یوم پاکستان:ماضی،حال اور مستقبل (1)

یوم پاکستان:ماضی،حال اور مستقبل (1)

”28اگست کو روٹری کلب فیصل آباد کے ذمہ داران نے محولہ بالا عنوان پر گفتگو کرنے کے لئے راقم کو مدعو کیا تھا۔یہ اجلاس سرینا ہوٹل میں منعقد ہونا تھا، جس کی صدارت فیصل آباد کی معروف سماجی شخصیت، فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے فعال رکن شیخ بشیر احمد کوکرنا تھی، لیکن اُن کی بعض ذاتی مجبوریوں اور مصروفیات کے پیش نظر اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔موضوع کی اہمیت کے حوالے سے ِاِس موقع پر پڑھا جانے والا مقالہ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے“۔

65برس بیت گئے ، یوم پاکستان ہر سال آتا ہے،گزر جاتا ہے۔جلسے ہوتے ہیں،تقاریر بھی ہوتی ہیں۔اخبارات لمبے لمبے ایڈیشن بھی شائع کرتے ہیں، لیکن پاکستان اور پاکستانی قوم کی حالت نہیں بدلتی۔ہر طلوع ہونے والا سُورج نئے مسائل،نئی پریشانیاں لے کر طلوع ہوتا ہے۔سٹرکوں پر ٹائر جلتے ہیں۔اولادِ آدم سینہ کوبی کرتی ہوئی گھروں کو رخصت ہوجاتی ہے، لیکن مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ہمارے نزدیک یوم پاکستان محض ماضی کی یاد کا نام نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کا نام ہے۔مردہ قومیں ماضی کو یاد کرکے خوش رہتی ہیں ،زندہ اقوام روشن مستقبل کو دیکھتی ہیں۔

یوم پاکستان صرف منانے کا نہیں،دراصل مستقبل کی منصوبہ بندی کا نام ہے، اپنے محاسبے کا نام ہے، یوم تذکیر ہے،اپنی صف بندی کا نام، صفوں میں ٹیڑھے پن کو درست کرنے کا نام۔اجتماعی لحاظ سے ہم آگے بڑھے یا پیچھے ہٹے؟اِس کا جائزہ اصلاً یوم پاکستان ہے۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے چومکھی لڑی، راستہ متعین کیا،دُنیا کے نقشے پر نئی مملکت کے قیام کو ممکن بنایا، اُنہوں نے اپنے حصے کا کام کردیا۔ہم نے اور ہمارے قائدین میدانِ سیاست نے کیا کیا؟ ہم کیا کررہے ہیں،ہمیں کیا کرنا چاہیے؟.... یہ موضوع بڑا حساس ہے اور نازک بھی۔ آپ جیسے صاحبانِ قلم، صاحبان فہم وذکائ، صاحبانِ ادراک، صاحبانِ شعور،صاحبانِ غیور اور علم وآگہی سے مالا مال حضرات کے سامنے لب کشائی حوصلے کی بات ہے۔ممکن ہے میری گفتگو آپ کے ذہنی میلان سے مختلف ہو۔اختلاف رائے ہر انسان کا فطری حق ہے ،لیکن مخاطب کے ذہنی میلان کے تناظر میں اپنی رائے کو دبانا اور مدمقابل کی ہاں میں ہاں ملانے میں عافیت خیال کرنا بھی تو نفاق سے کم نہیں۔اِس حوالے سے اگر میری گفتگو کی وجہ سے دل میں چبھن پیدا ہو تو برداشت کیجئے۔مجھے اپنا مافی الضمیر ظاہر کرنے کی اجازت ضرور دیجئے:

