بحرِظلمات اور ہم

بحرِظلمات اور ہم

 عیسائی دنیا کے دو بڑے فرقے ہیں....رومن کیتھولک،پروٹسٹنٹ....پوپ بینی ڈکٹ کا تعلق، رومن کیتھولک فرقے سے ہے اور ان کو وسیعاختیارات حاصل ہیں۔ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ ان کے پیروکاروں کے لئے اہم ہوتے ہیں۔انہوں نے اسلام کے بارے میں یہ تصویر پیش کرکے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا تمام دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ پر ایک مشرکہ عورت روزانہ کوڑے کی ٹوکری پھینکتی تھی، لیکن آپ صبروتحمل کا پیکر بن کر آپ اپنی توہین برداشت کرتے چلے آ رہے تھے، لیکن ایک دن وہ عورت اپنی بیماری کی وجہ سے کوڑا پھینکنے سے قاصر تھی۔ حضور اکرمﷺ پر اس نے روز مرہ کا کام سرانجام نہ دیا تو آپ اس کی بیمارپرسی کے لئے چلے گئے،حالانکہ وہ عورت مشرکہ تھی۔وہ کون سا جذبہ تھا؟ جو آپ کو اس کی بیمار پرسی کے لئے اس کے قریب لے گیا ۔یہ حق انسانی تھا۔پیغمبر اسلام نے یہ سبق دیا کہ انسان کے انسان پر حقوق ہیں۔اس لئے کہ انسان کو مصیبت میں دیکھ کر اس کی مدد کرو۔

اتنے عظیم رہبر کامل کے بارے میں تشدد اور تلوار کے زور پر اپنا مشن پھیلانے کا الزام وہی عائد کرسکتا ہے،جسے حیات پیغمبر کا مطالعہ کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔دنیائے عیسائیت کا فرقہ وارانہ تشدد، پوری دنیا میں مشہور ہے۔انگلینڈ کی ملکہ میرلا نے حکم دیا کہ پروٹسٹنٹ فرقے کے لوگوں کو ختم کردیاجائے،چنانچہ مذکورہ فرقے کے تین سو افراد کو جمع کیا گیا،جن کے لیڈر کو آگ کے بہت بڑے الاﺅ میں پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس کے بعد کہا گیا کہ یہ انگلینڈ میں ایسی شمع روشن کررہے ہیں، جو کبھی نہ بجھے گی اور اس طرح فرانس میں 1572ءمیں فتویٰ جاری کیا کہ ایک رومن کیتولک کی سزا ایک ہزار پروٹنسٹوں کے برابرنہیں ہو سکی،چنانچہ صرف ایک رات میں بیس ہزار پروٹنسٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس ملک میں پروٹنسٹوں کے ساتھ وہی ہوتا رہا جو بھارت میں اچھوتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔مذکورہ واقعات کو درج ذیل شعر میں اس طرح پیش کرسکتے ہیں۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

آج عیسائی دنیا اور یہودی متحد ہو کر کبھی افغانستان میں بمباری کرکے اس کا تورا بورا کرتے ہیں، کبھی عراق پر جھوٹے الزامات عائد کرکے جمہوریت قائم کرنے کے نام پر ملک پر قبضہ کرتے ہیں اور پھر اس ملک عراق کو فرقوں کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کرنے کا پروانہ جاری ہوجاتا ہے۔عراق پر تیل کے نام پر اپنا کاروبار چمکانے کے لئے قابض ہیں،جب تک امریکہ اور انگلینڈ یو این او کو۔اپنی لونڈی کا کردار ادا کرنے پر مجبور کرتے رہیںگے، کوئی مسلمان ملک محفوظ نہیں رہ سکتا اور اب اس کی تازہ ترین مثال امریکہ کی ایران پر پابندیاں لگانے کی کوشش تیز کرنا ہے۔اس میں ایران کی پٹرولیم انڈسٹری کو نشانہ بنانا۔ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو ایران میں سرمایہ کاری سے روکنا شامل ہے۔صدر بش نے افغانستان پر حملے کے بعد کہا تھا۔صلیبی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔سعودی عرب، عراق، افغانستان، ایران کے بعد اب کس کی باری ہے۔اس کے بارے میں ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا۔نہیں تو عیسائیت اور یہودیت کا اژدھا ہمیں بھی نگل لے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔آیئے اب ہم مسائل کے حل کی طرف نکلتے ہیں۔یہ کہیں کہ اپنی بقاءکا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ان مسائل سے بچنے کے تین حل ہو سکتے ہیں۔پہلا حل یہ ہے کہ ہم دنیا کے 61 اسلامی ملک، اہل مغرب کے اعلان جہاد کریں، دنیا کے ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان استعمارت کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔چھری، بندوق سے لے کر ایٹم بم تک جس کے پاس جو کچھ ہے ، لے کر میدان میں آئیں،دشت اور دیاﺅں سے بحروظلمات تک گھوڑے دوڑائیں۔ اس جنگ میں خود مر جائیں اور دشمنوں کو بھی مار دیں،لیکن ظاہر ہے یہ حل ممکن نہیں۔دوسرا حل یہ ہے کہ دنیا کے بارے عیسائی، یہودی، بدھ مت، ہندو، کمیونسٹ، بیک جنبش قلم مسلمانوں کے تمام مطالبات مان لیں۔تمام غاصب قومیں فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان مسلمانوں کے حوالے کردیں۔اپنی فوجیں نکال لیں، سرحدوں کی حد بندی کردیں۔اس کے بعد مغرب کی حد میں مسلمان داخل نہ ہوں اور اسلامی حدود میں کوئی غیر مسلم قدم نہ رکھے، لیکن یہ حل بھی ممکن نہیں۔مغرب اور اسلام کی جنگ کا تیسرا حل جاپان کا یہ ماڈل ہے۔جاپانی فوجیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا، مرجاﺅ اور ماردو۔پسپائی یا واپسی جیسے لفظ جاپان کی ڈکشنری میں شامل نہیں تھے، لیکن پھر 6اگست1945ءکی صبح نے جاپان کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم پھینکا گیا،جس سے چالیس ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے۔تقریباً ایک لاکھ لوگ معذور ہوئے۔اسی طرح امریکہ نے 9اگست کو دوسرا

