بلدیاتی انتخابات: ایک ٹیسٹ کیس

بلدیاتی انتخابات: ایک ٹیسٹ کیس

خواتین و حضرات پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے ،جس کی کہانی ایوب خان کے بی ڈی ممبر سے شروع ہوتی ہے۔ضیاءالحق کے دور سے گزرتی ہوئی پرویز مشرف کا دور دیکھتی ہے اور پھر موجودہ حکومت کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔اس بات سے سب اتفاق کرتے ہیں کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں بلدیاتی نظام کی بہت اہمیت اور افادیت ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کی جمہوری قوتیں اور حکومتیںہمیشہ اس سے دامن بچا کر چلتی رہی ہیں۔وہ بلدیاتی اداروں کی اہمیت کو جانتی تو ہیں، مانتی نہیں،کیونکہ اس سے ان کی روزی پر لات پڑتی ہے۔ ہمارے ملک کی جمہوریت، ازخود جمہوریت اور جمہوری اداروں کے نام پر دھبہ ہے۔یہاں بھی ایک ڈکٹیٹر ”جمہوریت اور جمہوری نظام“ پر حکومت کرتا ہے۔ وزارتیں، صدارتیں سب اس کی جیب میں ہوتی ہیں۔وزیراعظم اس کے رحم و کرم پر ہوتا ہے،جسے سانس لینے کے لئے بھی”صاحب“سے اجازت لینا ہوتی ہے۔

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

اپنے تازہ وزیراعظم ہی کی مثال لے لیجئے۔ہر مہذب ملک میں نیا وزیراعظم آکر قوم سے خطاب ضرورکرتا ہے اور یہ روایت پاکستان میں بھی رہی ہے،تاکہ عوام کا اپنے نئے آقا اور نجات دہندہ سے تعارف ہو سکے،اس کی پالیسیوں اور حکمت عملی کا پتا چل سکے، اس کے حسن حکومت اور حسن بیان سے آگاہی ہو سکے:

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

مَیں تیرا حسن تیرے حسن بیان تک دیکھوں

لیکن قوم ہنوز اپنے تازہ وزیراعظم کی فہم و فراست، علم و دانش اور حسنِ بیاں سے محروم ہے، تاہم ان کے اپنے صدر پر دل و جان سے فدا ہونے کے بیان اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

واپس آتے ہیں....ہرچند کہ بلدیاتی نظام کی بہت برکتیں ہیں، تاہم موجودہ حکومت بشمول حکومتِ پنجاب اس سے پہلو تہی کرتی آئی ہیں۔اب جبکہ حکومت کی رخصتی اور جانا ٹھہر گیاہے، وفاقی حکومت پر بلدیاتی انتخابات کے فضائل اور کرشمے کھلنے لگے ہیں اور صوبہ سندھ میں اس نظام کو ایک مرتبہ پھر تختہ مشق بنانے پر کمر کس لی گئی ہے۔ہر سیاسی حکومت، جمہوریت پر تو دل و جان سے یقین رکھتی ہے، اس کی خاطر جانیں قربان کرنے کو تیارہے، مگر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، جو جمہوریت کا اصل حسن ہے، پر تیار نہیں۔بڑے بڑے نامور سیاستدانوں، پارٹی لیڈروں ، پارلیمنٹیرین ، ایم این اے اور سینیٹرز وغیرہ کے ناموں کی تختیاں آپ نچلی سطح کے دور دراز علاقوں کے سکولوں، ڈسپنسریوں، سڑکوں، پلُوں، ندی نالوں، سوئی گیس سپلائی ،پانی بجلی کی سپلائی لائنوں کے افتتاح پر دیکھ سکتے ہیں، جبکہ ان کا اصل کام قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے لئے حکمت عملی وضع کرنا ہے، مگر اس میں عوام کا تو فائدہ ہوتا ہے، مگر ان کا ذاتی فائدہ کوئی نہیں نظر آتا۔نہ ٹھیکے، نہ پرسنٹیج، نہ حصہ، نہ کسی پر احسان اور نہ علاقائی طور پر مقبولیت۔انہوں نے اپنی جیت کے لئے بھاری سرمایہ کاری کیا محض اسمبلی کی آرام دہ نشستوں پربراجمان ہونے کے لئے کی ہوتی ہے،جو ساری مدتِ اقتدار میں محض قانون سازی اور قراردادوں پر دستخط کرتے رہیں اور ان کے حلقوں کے کونسلر اور ناظم موج مستی کرتے رہیں؟

نہ گل کھلے ہیں، نہ ان سے ملے، نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

