امن وامان کیس، لاپتہ افراد کا کیس انفرادی طورپر سننے کا فیصلہ ، اقوام متحدہ کے وفد کی آمد پرجواب طلب ، خداکیلئے بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں : چیف جسٹس آف پاکستان کی اپیل

امن وامان کیس، لاپتہ افراد کا کیس انفرادی طورپر سننے کا فیصلہ ، اقوام متحدہ ...
 امن وامان کیس، لاپتہ افراد کا کیس انفرادی طورپر سننے کا فیصلہ ، اقوام متحدہ کے وفد کی آمد پرجواب طلب ، خداکیلئے بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں : چیف جسٹس آف پاکستان کی اپیل

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان امن وامان کیس میں سپریم کورٹ نے اقوام متحدہ کے وفد کی پاکستان آمد کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ ، دفاع اور سیکرٹری خارجہ سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہاکہ عدالت کوئٹہ جاتی ہے تو لاشیں ملتی ہیں ، صوبے میں لوگوں کو مرواناہے تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں جانیں ، کیس میں ٹھو س فیصلہ دیناچاہتے ہیں، کراچی امن وامان کیس کافیصلہ دیالیکن نتائج سامنے نہیں آسکے ۔عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق حکومتی جواب مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ہر لاپتہ شخص کا کیس انفرادی طورپر سنیں گے جبکہ نوٹس کے بغیر کیس کی پیروی کرنے آنے پر سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل عرفا ن قادرکے درمیان سخت جملوں کاتبادلہ ہواہے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ اُنہیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیاگیااور وہ اپنی حد میں رہ کربات کریں ۔

 چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کی ۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ زمینی حالات دن بدن خراب ہورہے ہیں، کیوں انتظارکیاجارہاہے کہ کوئی تیسرا آئے ؟ چیف جسٹس نے کہاکہ کون کونسادروازہ نہیں کھٹکھٹایا، عدالت کوئٹہ جاتی ہے تو اِس سے پہلے لوگوں کو مار دیاجاتاہے ، لوگوںکومروانا ہے تو وفاقی اور صوبائی حکومت جانیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر آدھے گھنٹے میں پیش نہ ہوئے تو معطل کراکر گرفتار کرادیں گے ،جسٹس جواد نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ کے وارنٹ جاری کریں تو کیایہ اچھالگے گا۔عدالت نے پانچ سینئر وکلاءکو عدالتی معاون مقررکرتے ہوئے کہاکہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی رپورٹ صرف کاغذی کارروائی ہوتی ہے ۔جسٹس جواد نے کہاکہ حکومت کی سنجیدگی سیکرٹری داخلہ کے رویئے سے واضح ہے ۔تاخیر سے پہنچنے پر سیکرٹری داخلہ نے معذرت کرتے ہوئے بتایاکہ اُن کی صحت ٹھیک نہیں اور وہ اپنے دفتر سے آج بھی چھٹی پر ہیں ۔ عدالت کے استفسار پر اُنہوں نے اعتراف کیاکہ وہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گئے تھے ۔

عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق اقوام متحدہ کے وفد کی پاکستان آمد کا نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ بلوچستان کو خطرہ ہے تو پاکستان کو خطرہ ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسارپرسیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ دفترخارجہ کی طرف سے بلایاگیاہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہناتھاکہ یہ کام دفتر خارجہ کا نہیں ، وفاق کاہے ۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ وفاق نے ہی دفتر خارجہ کے ذریعے ورکنگ گروپ کو بلوایاہے جس پر عدالت نے سیکرٹری داخلہ ، دفاع اور خارجہ سے تحریری جواب طلب کرلیاہے ۔سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے کہاکہ وزیرداخلہ کو بلا کر اُن سے پوچھ لیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اُنہوں نے بھی یہی کہناہے کہ حالات خراب ہیں ۔

 حکومت کی طرف سے لاپتہ افراد کے حوالے سے جمع کرائی گئی رپورٹ مستر د کردی جس کے مطابق لاپتہ 78افراد کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ایف سی پر الزام لگائے جاتے ہیں ، ہر لاپتہ شخص کا کیس انفرادی طورپر سنیں گے اور مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ۔عدالت نے کہاکہ بلوچستان کے مسئلے پر صدر اور وزیراعظم سے بات کی گئی لیکن کچھ نہیں ہوسکا ،خدا کے لیے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور اگر کچھ نہ ہوا تو ہمیں حکم دیناہوگا۔

قبل ازیں عرفان قادر کی عدالت میں پیشی پرچیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل کے کورٹ میں آنے پر ججوں کو اعتراض ہے ،البتہ فریقین کی منشاءیا نوٹس ہوں تو آپ آئیں ۔اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہاکہ آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے نہیں آناچاہیے تو نہ بلایاکریں جس پر عدالت نے کہاکہ حکم پڑھ لیں ، ہم فوری حکم جاری کرتے ہیں اور آپ کو نہیں بلایاگیاجس پر اٹارنی جنرل نے موقف اختیارکیاکہ اُنہیں سیکرٹری دفاع

نے آنے کوکہاتھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا میں جھوٹ بول رہاہوں ؟ ہم نے آپ کو نہیں بلایا، اس لیے بات نہ کریں جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ کیا میں جھوٹ بول رہاہوں ؟

عدالت نے سیکرٹری دفاع کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طورپر پیش ہونے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ دیکھیں بلوچستان میں کیاہورہاہے ، کسی کو فکر نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ حکومت نہیں کرارہی ، جج صاحب بلوچستان چلتے ہیں ، دیکھیں کہ کون کرارہاہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ تو کیایہ عدالت کرارہی ہے ؟ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی اپنے عہدے کے تقدس کے حساب سے تہذیب کا مظاہرہ کریں ۔

مزید : اسلام آباد


loading...