این پی اے کا پینل پی پی ایم اے کاالیکشن اکثریت سے جیتے گا‘ اسد شجاع الرحمان

این پی اے کا پینل پی پی ایم اے کاالیکشن اکثریت سے جیتے گا‘ اسد شجاع الرحمان

لاہور(پ ر) نیشنل فارماسیوٹیکل الائنس کے تمام امیدوارپاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچرز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے ) کے آج بروز بدھ کو ہونے والے الیکشن میں واضح اکثریت سے جیتیں گے۔لاہور‘ فیصل آباد‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد ‘ گوجرانوالہ اور خیبر پختونخواہ کے شہروں کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا ہمارے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی اور زونل ایگزیکٹیو کمیٹی نارتھ ریجن کے امیدواروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ملکی معیشت کی ترقی اور ہیلتھ کئیر سیکٹر کو بہترین خدمات فراہم کرنے کیلئے این پی اے نے بہترین اور قابل ٹیم کا انتخاب کیا ہے جو نہ صرف فارما انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل بلکہ تبدیلی لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وائس چیئرمین نیشنل فارماسیوٹیکل الائنس ( این پی اے ) میاں اسد شجاع الرحمان نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پینل امیدوار برائے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی میاں محمد ذکاءالرحمان‘ خواجہ شاہ زیب اکرم‘ شفیق عباسی‘ارشد محمود‘ناصر جاویدچوہدری‘ امیدوار برائے زونل ایگزیکٹیو کمیٹی نارتھ ریجن چوہدری محمد یوسف‘ اقبال حسین ملک، چوہدری محمد حنیف‘ عمران ارشد ‘تنویر احمد کے علاوہ ڈاکٹر خالد جاوید چودھری اور دیگر الائنس ممبران بھی موجود تھے۔میاں اسد شجاع الرحمان نے کہا کہ پی پی ایم اے الیکشن میں کامیابی کے بعد نیشنل فارماسیوٹیکل الائنس کا ملک بھر میںادویات کے معیار کو یقینی بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ اس سلسلے میں ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا تاکہ پالیسی سازی کے منصوبے پر مکمل طور پر عملدرآمد ہو۔علاوہ ازیں پورے پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں فرق کو بھی ختم کروایا جائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ ادویات کی درآمدات اور برآمدات کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا ۔ ماضی قریب میں حکومتی سطح پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے ہم مکمل طور پر اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے۔ اس وقت پاکستان میں526مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں ۔ 2011کے دوران تقریبا 1.8بلین ڈالر کی فارماسیوٹیکل پراڈکٹس پاکستان میں فروخت کی گئیں۔ بھارتی فارما انڈسٹری کو حکومتی سطح پر مکمل تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے وہاں کی فارما انڈسٹری دنیا میں اپنا نام پیدا کررہی ہے۔ بےشمار مسائل کے باوجود پاکستانی فارما انڈسٹری نے ماضی میں جنگوں‘ زلزلوں اور سیلابوں میں ادویات کی سپلائی کویقینی بنایا ہے۔فارما انڈسٹری کابرآمدات میں حصہ قابل ستائش ہے۔ ہماری انڈسٹری 90فیصد ادویات کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ ملک بھر میں تقریبا 6.5ملین افراد کے بلواسطہ یا بلاواسطہ روزگار اس انڈسٹری کے ساتھ وابستہ ہیں

مزید : کامرس


loading...