پارلیمنٹیرین کو یہ منظور نہیں کہ روپے پیسے کے معاملے نچلی سطح پر ہوں اور وہ بالابالا قانون سازی جیسے پھیکے اوربدمزہ کاموں میں لگے رہیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر حکومت ِ سندھ نے بلدیاتی انتخابات وفاقی حکومت کی آشیرباد پر کیوں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پر ہمیں میر تقی میر کا شعر یاد آرہا ہے:

میر تو جو کرے ہے جی کا زیاں

فائدہ اس زیاں میں کچھ ہے

مرکزی حکومت اور حکومتی جماعت نے ان بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کیا ہے، جس سے ان کی صوبہ سندھ میں اپنی مقبولیت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی (حریف اور حلیف) کی حیثیت کا اندازہ ہو سکے گا۔وہ دراصل یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ گزشتہ چار پانچ سال کے دور حکومت میں انہوں نے کیا کھویا کیا پایا اور اب عوام کی سطح پر وہ کہاں کھڑے ہیں جو انہیں آئندہ الیکشن کی حکمت عملی تیار کرنے میں معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔مزیدبرآں یہ بلدیاتی اداروں کا موثر پلیٹ فارم ان کی انتخابی مہم چلانے میں معاونت کرے گا۔پھر یہ بھی ہے کہ اس سے عوام کے موڈ اور ترجیحات کا پتا چل سکے گا۔وہ جو کہتے ہیں کہ دیگ سے ایک ہی دانہ چکھ کر پوری دیگ کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے تو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا شوشہ اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے،جس سے ”ہوا کا رخ“ معلوم ہوجائے گا۔

اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جب بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں بلدیاتی ادارے قائم ہوں گے تو ان کے فنڈز بھی جاری ہوں گے۔کونسلر،نائب ناظم اور ناظم خواتین و حضرات بھی سامنے آئیں گے۔یہ نظام اور اس نظام کے سارے پُرزے حکومت کی جیب میں ہوں گے اور جماعتی بنیادوں پر کئے جانے والے بلدیاتی انتخابات تویوں بھی صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے لئے ترنوالہ ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں کونسلر اور ناظم، صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران کے لئے ”چھوٹے“ کاکام دیتے ہیں۔اس طرح ان بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہو کرآنے والے لوگ حکومت کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہوں گے۔معہ اپنے سازوسامان، ٹرانسپورٹ، وسائل ، مین پاور بلکہ ویمن پاور ،کے ساتھ۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پوسٹر، بینرز، بروشر اور جھنڈے وغیرہ کسی بھی انتخابی مہم کااہم حصہ ہوتے ہیں۔اس موقع پر یہ سامان تیار کرنا اور گلی کوچوں ،سڑکوں میدانوں میں آویزاں کرنا بلدیاتی اداروں اور سٹی گورنمنٹ کا کام ہی رہا ہے۔یہی فوج ظفر موج، مخالفین کے پوسٹر، بینر اور جھنڈے اتارنے میں بھی بہت مستعد اور ہوشیار ہوتی ہے۔

خواتین و حضرات خود غورد فرمائیں کہ جب عام انتخابات سر پر آگئے ہوں تو ایسے میں بلدیاتی انتخابات کروانا کس امر کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔کیا حکومت اپنے عرصہءاقتدار کے آخر میں اب عوام کی بھلائی کا سوچ رہی ہے یا یہ اس کی الیکشن کمپین کا ایک موثر حصہ ہے.... جب مرکزی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے بلدیاتی اداروں اور نمائندوں کو بھاری فنڈز جاری کئے جائیں گے تو کیا وہ مرکزی حکومت کے لئے ان کی مرضی کے کام کرنے پر مجبور یا مائل نہیں ہوں گے:

جس کا کھاﺅ اس کے گن گاﺅ

ہمیں یہاں تک خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ ان بلدیاتی اداروں کو رقوم ”کنڈیشنل“ جاری ہوںگی اور بلدیاتی نمائندوں کے سروں پر مرکزی حکومت کا دستِ شفقت اور دستِ کنٹرول بیک وقت جاری رہے گا۔ بلدیاتی ادارے، ان کے اہلکار اور وسائل حکومت کے رحم و کرم پر ہوں گے اور کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ انکار کا خطرہ مول لے سکے۔یوں بلدیاتی اداروں کے تحت مقامی ترقی، صوبائی و قومی حکومتوں کی کامیابیوں پر ترجیح رکھے گی:

مَیں خیال و خواب کی محفلیں نہ بقدرِ شوق سجا سکا

تیری اِک نظر کے ساتھ ہی میرے سب ارادے بدل گئے

مزید : کالم


loading...