ہزار خوف ہو، لیکن زباں ہو دل کی رفیق

 یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

  یوم پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ روایتی انداز میں قائداعظمؒ کی مساعی کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور انگریز اور ہندو کے ساتھ اُن کی چومکھی لڑائی کا تذکرہ کرکے ماضی کی یادیں تازہ کی جائیں اور بات ختم کردی جائے۔یہ کام تو ہم پچھلے65 برسوں سے کررہے ہیں، لیکن محض آباﺅ اجداد کے حسین تذکرے کافی نہیں ہوتے۔ایک عربی شاعر کہتا ہے کہ”مت کہو میرے آباﺅ اجداد یہ تھے، ایسے تھے،یہ بتاﺅ کہ تم کیا ہو؟....قائداعظمؒ نے ہمیں ایک خطہ اراضی عطا کیا۔وہ اپنے حصے کا کام کرگئے۔سوال یہ ہے کہ ہم نے اِس قطعہ اراضی میں پھول اُگائے، لالہ وگل کی آبیاری کی یا ببول کے کانٹوں سے اِس زمین کو اُجاڑنے میں مدد کی۔اِس لئے اِس تقریب کے حوالے سے ہم نے اپنی گفتگو کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پاکستان کا ماضی کیا تھا؟پاکستان کا حال کیا ہے؟ پاکستان کا مستقبل حالات کے تناظر میں کیا ہوسکتا ہے؟

پاکستان14اگست1947ءکو معرض وجود میں آیا۔اِس کا وجود آسان نہیں تھا۔ ایک نکتے پر فکر ی ہم آہنگی پیدا ہوئی،وہ نکتہ تھا: ”ہم مسلمان ہیں، ہماری تہذیب،ہمارا کلچر جداگانہ شناخت رکھتا ہے“۔الٰہ واحد پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم ہندوستان کی دوسری اقوام سے منفر د حیثیت کے حامل ہیں۔قائداعظمؒ سے کسی نے پوچھا:” کیا آپ ہندوﺅں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے“؟ اُنہوں نے ترت جواب دیا نہیں، کیونکہ ہم اُ ن کے خدا کو کھاتے ہیں۔ہمارا اُن کے ساتھ مل کر رہنا کیسے ممکن ہے؟ قائداعظم ؒ کی قیادت میں اِس فکری ہم آہنگی کو الفاظ کا جامہ دے کر نعرے کی شکل دی گئی۔

پاکستان کا مطلب کیا .... لاالہٰ الا اﷲ ....فضا عرش تافلک اس نعرے سے گونج اُٹھی۔پشاور سے کراچی ، ڈھاکہ سے چٹا کانگ تک یہی نعرہ گونج رہا تھا۔اِس نعرے میں بڑی قوت تھی، پاکستان معرض وجود میں آگیا،کیونکہ یہ محض نعرہ نہیں، بلکہ اﷲ سے ایک عہد،ایک معاہدہ تھا۔اے رب ہمیں قطعہ اراضی دے ،ہم اِس میں تیرا نظام نافذ کریں گے۔اپنی زندگیوں میں انقلاب لائیں گے۔اﷲ نے معاہدے کی لاج رکھی،ملک عطا کردیا۔جب یہی نعرہ دھندلکوں کا شکار ہوا تو پاکستان ،پاکستان نہ رہا اور دو لخت ہوگیا۔بہت سے نام نہاد دانشور میدان میں کود پڑے۔کسی نے کہا پاکستان تو معاشی مساوات کے لئے بنا تھا،کسی نے کہا ہندوﺅں کے استحصال سے بچنا مقصود تھا،کسی نے اسمبلیوں میںمسلمانوں کی کمی کو پاکستان کے مطالبے کا سبب بتایا۔بعض نے تو کھل کر سیکولرسٹیٹ کے قیام کی بات ہی کردی۔(جاری ہے)    ٭