 ایٹمی بم ناگاسا کی پر گرا دیا۔یہ بم 74ہزار جاپانیوں کو نکل گیا۔جاپان کے ان دو بڑے شہروں کی تباہی نے جاپان کو ہلا کر رکھ دیا۔جاپان نے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔امریکی جنرل میک آرتھر نے جاپان کی عنان عنان اقتدار سنبھال لی۔اس وقت جاپان کا شہنشاہ ہیروبیٹو تھا۔جاپان اپنے شہنشاہ کی اوتار کی طرح عزت کرتے تھے۔جنرل میک ارتھر نے بادشاہ کو اپنے دفتر بلایا۔اسے کئی گھنٹے دفتر کے باہر بٹھائے رکھا، جاپانی اس واقع کو تاریخ کا انتہائی ذلت آمیز واقعہ قرار دیتے ہیں، لیکن پھر ساری دنیا نے دیکھا جاپانیوں نے اپنی نفرت، ذلت اور شکست کو علم و فن اور معیشت میں تبدیل کردیا۔اس نے توپ کے بغیر جنگ کرانے کا اعلان کردیا۔ اس جنگ میں امریکہ سے بدلا لینے ک فیصلہ کیا۔جاپان نے فوج ختم کردی۔جاپانی فوج نے اپنا اسلحہ امریکہ کے حوالے کردیا۔مشین گن رائفل بنانے والے کارخانے کو ریڈیو، ٹیلی ویژن اور گھڑیاں بنانے والی فیکٹری میں تبدیل کردیا۔یونیورسٹیوں اور کالجوں کا جال بچھا دیا گیا۔1980ءمیں جاپان دنیا کی بڑی معیشت بن گیا۔ جاپان نے گھڑیوں، کیمروں، گاڑیوں، ٹی وی اور کمپیوٹروں سے امریکہ کو شکست دے دی۔جاپان کی ترقی ایک فیصلے کے مرہون منت تھی۔اگر اس نے زندہ رہنا ہے تو اسے اپنے جذبے، اپنی نفرت اور اپنے انتقام کی شکل بدلنا ہوگی اور اسے مغرب کے اس نازک حصے پر ضرف لگانا ہوگا،جہاں سے وہ بچ نہ سکے اور وہ نازک حصہ معیشت، فیکٹری اور تعلیم تھی اور آج پوری دنیا جاپان کے سامنے سرنگوں ہے۔مغرب اور اسلام کی جنگ کا تیسرا حل جاپان کا ماڈل ہے۔اگر ہم بھی پچاس برس تک پسپائی اختیار کریں۔کشمیر، فلسطین کو بھول جائیں، مغرب کی طاقت کو تسلیم کرلیں۔اپنے دکھ، شکست اپنی تکلیف، اپنی ذلت کو علم، ٹیکنالوجی کی شکل دے دیں اور پچاس سال کے لئے اپنے جہاد کو، علم اور درسگاہ کی شکل دے دیں۔ہمارے فدائی اور خظدکش اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ کسی امریکی ٹینک سے ٹکرانے کے بجائے اپنی جان لیبارٹری اور لائبریری میں دینی ہے۔جو رقم ہم جنگ پر خرچ کرتے ہیں، وہ رقم یونیورسٹیوں اور تجربہ گاہوں میں خرچ کرنی ہے اور اس سے علم اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے ہے تو یقین کیجئے ہماری پسپائی کے یہ پچاس سال ہمیں فتح کی جانب لے جائیں گے اور ساری قوتیں ہمارے آگے سرنگوں ہوں گی۔جاپانی قوم کے بارے میں میک آرتھر نے کہا تھا:”ان کے غصے نے 35برس میں وہاں پہنچا دیا،جہاں امریکہ 3سو سال میں پہنچا تھا“، ہم اپنی نفرت کا رخ موڑ لیں تو ہم پچاس برس میں وہاں پہنچ جائیں گے،جہاں مغرب 3سو سال میں پہنچا تھا۔   ٭

مزید : کالم


loading...