تحریک انصاف میں نئے “اور ”پرانے“ کے نام پت جنگ شروع ،ایک دوسرے کو دشمن قرار دینے لگے

تحریک انصاف میں نئے “اور ”پرانے“ کے نام پت جنگ شروع ،ایک دوسرے کو دشمن قرار ...

لاہور(جاوید اقبال) پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے جب تمام جماعتیں آئندہ انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں ایسے میں تنظیم سازی کے عمل نے پارٹی کو گروہ بندیوں اور گروپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یونین کونسلوں سے لے کر صوبائی حلقوں تک اور تحصیلوں سے ضلعی ہیڈ کوارٹر تک اور ڈویژن سے صوبے کی سطح تک پارٹی تقسیم کے عمل سے دوچار ہے اور اسی صورتحال میں پارٹی کے پرانے کارکن جو خود کو نظریاتی گروپ دیتے ہیں۔وہ نئے آنے والوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، وہ لوگوں کو اپنا اور پارٹی کا دشمن قرار دیتے ہیں اس سے نئے اور پرانے کارکن آپس میں انتشار کا شکار ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی صورتحال کے پیش نظر پارٹی قیادت نے تنظیم سازی کے لئے پارٹی انتخابات کو نومبر تک ملتوی کیا ہوا ہے جنوبی وزیرستان میں دورہ عمران خان کی تیاری کے نام پر پارٹی انتخابات ملتوی کئے گئے ہیں۔روزنامہ پاکستان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے رواں ماہ ستمبر کے آخری ہفتے تک تنظیم سازی مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا اس اعلان کے تحت تحریک انصاف کی تمام تنظیمی توڑ دی گئی تھیں شیڈول کے مطابق ستمبر کے شروع میں مرکز کے نئے اسلام آباد میں انتخابات ہونے تھے جس میں مرکزی تنظیم کو مکمل کیا جانا تھا بعد میں کے پی کے اور تیسرے مرحلے میں پنجاب آخری مرحلے میں سندھ اور بلوچستان میں تنظیم سازی کے لئے انتخابات کرائے جانے تھے مگر اچانک عمران خان کے دورہ جنوبی وزیرستان کے نام پر یہ انتخابات مزید موخر کر دیئے گئے ایوان کے مطابق جب انتخابات کا اعلان ہوا تو پارٹی کے اندر ”نئے“ ”پرانے“ کے نام پر جنگ شروع ہو گئی پارٹی میں مختلف جماعتیں چھوڑ کر شامل ہونے والوں کو پرانے عہدیدار اور متحرک کارکن اپنا دشمن سمجھنے لگے اور اس بناءپر لڑائیاں شروع ہو گئی ہیں، پرانے لوگ آئندہ انتخابات میں مختلف حلقوں سے بطور امیدوار برائے قومی اور صوبائی اسمبلی اعلان بھی کے چکے تھے مگر تنظیم سازی مکمل تو نہ ہو سکی باہمی لڑائیاں اور گروپ بندیوں سے پارٹی میں شدید انتشار پھیل گیا، ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ لڑائی آج بھی جاری ہے پنجاب کے صدر احسن رشید تھے ، جنہیں آئندہ انتخابات کے لئے ہٹا دیا گیا آئندہ تنظیم سازی کے لئے پنجاب میں صدارت کے لئے عبدالعلیم خان ، عمر سرفراز چیمہ مضبوط امیدوار کے طور پر حسنی رشید کے سامنے آ گئے مگر احسن رشید انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اسی طرح پنجاب کی صدارت کے لئے دبے پاﺅں جہانگیر ترین بھی امیدوار بن کر سامنے آئے مگر احسن رشید گروپ انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں یہ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعلیم خان احسن رشید کے مقابلے میں فیورٹ قرار دیئے جا رہے ہیں اسی لئے احسن رشید گروپ عبدالعلیم خان سمیت دیگر کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے میں دوسری گروپ بندی لاہور تنظیم کے سابق صدر سابق محمود الرشید، ڈاکٹر شاید صدیقی ، فاروق امجد میر حامد معراج ظہیر عباس کھوکھر میں سے نئے امیدوار فاروق امجد پر لاہور کی صدارت اور پنجاب کی جنرل سیکرٹری کی سیٹ کے بھی امیدوار ہیں پنجاب کے سابق صدر احسن رشید ڈاکٹر شاہد صدیقی کے حمایتی ہیں ڈاکٹر شاہد صدیق سابق صدر لاہور میاں محمود الرشید کو محمود اینڈ کمپنی قرار دیتے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں بھی نئے پرانوں کی لڑائیوں نے پارٹی کے اندر شدید گروپ بندی کی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین نے عہدوں کے لئے لڑنے والوں پر عیاں کر دیا ہے کہ جو جیت کر آئے گا وہی رہنما ہو گا عمران خان کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے عمران خان نے بطور چیئرمین نئے پرانے تمام رہنماﺅں پر یہ بھی واضح کر رکھا ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل پارٹی انتخابات کا مرحلہ ملکر کر طے کیا جائے گا مگر70فیصد پارٹی عہدے اور ٹکٹ نوجوان نسل کو دیئے جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...