پاک امریکہ سڑ ٹیجک ڈائلاگ جلد شروع ہونے کا امکان نہیں:سفارتی ذرائع

پاک امریکہ سڑ ٹیجک ڈائلاگ جلد شروع ہونے کا امکان نہیں:سفارتی ذرائع

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) اگرچہ اب حالات پہلے کی نسبت بہتر ہیں اور کافی حد تک سازگار ہیں لیکن فی الحال امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوری طور پر”سٹرٹیجک ڈائیلاگ“ شروع ہونے کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر آج منگل کے روز واشنگٹن پہنچ گئی ہیں۔ جو تعلقات معمول پر آنے کے بعد ان کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے وہ بدھ سے ہفتے تک امریکی لیڈروں کے ساتھ مختلف دو طرفہ معاملات پر بات چیت کر کے 23ستمبر بروز اتوار نیو یارک روانہ ہو جائیں گی جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ سلالہ کے واقعہ کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ریکارڈ نچلی سطح پر چلے گئے تھے جس دوران پاکستان نے احتجاجاً نیٹو سپلائی بند کر دی تھی۔ گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں پر محیط جامع سٹرٹیجک ڈائیلاگ ہوا تھا اور شیڈول کے مطابق ایک سال بعد تقریباً اسی ماہ میں یہ ڈائیلاگ دوبارہ ہونا تھا۔ یہ ڈائیلاگ شارٹ نوٹس پر نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ شروع کرنے سے پہلے تعلیم، صحت، معیشت اور سکیورٹی سمیت تمام موضوعات کے حوالے سے کئی ماہ تک محیط ہوم ورک کرنا پڑتا ہے۔ نیٹو سپلائی بحال ہو گئی اور تعلقات بھی معمول پر آنا شروع ہو گئے لیکن اس کی رفتار اتنی سست تھی کہ ابھی تک سٹرٹیجک ڈائیلاگ کیلئے ضروری تیاریوں کا آغاز نہیں ہو سکا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق ابھی تک مستقبل قریب میں اس ڈائیلاگ کے شروع ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس کے لئے ضروری ہوم ورک کرنے کا بھی تذکرہ سننے میں نہیں آیا۔ اگرچہ پاکستانی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے لئے نہیں ہے تاہم وہ یہاں ایک بھرپور سنجیدہ ایجنڈے کے ساتھ چار روز امریکی لیڈروں کے ساتھ بات چیت میں مصروف رہیں گی۔ یقیناً ان کے اس دورے سے باہمی تعلقات میں زیادہ اعتماد پیدا ہو گا اور باہمی افہام و تفہیم میں بہتری آئے گی۔ پاکستانی وزیر خارجہ کی واشنگئٹن میں سرکاری مصروفیات کا آغاز بدھ کی صبح یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر بھارتی نژاد امریکی راجیو شاہ سے ملاقات سے ہو گا۔ وزیر خاجہ واشنٹن کے ولرڈ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں قیام پذیر ہیں جہاں یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر ان سے صبح ساڑھے دس بجے ملنے آئیں گے اور آدھ گھنٹے کی بریفنگ میں انہیں پاکستان کے مختلف شعبوں کے لئے امریکی امداد کی تفصیل اور اس کے استعمال کی رفتار کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ اس سے فارغ ہو کر سینٹ کی انٹیلی جنس کے بارے میں سلیکیٹ کمیٹی کے ارکان سے ملنے کیپٹل ہل جائیں گی۔ یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہے گی۔ بدھ کی آخری سرگرمی ایک عشائیہ ہے جس کا اہتمام پاکستانی سفیر شیری رحمان نے ان کے اعزاز میں واشنگٹن میں اپنی رہائش گاہ پر کیا ہے جس میں چیدہ چیدہ امریکی لیڈر اور پاکستانی کمیونٹی کے ارکان کی شرکت کی توقع ہے۔ جمعرات کی صبح وہ دوبارہ کیپٹل ہل جائیں گی جہاں وہ سینیٹر جان کیری سمیت سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے ارکان سے ایک گھنٹہ ملاقات کریں گی۔ دوپہر کے بعد وہ امریکی تجارتی مندوب ران کرک سے ان کے دفتر ملنے جائیں گی سہ پہر پانچ بجے ان کی کیپٹل ہل میں ایوان نمائندگان کی اقلیتی لیڈر نینسی پلوسی اور ایک کمیٹی کی رکن نیٹا لووے سے ایک گھنٹے کی ملاقات ہو گی۔ جمعہ کو اپنی سرکاری مصروفیات کے آخری روز قبل از دوپہر وہ ”کونسل اون فارن ریلیشنز“ کے دفتر میں جا کر ایک گھنٹے کا خطاب کریں گی۔ بعد دوپہر ایک بجے کے قریب سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بڈنگ میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ان کے دفتر میں اپنی ”حاصل دورہ“ ملاقات کریں گی۔ دو گھنٹے کے ان اہم مذاکرات میں امریکہ اور پاکستان کے خارجہ امور کی سربراہ دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گی اور باہمی گلے شکوں کے بعد ان تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات پر غور کریں گی۔وزیر خارجہ حنا ربانی کھر رات پاکستانی سفارت خانے میں پاکستانی میڈیا کے ساتھ کانفرنس کریں گی جس کے بعد وہیں پر میڈیا کے ارکان کے ساتھ عشائیے میں شرکت کریں گی۔ہفتے کے روز ان کی کوئی سرکاری سرگرمی نہیں ہے۔ تاہم شام کو واشنگٹن کے ”نیشنل میوزیم آف امریکن انڈین‘ذ جائیں گی جہاں وہ صوفی ازم پر فیسٹیول میں پاکستانی گلوکارہ صنم ماروی کی پرفارمنس دیکھیں گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...