کراچی پھر خون میں نہا گےا،جماعت اسلامی کے رہنما پرویز محمود سمیت 9 افراد جاں بحق

کراچی پھر خون میں نہا گےا،جماعت اسلامی کے رہنما پرویز محمود سمیت 9 افراد جاں ...

کراچی (سٹاف رپورٹر، این این آئی، ثناءنیوز) کراچی کے علاقہ نارتھ ناظم آباد میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ٹاﺅن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود کو ساتھی سمیت قتل کر دیا گیا، حیدری مارکیٹ کے قریب دو بم دھماکے 7افراد جاں بحق ، متعدد زخمی، تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ نارتھ ناظم آباد میں جماعت اسلامی کے راہنما اور سابق ٹاﺅن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود کو ساتھی سمیت قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین حنتی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز محمود کا قتل شہر کو دہشتگردی کی آما جگاہ بنانے کی کڑی ہے۔ کراچی کے علاقہ نارتھ ناظم آباد میں کے ڈی اے چورگنی پر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ڈاکٹر پرویز محمود کی گاڑی پر دو طرف سے فائرگن کر دی جس سے ڈاکٹر پرویز محمود شدید زخمی جبکہ ان کے ساتھی خلیل اللہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ڈاکٹر پرویز محمود کو شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج چل بسے۔امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر پرویز محمود کا قتل بدترین دہشتگردی ہے۔ واضح رہے کہ مشتعل لوگوں نے نعشوں کو ہسپتال سے لے جانے کے موقع پر ہسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی۔جماعت اسلامی کے مقتول رہنما اور سابق ناظم لیاقت آباد ٹاﺅن ڈاکٹر پرویز محموداور ان کے ہمراہ جاں بحق ہونے والے خلیق اللہ کو بھی سخی حسن قبرستان میںسپردخاک کردیا گیا۔قبل ازیں ان کی نماز جنازہ منگل کی سہ پہرنمائش چورنگی پر سابق سٹی ناظم نعمت اللہ ایڈووکیٹ کی امامت میں ادا کی گئی۔بعد ازاں جماعت اسلامی کے کارکنان نے میت کے ہمراہ وزیراعلی ہاﺅس کے باہردھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا ، جماعت اسلامی کے کارکن تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے وزیراعلی ہاﺅس پہنچے،مظاہرین کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی محمدحسین محنتی کررہے تھے۔ مشتعل کارکن وزیراعلی ہاﺅس کے قریب رکھے کنٹینرز پر چڑھ گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ بھی کی۔پولیس کی فائرنگ سے جماعت اسلامی ملیر زون کا کارکن شدید زخمی ہوگیاجو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر پرویز محمود کے جلوس جنازہ کے شرکاءپر گورنر ہاﺅس سے گزرتے ہوئے پولیس نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ سے جماعت اسلامی ملیر زون کا کارکن عبدالواحد شدید زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کےلئے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم عبدالواحد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تاہم ڈی آئی جی ساﺅتھ مشتاق مہر نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا کارکن عبدالواحد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوا۔ عبدالواحد ریلی میں موجود افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ ریڈ زون میں ریلی کے دوران پولیس نے فائرنگ نہیں کی اور نہ ہی پولیس کی فائرنگ سے جماعت اسلامی کا کارکن ہلاک ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریلی کی جگہ سے نائن ایم ایم کے 37 خول ملے ہیں۔وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی امیر محمد حسین محنتی نے کہاکہ ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل پر بدھ کو کراچی میں پرامن ہڑتال کی جائے گی۔ محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک بار پر جماعت اسلامی کے رہنما کو شہید کر کے ہمیں اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر پرویز محمود کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ کراچی کے علاقے حیدری مارکیٹ کے قریب دو دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا۔ دھماکے کے بعد حیدری شاپنگ سینٹر میں بھگدڑ مچ گئی۔ ذرائع کے مطابق حیدری مارکیٹ کے قریب مدینہ مال کے مقام بوہری محلہ بلاک ایچ میں دو زوردار دھماکوں میں خاتون اور بچی سمیت 7فراد ہلاک ہوگئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے میں 45 سالہ نامعلوم خاتون، 12 سالہ نامعلوم بچی، 40 سالہ نور الدین ولد عاشق علی، رشید، اسماعیل اور فخر الدین ہلاک ہوگئے جبکہ زخمیوں میں عامر ولد ہاشم، ارشد ولد اصغر، معیز ولد احمد، حسین ولد نثار، یوسف ولد شبیر، اصغر ولد جیوا، حمزہ ولد نور دین، حسنین ولد حمزہ، علی اصغر ولد عباس، اصغر ولد علی اور طحہ ولد معیز سمیت دیگر شامل ہیں۔ دھماکے اتنے شدیدتھے کہ پاس میں کھڑی گاڑیوں اور پتھاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکوں کے بعد حیدری مارکیٹ کے قریب بھگدڑ مچ گئی اور کاروباری مراکز بند ہوگئے۔ بھگدڑ سے بھی کئی افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ دھماکے کی جگہ کے موقع پر دھویں کے بادل چھاگئے۔ دھماکے کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جبکہ ریسکیو اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلا دھماکہ ڈالمیا سینٹر کے قریب کچرا کنڈی میں ہوا۔ دوسرا دھماکہ گاڑی E-1422میں ہوا جس سے مذکورہ گاڑی مکمل طور جبکہ متعدد موٹر سائیکلیں اور ٹھیلے بھی تباہ ہوگئے جبکہ کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ 15 سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کے مطابق بم دھماکوں میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے پانچ افراد کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔ دھماکے کے بعد شہر کے تمام سرکاری اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ پولیس کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی عاصم قائمخانی کے مطابق آئی ای ڈی ڈیوائس کے ذریعے کئے گئے دھماکے ملک دشمن عناصر نے شہر میں خوف وہراس پھیلانے کےلئے کئے۔ 13 اگست 2012ءکو بھی اسی جگہ سے بم برآمد ہوا تھا جسے ناکارہ بنادیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی کے مطابق حیدری کے قریب تین دھماکے ہوئے جن میں سے دو معمولی نوعیت کے تھے جبکہ تیسرا دھماکہ زوردار تھا جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ ایس ایس پی کے مطابق دھماکہ خیز مواد رہائشی عمارتوں کے سامنے نصب کئے گئے۔ ایڈیشنل آئی جی کے مطابق دھماکے حیدری شاپنگ سینٹر کی پارکنگ میں کھڑی کار میں ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جس کی دور دور تک آواز سنی گئی اور جائے وقوعہ پر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔ دوسرا دھماکہ ریت میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ دھماکوں کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور شدید خوف وہراس پھیل گیا۔ قریبی کاروباری مراکز بند ہوگئے اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے حکومت سندھ کو ایک مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ 36 گھنٹوں میں کراچی میں تخریب کاری کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں میں آئی ای ڈی ڈیوائس استعمال کی گئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں مزید دھماکے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کراچی میں دہشت گردی کی اطلاع دی تھی۔ کراچی اور کوئٹہ میں سوچی سمجھی سازش کے تحت حملے کئے گئے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، شاہی سید ودیگر نے کراچی کے علاقے حیدری مارکیٹ کے قریب دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...