سیلابی ریلے کی نکاسی کے لیے علیحدہ نکا سی نظام بنایا جائے :صدرزرداری

سیلابی ریلے کی نکاسی کے لیے علیحدہ نکا سی نظام بنایا جائے :صدرزرداری
سیلابی ریلے کی نکاسی کے لیے علیحدہ نکا سی نظام بنایا جائے :صدرزرداری

  


کراچی(مانٹیرنگ ڈیسک)صدر آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے کی نکاسی کے لیے علیحدہ نکا سی نظام بنایا جائے جبکہ جن علاقوں میں پانی جمع ہے اسے پچیس روز میں نکال کر متاثرین کو دوبارہ آباد کیا جائے ۔صدر زرداری کی صدارت بارشوں سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاو¿س میں اجلاس ہوا جس میں صدر نے بارشوں سے متاثرہ پانچ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اراکین اسمبلی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ صدر کو بتایا گیا کہ ٹھل ، گھوٹکی ، پرانا سکھر، کندھ کوٹ ، تنگوانی سمیت کئی علاقے ڈوب چکے ہیں جبکہ بلوچستان سے سیلابی ریلے سے آنے سے شہداد کوٹ ، قمبر اورکاچھوکے علاقے ڈوبنے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر لوگوں کی نقل مکانی ہوئی ہے جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی مشیر ریلیف حلیم عادل شیخ نے صدر کو بتایا گیا ان علاقوں میں اٹھائیس لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ یہ تعداد چالیس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی نکاسی کے لیے ڈیزل پمپ ناکافی ہے انہیں بجلی پر منتقل کرنے کے لیے واپڈاکو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے جبکہ وہاں اضافی افسران تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ ، صوبائی وزرائ، پی ڈی ایم اے ودیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ صدر نے ہدایت کی کہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی آبادکاری تک سندھ حکومت جنگی بنیادوں پر کام جاری رکھے۔

مزید : کراچی


loading...