دور دور جاندے اسی نیڑے نیڑے آگئے

دور دور جاندے اسی نیڑے نیڑے آگئے

اسلام آباد(ثناءنیوز )سپریم کورٹ آف پاکستان نے این آر او عملدرآمد کیس میں سوئز حکام کو لکھے جانے والے خط کا ڈرافٹ تیار کرنے کے لیے 25 ستمبر تک کی ” ڈےڈ لائن“ دیتے ہوئے وزےراعظم کو آئندہ احکامات تک حاضری سے استثنیٰ دے دےا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کو چار مراحل میں مکمل کیا جائے۔ خط لکھمے سے قبل خط کا مسودہ عدالت کو دکھاےا جائے تاکہ اگر تبدےلی کی ضرورت ہوئی تو کی جاسکے۔ عدالت نے قرار دےا ہے کہ خط لکھنے کے بعد عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کےا جائے۔ عدالت نے کہا کہ جنےوا کے اٹارنی جنرل کو وفاقی وزےر قانون کی جانب سے تےار کےا گےا خط بھجواےا جائے اور خط لکھنے مےں غےر ضروری تاخےر نہےں ہونی چاہےے اور خط کے مسودہ مےں ترمےم کا اختےار سپرےم کورٹ کے پاس ہوگا۔ منگل کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس اعجاز احمد چودھری، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزارت قانون کو سوئس حکام کو ملک قیوم کی جانب سے لکھا گیا خط واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کا ڈرافٹ تیار کرنے اور وزیر قانون کو اختیار کی منتقلی والے اقدام مکمل کر نے کا حکم دیتے ہوئے سماعت25ستمبر تک ملتوی کر دی، اور آئندہ احکام تک وزیرا عظم کو حاضری سے استثنیٰ بھی دے دیا۔ منگل کو جب وزیراعظم این آر او عمل درآمد کیس کے سلسلے میں جب سپریم کورٹ پہنچنے تو جسٹس آصف کھوسہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کا چےن کا دورہ بھی کامےاب رہا اور آپ کا عدالت کا دورہ بھی کامیاب رہے گا۔ اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ نے صحیح اندازہ لگایا، میں نے گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ مسئلے کے حل کی حقیقی کوشش کروں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ معاملہ آصف زرداری کی ذات کا نہیں بلکہ صدر کے عہدے کا ہے اور توقع ہے کہ عدالت اس کا خیال رکھے گی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پہلی بار روس کے صدر پاکستان آرہے ہیں جبکہ صدر زرداری اسی ماہ اقوام متحدہ جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں بطور وزیراعظم پارٹی کا سیکرٹری جنرل بھی ہوں، ایسا حل چاہتا ہوں کہ عدالت کا وقار بھی رہے اور صدر کے عہدے کا بھی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کا انعقاد دور نہیں، استدعا ہے کہ وسیع تر مفاد میں ایسا حکم دیا جائے جس سے مسئلہ حل ہوسکے۔ اس موقع پر انہوں نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیرقانون کو تمام اتھارٹی دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ آپ نے جو اختیار دیا ہے وہ زبانی ہے یا تحریری ؟ جب اختیار دیا جائے گا تو اگلا مرحلہ خط لکھنے کا آئے گا، یہ 5 رکنی بنچ، 17 رکنی بنچ کے فیصلے سے آگے نہیں جاسکتا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ وزیرقانون کو آج تک اختیار دے دےں دو تین روز میں خط ڈرافٹ ہوجائے اور تاکہ یہ باب جلد از جلد بند کردیا جائے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاق کے تحفظات کو عدالت 2 بار دیکھ چکی ہے، آئین کے آرٹیکل 248 کا معاملہ لوکل ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ پہلے 2 اقدام ، یعنی وزیر قانون کو اختیار کی منتقلی اور ڈرافٹ کی تیاری، یکجا کرکے پرسوں سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں جس پر وزیراعظم نے تجویز دی کہ رواں ماہ کے آخر تک سماعت رکھ لی جائے۔ اس موقع پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ خط کی تیاری کیلئے وقت چاہئے، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم نے آپ کو حکم دیا ہے، آپ نے عمل کرنا ہے، اس پر پھر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ جلدی میں پھر کچھ غلط ہوجائے گا، اس پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ایسا نہ کریں پھر شکوک شبہات پیدا ہوں گے۔ سماعت کی شروعات ہوئی تو وزےر اعظم نے عدالت کو بتاےا کہ وزےر قانون سے کہا ہے کہ ملک قےوم کی جانب سے سوئس حکام کو مقدمات بند کرنے کے لےے لکھا گےا خط واپس لےنے کی ہداےت کی ہے اس موقع پر جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے بھی جسٹس قےوم کا خط واپس لےنے کا ہی کہا تھا۔ کےا آپ نے خط لکھنے کا اختےار وزےر قانون کو دے دےا ہے ؟ تو وزےر اعظم راجہ پروےز اشرف نے کہا ، انہوں نے وزےر قانون کو خط لکھنے سے متعلق اقدامات کی ہداےت کی ہے تاہم وہ تحرےری طور پر ےہ اختےار دےں گے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ چار مراحل مےں ےہ خط لکھا جائے پہلے مرحلے مےں خط کا ڈرافٹ تےار کےا جائے جس کے بعد وزےر قانون وزےر اعظم کو سمری بھجوائےں اور وزےر اعظم سمری پر دستخط کے بعد معاملہ کو تکمےل تک پہنچائےں اور اس خط کا ڈرافٹ عدالت کو بھی بھجواےا جائے جس کے بعد جنےوا کے اٹارنی جنرل کو خط بھےجا جائے گا اور ےہ بعد مےں دےکھا جائے گا کہ خط کون بھجوائے گا۔ خط لکھنے مےں غےر ضروری تاخےر نہےں ہونی چاہےے۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ خط لکھنے کا اختےار آج تک وزےر قانون کو تفوےض کےا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو حاصل استثنیٰ کے حوالے سے آئےن کے آرٹےکل 248 کا معاملہ مقامی ہے۔ معاملہ جتنا جلدی پاےہ تکمےل تک پہنچ جائے اتنا اچھا ہے ۔ وفاق کے تحفظات کو عدالت دو مرتبہ دےکھ چکی ہے۔ اس موقع پر وزےر اعظم نے کہا کہ وہ تحرےری طور پر وفاقی وزےر قانون کو خط لکھنے کا اختےار دےں گے۔ سماعت کے دوران رےمارکس دےتے ہوئے جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ ےہ پانچ رکنی بےنچ سترہ رکنی بےنچ کے فےصلے سے آگے نہےں جائے گا۔ خط لکھنے کے بعد عدالت کو بتاےا جائے کہ عملدرآمد ہو گےا ۔ان کا کہنا تھا کہ معاملات حل ہونے کی طرف جا رہے ہےں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ مقدمہ کی مزےد سماعت 20 ستمبر کو رکھ لےتے ہےں جس پر وزےر اعظم نے کہا کہ اےک ماہ کا وقت دےا جائے کےونکہ روسی صدر پاکستان کے دورے پر آ رہے ہےں ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مدت پوری ہو رہی ہے اورنئے انتخابات ہونے والے ہےں جبکہ پوری نےک نےتی کے ساتھ وہ اس معاملے کو آگے بڑھا رہے ہےں اور نہےں چاہتے کہ معاملہ مےں مزےد تاخےر ہو۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اختےارات تفوےض کر کے خط کا ڈرافٹ تےار کرنا دو دن کا کام ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزےر قانون نے بھی عدالت سے مہلت طلب کی۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ سمری تو آپ کے بائےں ہاتھ کا کام ہے جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ آپ تو اےک دن مےں قانون منظور کروا لےتے ہےں ےہ کونسا مشکل کام ہے۔ عدالت نے وفاقی وزےر قانون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزےر اعظم نے خط لکھنے کا حکم آپ کو دے دےا ہے آپ نے صرف عمل کرنا ہے۔ جس پر فاروق اےچ نائےک کا کہنا تھا کہ جلدی مےں کچھ غلط ہو جائے گا جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اےسا نہ کہےں کےونکہ اس سے شبہات پےدا ہوں گے۔ اس موقع پر وزےر اعظم نے کہا کہ 2 اکتوبر کو روسی صدر آ رہے ہےں اس لےے ےہ معاملہ اس ماہ کے آخر مےں رکھا جائے۔ جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ 2 اکتوبر سے پہلے خط لکھ کر آپ فارغ ہو سکتے ہےں۔ اصل معاملہ تو حل کےا گےا ہے اب صرف عمل کرنا ہے۔ وزےر اعظم نے اچھی باتےں کی ہےں اب وقت عملدرآمد کا ہے۔ ہم وزےر قانون کو دو سے تےن دن دے دےتے ہےں ۔اس موقع پر جسٹس کھوسہ نے وفاقی وزےر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کئی سال سے خط ڈرافٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے آپ کو بہت تجربہ ہے کےونکہ آپ اس کےس سے جڑے ہوئے ہےں۔ عدالت نے اس موقع پر وزارت قانون کو ہداےت کی کہ ملک قےوم کی طرف سے سوئس حکام کو لکھے گئے خط کی واپسی کا رےکارڈ بھی عدالت مےں پےش کرےں۔ عدالت نے اپنے تحرےری حکم مےں قرار دےا کہ وزےر اعظم وفاقی وزےر قانون کے ہمراہ ذاتی طور پر عدالت مےں پےش ہوئے اس موقع پر فاروق اےچ نائےک نے موقف اختےار کےا کہ وہ سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کا اےسا متن تےار کرنا چاہتے ہےں جو عدالت اور حکومت دونوں کو قابل قبول ہو۔ عدالت نے کہا کہ خط لکھنے والی اتھارٹی کے لےے پہلا مرحلہ ےہ ہو گا کہ وہ خط کا مسودہ تےار کرے اور عدالت کو دکھائے اور خط عدالت کے فےصلہ کے پےرا گراف 178 کے مطابق ہونا چاہےے۔ عدالت نے وزےر اعظم کو عدالت مےں پےشی سے آئندہ احکامات تک استثنیٰ دےتے ہوئے وزےر اعظم کی کوششوں کو بھی سراہا ۔ عدالت نے حکم دےا کہ وفاقی وزےر قانون 25 ستمبر کو عدالت مےں پےش ہوں گے ۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ پہنچے تو ان کے ہمراہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی تھے جبکہ اتحادی جماعتوں کے قائدین اور وفاقی وزرا جن مےں احمد مختار ، غلام احمد بلور ، اسرار اللہ زہری ، حاجی عدےل اور چودھری شجاعت بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ منگل کو سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی آمد کی وجہ سے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ آنے والے افراد کو خصوصی اجازت نامہ جاری کیے گئے تھے۔ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما، وفاقی وزراءاور اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے ہمراہ عدالت میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے پیر کی شب ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم کی سربراہی میں اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم چودھری پرویز الہی، وزیرِ قانون سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ کابینہ کے ارکان اور اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی اس موقع پر موجود تھے۔یاد رہے کہ ستائیس اگست کو اسی مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو18 ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔ واضح رہے کہ عدالت، توہین عدالت ایکٹ 2012 کو بھی کالعدم قرار دے چکی ہے، وزیراعظم کو عدالت نے محض اسلئے مہلت دی تھی کہ وہ این آر او عملدرآمد کے حوالے سے پیرا نمبر 178پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اورسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اسی پیرا نمبر 178پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کا چارج فریم کیا گیا تھا

مزید : صفحہ اول


loading...