کیا اس مرتبہ وزیر اعظم کی بجائے وزیر قانون ”قربان“ ہونگے؟

کیا اس مرتبہ وزیر اعظم کی بجائے وزیر قانون ”قربان“ ہونگے؟

تجزیہ : جاوید اقبال

سپریم کورٹ میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر اگرچہ وزیر اعظم کو 25ستمبر تک پیشی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے مگر یہ خوشی عارضی ثابت ہو گی اب ان کی وزارت عظمیٰ کی اسی طوطے میں بند ہو گئی ہے جس کا نام وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ہے ۔ اس دفعہ اس کیس میں وہ تپش نظر نہیں آ رہی جو سید یوسف رضا گیلانی کے وقت تھی لگ یہ رہا ہے کہیں سب کچھ طے شدہ حکمت عملی کا حصہہے ، اپوزیشن جماعتوں کے جذبات بھی ”ٹھنڈے ٹھار“ ہیں کہیں اس پر اتفاق تو نہیں ہو چکا کہ راجہ پرویز اشرف ہی بطور وزیر اعظم نگران سیٹ اپ کا اعلان کریں گے، ”راجہ جی“ کی باری پر سب کچھ بدلا بدلا نظر آ رہا ہے مگر تصویر دھندلی بھی ہے اور گہری بھی ۔اس کیس کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ایک موقع پر سید یوسف رضا گیلانی کو بھی سپریم کورٹ حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا اور ایک دم سے تیزی آئی حالات بدلے اور وزیر اعظم کو دوبارہ حاضری کا نوٹس جاری کیا گیا توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی گئی مگر اس مرتبہ حالات مختلف لگ ر ہے ہیں۔ خط نہ لکھا گیا تو وزیر اعظم کی بجائے ”پھندا“ وزیر قانون کے گلے میں فٹ ہو گا دوسری طرف فاروق ایچ نائیک پر خط لکھنے کی ذمہ داری فکس کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر قانون وہ طوطا بن گئے ہیں جس کے اندر وزیر اعظم کی جان قید ہو گئی ہے، اس سے سوال جنم لیتا ہے کیا وزیر اعظم اب فاروق ایچ نائیک کے رحم و کرم پر ہونگے؟ حکومت کو چار نکات دے کر اس تاثر کو بھی زائل کر دیا ہے جو پیپلزپارٹی کے حلقے دے رہے تھے کہ عدالتیں انٹی پیپلزپارٹی ہیں جو بھی ہو حکومت کو خط نہ لکھا تو اس مرتبہ وزیر اعظم کی بجائے وزیر قانون ”قربان“ ہونے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...