24 اگست کوروزنامہ”پاکستان“ میں تو ایک دانشور نے اپنے کالم میں یہا ں تک لکھا کہ:” حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو کسی”قلعے“ کی بجائے ایک”محفوظ“ سرزمین کے طور پر حاصل کیا گیا تھا تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو متحدہ بھارت میں ہندواکثریت کے جبر سے بچایا جائے اوراُن کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اُس وقت عدم تحفظ کے احساس کو اُس وقت کی مسلم لیگی قیادت نے سیاسی تصور کی شکل دے کر الگ وطن کا مطالبہ کردیا۔اِس کا مطلب یہ کہ اُس وقت انڈیا کی دیگر قوموں سے مسلمانوں کا فرق ظاہر کرنے کے لئے اسلام کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔اِس نعرے کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں کو تحریک ملی کہ وہ اپنی شناخت اور حقوق کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔آخر کار مسلم لیگی قیادت ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اُس وقت کی ایک سیاسی حکمت عملی کوبنیاد بنا کر یہ تصور کرلینا کہ پاکستان کو اسلام کے نام پر اسلام کے نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا، ایک غلطی ہے۔ اِس تصور کو آزادی کے بعد اسلامی جماعتوں نے اِس لئے اُبھارا تاکہ اِس نئی ریاست میں اُن کو فیصلہ کن کردار حاصل ہوسکے“۔

یہ بات لکھ کر کالم نگار پروفیسر امریطس نے قائداعظمؒ سے لے کر علامہ اقبال ؒاور دیگر جملہ قائدین تحریک پاکستان کے ماتھے پر منافقت کا لیبل لگانے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ہم پوری ذمہ داری سے یہ بات کہتے ہیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک نعر ہ بھی14اگست1947ءسے پہلے لگایا جاتا تو کوئی مسلمان اِس مقصد کے لئے قربانی دینے پر آمادہ نہ ہوتا اور پاکستان کبھی نہ بن سکتا۔تشکیل پاکستان کے بعد اِس قسم کے نعرے بلند ہوئے تو14اگست1947ءکو معرض وجود میں آنے والا پاکستان16دسمبر1971ءکو اپنا اصل وجود کھو بیٹھا۔ یہ اﷲ سے کئے گئے معاہدے سے بے وفائی کا نتیجہ تھا کہ مشرقی پاکستان نہ رہا،بنگلہ دیش بن گیا۔صرف مغربی پاکستان ہی پاکستان کہلایا۔ نظر گھما کر دیکھئے ،ایک بات حقیقت ہے کہ لا الہٰ الا ا ﷲ کے وعدے پر قائم ہونے والا پاکستان ہی اﷲ کی امانت تھا، اس کی نشانی تھا۔ہم ہی وفا نہ کرسکے۔

توتی الملک من تشاءوتنزع الملک ممن تشائ

”وہ جسے چاہتا ہے حکمرانی عطا کرتا ہے،جس سے چاہتا ہے ملک چھین بھی لیتا ہے“۔

 بچا ہوا پاکستان بھی اﷲ کی امانت ہے۔سورة الانفال کی تین آیات27,26,25 ایسی ہیںکہ جن کے مضامین تشکیل پاکستان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتے ہیں اور اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ آیت شاید پاکستان اور اِس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے مدنظر نازل ہوئی:

واذکروااذا نتم قلیل مستضفعون فی الارض تخافون اِن یتخطفکم الناس فاویٰ کم واید کم بنصرہ ورزقکم من الطیٰبت لعلکم تشکرون۔

”اِس وقت کو ذرا ذہن میں لاﺅ ،جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، زمین پر تم کمزور بھی تھے۔تمہیں ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ دوسرے لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ ایسے عالم میں اﷲ نے تم کو جائے پناہ عطا کی۔اپنی مدد تمہارے شامل حال فرمائی ۔تمہارے ہاتھ مضبوط کئے۔تمہیں اچھا زرق بہم پہنچایا تاکہ تم شکر گزار بن سکو“۔

