بھیڑوں کو تلف کرنے سے متعلق درخواست پرمیڈیکل بورڈ قائم، 7 روز میں رپورٹ طلب

بھیڑوں کو تلف کرنے سے متعلق درخواست پرمیڈیکل بورڈ قائم، 7 روز میں رپورٹ طلب

کراچی (این این آئی) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس مقبول باقر اور جناب جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آسٹریلیا سے درآمد کی گئی 21 ہزار بھیڑوں کو تلف کرنے سے متعلق دائر درخواست پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا جب تک پی کے لائیو اسٹاک میٹ کے مالک طارق محمود بٹ کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 1996ءسے کاروبار کررہا ہے اور یہ بھیڑیں عمان اور قطر میں بھی اتاری گئیں لیکن وہاں کسی سے کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی۔ اسلام آباد کی ریسرچ لیبارٹری نے بھیڑوں میں کوئی بیماری نہیں بتائی جبکہ صوبائی حکومت نے بغیر اطلاع کے خون کے نمونے لئے اور پولٹری ویکسین لیبارٹری کراچی اور علیسا لیبارٹری ٹنڈوجام سے ٹیسٹ کرائے اور 16 ستمبر سے بھیڑوں کو تلف کرنا شروع کردیا جبکہ اسلام آباد ریسرچ لیبارٹری کی رپورٹ 18 ستمبر کو آنا تھی۔ درخواست گزار بہت بڑا کاروباری شخص ہے۔ آسٹریلیا سے تعلقات بھی خراب ہوسکتے ہیں جبکہ عدالت میں لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر نذیر حسین کلہوڑ پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان بھیڑوں میں او آر ایف، پیرا فوکس، ایف ایم ڈی وائرس، اینٹی وائس بیکٹیریا جیسی خطرناک بیماریاں پائی گئی ہیں۔ یہ بیماریاں انسانی جسم کے اندر داخل ہوسکتی ہیں اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے جبکہ میڈیکل بورڈ میں درخواست گزار کی طرف سے آسٹریلیا کے دو ڈاکٹر اور ایک ویلفیئر آفیسر موجود ہے جو کہ بھیڑوں کے نمونے حاصل کریں گے۔ ٹیسٹ کے بعد لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...