کو بیماریوں نے آگھیرا ہے۔ادھر نصیرآباد میں ربی کینال میں مزید پانچ لاشیں بہہ گئیں ۔ کوہ سلیمان کے برساتی ریلوں سے تباہ ہونے والا روجھان بھی قاتل پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس یہاں سات سالہ بچہ پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ بارشوں اور سیلاب سے سیکڑوں آشیانے گرے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے جنہیں دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے اب سائبان بھی میسر نہیں ہے۔ ڈیرہ الہ یار میں محفوظ رہ جانے والی کالونیوں کو بھی پانی نے اب اپنی لپیٹ میں لے لیا گزشتہ روز کوہ سلیمان کے پہاڑوں پر ہونیوالی بارش اور ٹوٹے بندوں کی مرمت نہ ہونے سے آنے والے سیلابی ریلے سے راجن پور کی مزید بستیاں زیر آب آگئی ہیں اور کوٹلا عیسن کے قریب انڈس ہائی وے ڈوب گئی ہے۔ جیکب آباد بائی پاس روڈ پر لگائے گئے مزید 2 کٹ کام نہیں آسکے اور پانی قومی شاہراہ پر جمع ہوگیا جس سے متعدد رابطہ سڑکیں بندہوگئی ۔ لاہور میں کئی روز سے جاری بارشوں کے باعث جگہ جگہ پانی کھڑا ہوجانے کی وجہ سے ڈینگی کی افزائش میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ۔ ضلعی حکام کے مطابق سپرے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں تاہم ابھی تک اِس سے گریز کیا جارہا تھا کیوں کہ سپرے کے باعث ایسے حشرات الارض بھی مر جاتے ہیں جو ڈینگی لارو ے کو کھا جاتے ہیں ۔حکام کے مطابق موجودہ صورت حال میں متعدد علاقوں میں سپرے شروع کرنا ناگزیر ہوگیا کیوں کہ جگہ جگہ کھڑے بارشوں کے پانی کے باعث ڈینگی کو افزائش کے لیے مناسب ماحول مل گیا ہے۔ دریں اثناءراجن پورکے کئی علاقے سیلاب سے بری طرح متاثرہوئے ہیں ¾ سیلاب نے بستی اتیرا واحد بخش کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ بارش کے پانی سے سیکڑوں ایکڑفصلیں زیرآب آچکی ہیں۔ علاقے کو جانے والا زمینی راستہ تاحال منقطع ہوگیا ۔ گندا پانی پینے سے اکثربچے ڈائریا میں مبتلا ہورہے ہیں۔ شاہ جمال کے نواحی علاقہ سندیلہ میں سیم نہر کا بند ٹوٹنے سے پانی لوگوں کے گھروں اور فصلوں میں داخل ہوگیاجس سے کئی گھروں کی چھتیں اوردیواریں گرگئیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...