 تشکیل پاکستان سے قبل ہماری تعداد بھی برصغیر میں کم تھی،مالی لحاظ سے بھی کمزور تھے۔ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے ہر وقت خوف کا عالم بھی رہتا تھا۔ایسے عالم میں اﷲ نے ہمیں جائے پناہ، یعنی پاکستان عطا کیا۔مسلمان پاکستان میں لٹے پٹے آئے تھے۔اِس علاقے کی تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں آئی۔بڑے بڑے کارخانے لگے۔اﷲ نے اپنی مہربانی سے تمول عطا کیا۔ ماہرین معاشیات بتاتے ہیں کہ پاکستان کے پاس مالی وسائل نہیں تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے کپاس کی فصل میں بہت برکت عطا کی۔خوب معاشی ترقی ہوئی۔زمینوں نے سونا اُگلا۔آغاز ہی میں اﷲ نے سوئی کے مقام سے بڑی معدنی دولت گیس کا ذخیرہ عطا کیا، جس نے ہماری معاشی ترقی میں بڑا کردار ادا کیا۔اب ہمارا فرض تھا کہ ہم اﷲ کے شکر گزار بندے بنتے، لیکن بسا آرزو کہ خاک شد۔ اُلٹا دانشوروں نے تخلیق پاکستان کے اصل مقاصد کو جان بوجھ کر پس پشت ڈالا۔ اﷲ تعالیٰ نے اِسی ترتیب سے اگلی آیت میں تنبیہ کی ،فرمایا:

”یاایھا الذین آمنوا لاتخونوا اﷲ والرسول وتخونوا اماناتکم وانتم تعلمون“

”اے ایمان والو! اﷲ اور اﷲ کے رسولﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرو....مطلب یہ کہ تم نے اﷲ سے لا الٰہ الا اﷲ کے پیمان باندھ کر پاکستان حاصل کیا تھا۔اب اِس وعدے میں خیایت کیوں کرتے ہو؟یہ جانتے بوجھتے ہوئے اﷲ اور رسولﷺ سے باندھے معاہد ے کی خلاف وزری کرتے ہو؟ اگلی آیت میں خیانت کا سبب بھی واضح کیا،فرمایا:” واعلموا انما اموالکم واولاد کم فتنہ“۔

یہ بات بھی جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے آزمائش ہیں۔ظاہر ہے کہ خیانت کرنے والوں نے اِنہی دو چیزوں، یعنی مال بنانے اور اپنی اولاد کے لئے یہ کام سر انجام دئیے۔اِس لئے اِن اسباب کا ذکر کرکے تنبیہ کردی ہے کہ خیانت کے اسباب سے بچو۔

 قرآن مجید میں قوم سبا کا تذکرہ ملتا ہے۔اُن کو بھی اﷲ تعالیٰ نے ایک قطعہ اراضی عطا کیا تھا۔اُن کے علاقے میں ہر طرف باغات ہی باغات تھے،ہریالی تھی،پھلوں کی کثرت،اﷲ نے خوب فراوانی دے رکھی تھی۔اُن کو حکم تھا کہ اِن نعمتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاﺅ،خوب کھاﺅ پیو۔بس اﷲ کے شکر گزار بندے بن کر رہو، لیکن اُنہوںنے شکر کی بجائے اﷲ کی نافرمانی شروع کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اﷲ کے حکم سے سب باغات اُجڑ گئے۔پھلوں کی جگہ جھاڑ جھنکار اُگ آیا۔ سورة النحل کی آیت نمبر112 میں ایک اور قوم کا ذکر ہے۔اﷲ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔اُس کے مکین امن واطمینان کی زندگی بسر کررہے تھے۔ ہر طرف بفراغت رزق پہنچ رہا تھا۔اُنہوں نے اﷲ کی نعمتوں کا کفران کیا۔تب اﷲ نے اُس قوم کے لوگوں کو اُن کی بداعمالیوں کا مزہ چکھایا۔ بھوک اور خوف کی مصیبتیں اُن پرچھا گئیں اور وہ ہلاک ہوکر رہ گئے۔

یہ سب آیات کیا پاکستان کے موجودہ حالات کی غماز نہیں ہیں۔کیا یہی حال ہمارا نہیں ہے۔یہ پاکستان کا ماضی تھا، اب حال کیا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے،کسی کے نزدیک کرپشن ہے، کسی کے نزدیک ریلوے کی بدانتظامی، کوئی عدلیہ کو قصو ر وار ٹھہراتا ہے،کوئی مہنگائی کو اصل مسئلہ قرار دیتا ہے۔ہر آدمی کی سوچ اپنی ،فکر اپنی۔ہم سب کا احترام کرتے ہیں، لیکن پاکستان کا اصل مسئلہ لوڈشیڈنگ نہیں،کرپشن نہیں،ریلوے بدانتظامی نہیں،رشوت نہیں،اصل مسئلہ نظام سیاست ہے۔موجودہ جمہوریت ہے، جس میں بندوں کی گنتی ہی کافی ہے،عقل وشعور کا کوئی مقام نہیں۔ اقبا ل بھی شور مچاتے ہوئے دُنیا سے رخصت ہوئے :

 جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

 بندوﺅں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے

 ہم جمہوریت کے حق میں ہیں ،نہ مخالف، البتہ پاکستان میں رائج موجودہ جمہور ی نظام کو ہم ہرگز درست نہیں سمجھتے۔ہمارے نزدیک پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ یہی جمہوری نظام ہے، جس نے پورے پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کررکھی ہیں۔اِس نظام کے تحت کوئی صاحب ِ کردار، ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا شریف آدمی کبھی الیکشن میں کامیاب نہیں ہوسکتا، جبکہ ہمارے ملک میں بڑے بڑے عالی دماغ اور شریف النفس اور ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں،لیکن موجودہ نظام کی وجہ سے ملک وقوم اُن کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔اِس نظام کے تحت صاحب ِ صلاحیت ہونا شرط نہیں، بلکہ بُرائی ہے۔الیکشن جیتنے کے لئے شرافت نہیں، بلکہ کلاشنکوف بردار مونچھوں کو تاﺅ دینے والوں کی ضرورت ہے۔پاکستان کی65سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کوچہ ءسیاست میں وارد ہونے والا ہر شخص ذاتی مفادات ہی کے لئے داخل ہوا۔اِس میدان میں شرافت اوردیانت وامانت کا کوئی مقا م نہیں۔ہم علامہ اقبال کا دن تو مناتے ہیں، لیکن اُن کو مانتے نہیں۔آپ اِس نظام سے بھاگنے اور دُور رہنے کا حکم دیتے ہیں۔آپ کا فرمان ہے:

 گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو

 کہ ازے معز دو صد خر انسانے نمی اید

 اِس جمہوری نظام سے دُور بھاگو اور کسی صاحب ِ کردار،صاحب ِعلم وعمل پختہ کار کو اپنا رہبر بناﺅ ، پھر اِسی کے غلام بن کر رہو، کیونکہ دو سو گدھے مل کر کسی ایک صاحب ِفکر اور امانت دار انسان کی سوچ کے برابر نہیں ہوسکتے، جبکہ موجودہ جمہوریت میں صر ف گنتی شمار کی جاتی ہے۔ اکثریت ہی کو دیکھا جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں ملک اپنی بازی ہار جاتا ہے۔علامہ اقبال جمہوری نظام کو جبر اور ظلم کا دیو کہتے ہیں:

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

 تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

 ہم نے عرض کیا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں ہیں نہ مخالف،البتہ اِس معاملے میں ہم فکرِ اقبالؒ کو اپنا امام مانتے ہیں۔آپ جمہوری نظام کے بارے میں جمہور سے مختلف رائے رکھتے تھے۔اُن کے ہا ں یہ نظام، یعنی موجودہ جمہوری نظام نفاق کی علامت ہے۔اِس کا ظاہر وباطن مختلف ہے۔آپ فرماتے ہیں:

 تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

 چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

علامہ اقبال نے موجودہ جمہوری نظام کی مذمت میں اور بھی بہت کچھ کہا ہے۔طوالت کا خوف دامن گیر ہے۔مذکورہ اشعار ہی فکر ِ اقبالؒ کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔جب تک اِس نظام سے پاکستانی قوم پیچھا نہیں چھڑاتی،پاکستان کے حالات سدھر نہیں سکتے، بلکہ ہم مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔پاکستانی قوم کو یہی چیلنج درپیش ہے،باقی تمام مسائل اِسی نظام کے برگ وبار ہیں، جنہوں نے پاکستانیوں کو اپنے جبڑوں سے جکڑ رکھا ہے۔پاکستان کے اندر ہر میدان میں قانون کی حد تک میرٹ دیکھا جاتا ہے۔کالجوں میں داخلہ شرط میرٹ، نوکریوں کے لئے بھی تعلیم وتجربہ شرط۔ اگر ایک ڈرائیور رکھنا ہوتو اُس کی تلاش میں ،اُس کا قد کاٹھ، اُس کی عمر، اُس کی نظر کی درستی، اُس کا لائسنس،اُس کا تجربہ، کتنے برس گاڑی چلائی،کہاں کہاں چلائی،مالکوں کے ساتھ برتاﺅ کیسا رہا،ہر چیز کی چھان پھٹک کے بعد گاڑی کا سٹیرنگ تھمایا جاتا ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ جس نے ملک کی گاڑی چلانی ہے ،اُس کے لئے کوئی شرط نہیں۔ صرف ڈھول ڈھمکا،ٹھمری، کلاشنکوف، دھونس دھاندلی کافی ہے۔بھلے عدالت نااہل قرار دے، بس اکثریت ہی کافی ہے۔نفری گن لو، زمام اقتدار ہاتھ میں تھما دو“ جبکہ قرآن مجید اکثریت کے بارے میں کہتا ہے:....” اکثر ہم لا یعقلون“ دُنیا میں اکثریت کم عقلوں ہی کی ہوتی ہے۔ افکارِ اقبالؒ اور قرآن مجید کی رُو سے ہم یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ جمہوری نظام لا الٰہ الا اﷲ کے منافی ہے، اِسی لئے ہم پچھلے 65برس سے بھٹک رہے ہیں۔ہم نے لا الٰہ الا اﷲ کی بجائے جمہوریت کو عملاً اپنا الٰہ مان لیا ہے۔1993ءسے پہلے تک اسلام کے نفاذ کی بات کسی نہ کسی حد تک ہمارا ہدف رہی۔1993ءکے بعد اسلام تو پس پشت رہا اور جمہوریت ہی ہمارا خدا بن گئی اور ہم مزید بھٹکنے لگے۔پاکستان کا ماضی بھی لا الٰہ الا اﷲ تھا۔پاکستان کا مستقبل بھی لا الٰہ الا اﷲ ہی سے وابستہ ہے ،لیکن ہمارے سیاست کاروں نے اِس کو پس پشت ڈال دیا ہے۔اِس جگہ ایک تاریخی واقعہ بھی سُن لیجیے:”برصغیر پاک وہند کے دوبڑے لیڈر تھے۔ایک کا نام قائداعظم محمد علی جناح تھا۔دوسرے کا نام مہاتما گاندھی۔اول الذکر مسلمانوں کے لیڈر تھے،موخر الذکر ہندوﺅں کے پیشوا تھے۔دونوں کا اپنی اپنی قوم میں بڑا مقام تھا۔اتفاق یہ کہ دونوں1948ءمیں دُنیا سے رخصت ہوئے اور دونوں کا تعلق گجرات سے تھا۔قائداعظم تو طبعی موت دُنیا سے رخصت ہوئے،جبکہ مہاتما گاندھی کو ایک قو م پرست اور شدت پسند ہندو نتھو رام گاڈسے نے30جنوری1948ءکو گولی مار کر ہلاک کردیا۔نتھو رام کو پھانسی کا حکم ہوا اور اُس کو پھانسی دے دی گئی۔ اُس نے وصیت کی کہ اُس کی ارتھی کو آگ لگانے کے بعد راکھ کو کنگا میں نہ بہایا جائے، بلکہ محفوظ کرلیا جائے اور جب تک ہندو قوم پرست پاکستان کو دوبارہ ہندوستان کا حصہ نہ بنالیں، اُس وقت تک محفوظ رکھا جائے۔

65برس گزرے،نتھو رام کی راکھ ایک مرتبان میں محفوظ ہے۔ہندو قوم پرست پھانسی والے دن اُس کی یاد منانے کے لئے اُس کی راکھ کا درشن کرتے ہیں۔ غلط نظریہ رکھنے والا نتھو رام اتنا کمٹڈ(Commited) ہو، مگر اسلام کو سچا دین کہنے والے اپنے نظریات سے اتنے بے فکر ہوجائیں کہ قبلہ ہی بدل لیں۔1993ءتک ہم نے پاکستان کے مقصد تخلیق کو سامنے رکھا،حتیٰ کہ سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتوں کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ اسلام ہمار ا دین ہے،لیکن1993ءکے بعد جمہوریت کا حصول ہی ہمارا مقصد ٹھہرا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ہر سیاست دان موجودہ جمہوریت کو پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے امرت دھارا تصور کئے ہوئے ہے اور ٹی وی پر ٹاک شوز کے تمام اینکرحضرات بھی جمہوریت ہی کو پاکستان کی نجات خیال کرتے ہیں، جبکہ سارے مسائل اِسی جمہوریت کی پید ا وا ر ہیں۔اگر یہی جمہوریت تخلیق پاکستان کا مقصد تھی تو ہزاروں جانیں قربان کرنے، بچوں کو یتیم کرانے اور سینکڑوں کی تعداد میں بہو بیٹیوں کو ہندوﺅں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی کیاضرورت تھی؟ اگر اِسی جمہوریت کے لئے پاکستان کا سفر تھا تو یہ جمہوریت تو آج بھی ہندوستان میں موجود ہے اور پاکستان سے بہتر صورت میں ہے۔اگر ہم نے اسی جمہوریت کے لئے 1947ئمیں جانیں قربان کیں تو پھر سارا رائیگاں گیا۔

 یستبدل قوماً غیر کم ولاتضر وہ شیائً

اگر ہم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا ،ہمارا مستقبل قرآن کے الفاظ میں یہ ہوگا۔یقین مانئے اِسی نعرے کی گونج کو سامنے رکھیں تو بقا ہے:پاکستان کا مطلب کیالا الہٰ الا اﷲ

بلاشبہ پاکستان کا ماضی لا الہٰ الا اﷲتھا۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کا حال صرف لا الٰہ تک پہنچ چکا ہے۔اگر صورت حال یہی رہی تو خاکم بدہن ،خاکم بدہن پاکستان کا مستقبل ہوگا۔یقینا آپ کے ذہنوں میں ہماری اِس گفتگو کے بعد ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوا ہوگا کہ اگر جمہوریت نہیں تو اسلام میں طرز انتخاب کیاہے؟یہ سوال بڑا اہم ہے اور ایک مستقل نشست کا متقاضی ہے۔اِس لئے ہم اِس سوال کو کسی اور وقت پر اُٹھا سکتے ہیں، جس میں ہم کتاب وسنت کے حوالے سے سربراہ حکومت اور امنائے مشاورت کی خصوصیات اور طرزِ تلاش کے بارے میں اپنی معروضات پیش کریں گے۔انشاءاﷲ۔

مزید : کالم


loading...