اے یہود و نصاریٰ، محسن اعظم کی توہین.... کس منہ سے؟

اے یہود و نصاریٰ، محسن اعظم کی توہین.... کس منہ سے؟

نائن الیون کے بعد گزشتہ چند سال سے بعض متعصب یہودی اور عیسائی متواتر اللہ کے رسول کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ قرآن اور اس کے ماننے والے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ 2012ءمیں نائن الیون کی برسی ،یعنی گیارہ ستمبر کے موقع پر یہود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ پھر سامنے آیا اور ان لوگوں نے ایک فلم بنا کر ریلیز کر دی، جس نے اہل اسلام کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور دنیائے امن پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ آخر دنیا اس بات پر کیوں غور نہیں کرتی کہ وہ مقدس شخصیات اور الہامی کتابیں، جنہیں یہود و نصاریٰ مانتے ہیں، مسلمان ان کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کو ماننا اور احترام کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ یہود و نصاریٰ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ حضرت محمد اور قرآن پاک کو مانتے ہی نہیں.... جی ہاں! نہ مانیں، اس لئے کہ نہ ماننا ان کا حق ہے اور یہ حق ان کو خود اسلام دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اسلام میں کوئی جبر نہیں۔ ویسے بھی اگر وہ مان لیں تو وہ یہودی اور عیسائی نہ رہیں، بلکہ مسلمان ہو جائیں.... اب، وہ نہیں مانتے تو جس طرح مسلمان ان کی تورات، زبور اور انجیل کا احترام کرتے ہیں،اسی طرح وہ قرآن کا احترام تو کریں، جس طرح مسلمان بائبل میں مذکور انبیائے کرام کا کرتے ہیں، اسی طرح وہ حضرت محمد کا احترام تو کریں....کم از کم بات یہ ہے کہ اگر وہ احترام نہیں کرتے تو نہ کریں، تو ہین کا ارتکاب بھی نہ کریں۔ خاموش رہیں۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ اس کم از کم سطح کو ماننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔

 آئیے! اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کس عظیم الشان طریقے سے احترام کرنا ہے۔ بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ یہودی اور عیسائی ان چاروں کو پیغمبر مانتے ہیں۔ اللہ کے رسول حضرت محمد ان کے بارے میں فرماتے ہیں:”کریم بن کریم بن کریم بن کریم حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے“.... (مسند امام احمد)

 ان چاروں پیغمبروں کے بعد وہ پیغمبر کہ یہودی جن کی نبوت اور تورات کے آج تک پابند ہیں، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ ابن ماجہ میں ہے۔ حضرت محمد نے ان کے بارے میں بتایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی۔ مَیں جو سر اٹھاو¿ں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو تھامے کھڑے ہوں گے۔ اب یہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مجھ سے پہلے ہوش میں آکر سر اٹھا لیا ہوگا یا وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے ہوش ہونے سے بچایا ہوا ہے.... اسی طرح اللہ کے رسول نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حلیہ بھی بیان فرمایا کہ رنگ گورا اور سرخ، مضبوط جسم اور قدرے گھنگھریالے بال تھے۔ مَیں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ٹیلے سے نیچے اترے چلے آ رہے ہیں اور ”لبیک اللھم لبیک“ پکار رہے ہیں، جس دن بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں فرعون کے ظلم سے نجات ملی تھی۔ محرم کی اس دس تاریخ کو حضوراکرم نے روزہ رکھنے کا بھی اعلان فرمایا۔ یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے محبت اور یکجہتی کا اظہار فرمایا اور یہاں تک بھی فرمایا کہ جب فرعون بحر احمر میں ڈوب رہا تھا تو حضرت جبرائیل اس کے منہ میں کالی مٹی کا گارا ٹھونس رہے تھے کہ کہیں یہ”لا الہ الا اللہ“ نہ پڑھ لے، اللہ کی رحمت کا مستحق نہ بن جائے اور اپنے مظالم سے نہ بچ جائے جو اس نے بنو اسرائیل پر کئے تھے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ رحمتہ اللعالمین ان پر ظلم کا خیال رکھتے ہوئے ارشاد فرمائیں اور جواب میں یہی یہودی توہین آمیز فلم بنائیں۔ آہ! کس قدر احسان فراموشی ہے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے خدمت گار اور صحابی حضرت یوشع علیہ السلام تھے۔ بنو اسرائیل کے ہاں وہ بنی ہیں اور ان کے دور میں یہودی بیت المقدس کو فتح کر کے وہاں داخل ہوئے تھے بائبل میں ان کے بارے میں موجود ہے کہ جب وہ القدس کو فتح کر رہے تھے تو سورج ڈوبنے کی طرف جا رہا تھا۔ ان کی درخواست پر اللہ نے سورج کو ڈوبنے سے روک دیا کہ جب تک فتح نہ ہو جائے، یہ رُکا رہے۔ امام احمد حنبل مندرجہ بالا باتوں کے ساتھ یہ بات بھی اپنی مسند میں لائے ہیں کہ حضور نے فرمایا:”سوائے حضرت یوشع کے کسی کے لئے سورج نہیں روکا گیا۔ وہ اس وقت بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے“۔ اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں، جن کو بنی اسرائیل مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو وہ انکار کرتے ہیں.... اب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں حضرت محمد فرماتے ہیں:”اولاد آدم میں سے حضرت یحییٰؑ کے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ہے، جس نے نہ گناہ کیا ہو اور نہ ہی گناہ کا ارادہ کیا ہو“۔

 حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقام یہودیوں کے ہاں بڑا عظیم الشان ہے۔ انہوں نے ہی وہ ہیکل بنایا، جسے وہ ہیکل سلیماں کہتے ہیں۔ جنات ان کے ماتحت تھے اور خدمت کرتے تھے۔ اللہ کے رسول، حضرت محمد مدینہ منورہ کے باسیوں کو بتاتے ہیں کہ گزشتہ رات ایک دیو ہیکل جن سے میرا واسطہ پڑ گیا۔ مَیں نے اسے زیر کر لیا اور چاہا کہ اسے باندھ دوں، تاکہ صبح کو مدینہ منورہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلیں، پھر مجھے خیال آیا کہ میرے بھائی حضرت سلیمانؑ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ مجھے ایسی بادشاہت دے کہ اس جیسی اور کسی کی نہ ہو۔ اب جن کو یوں ظاہر کر کے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی دعا میں خلل واقع ہو۔ حضوراکرم رک جاتے ہیں۔ اپنے بھائی کی پاسداری فرماتے ہیں.... یہودیوں کے محلے ”بیت المدراس“ میں جاتے ہیں۔ وہاں یہودی لوگ تکیہ پیش کرتے ہیں، جس پر شاہ مدینہ تشریف رکھتے ہیں، مگر جب تورات آتی ہے تو حضوراکرم اپنے نیچے سے تکیہ نکالتے ہیں اور تورات کواس پر رکھ کر تعظیم کرتے ہیں.... یہی وہ تعظیم ہے ، جس کو کرنے کے آج بھی مسلمان پابند ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہود کو پابند کون بنائے گا کہ چلو احترام نہ سہی، بے حرمتی تو نہ کرو۔ اچھائی کا بدلہ اچھائی سے نہ دو، مگر برائی بھی تو نہ کرو۔ اس انسانی رویے کا ان کو پابند کون بنائے گا؟....آج دنیا کے سات ارب انسانوں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے۔

 جہاں تک ٹیری جونز جیسے متعصب صلیبی پادریوں کا تعلق ہے، کیا انہیں معلوم نہیں کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننا تو درکنار.... ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام پر (نعوذباللہ) گندا الزام لگاتے ہیں اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ آج حضرت محمد کی دشمنی میں ایسے متعصب پادری یہ سارا کچھ بھول گئے ہیں.... ہاں! وہ لاعلم اور جاہل ہیں.... یا وہ بھول گئے کہ جو شان حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اللہ کے رسول نے بیان فرمائی اور اس کتاب میں آئی، جس کا نام قرآن ہے، ویسی شان تو انجیل میں بھی نہیں ملتی۔ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام 25 بار آیا ہے، جبکہ ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا السلام کا نام 34 بار آیا ہے۔ مسیح کا لفظ11 بار آیاہے۔ ان سب کو ملایا جائے تو تعداد ستر بنتی ہے۔ ان ستر آیات کو پڑھو اور دیکھو کہ ماں بیٹے کا ذکر کس قدر عالیشان انداز سے ہے۔ تم لوگ کس قدر محسن کش ہو کہ قرآن کی تحسین کرنے کی بجائے اس کو جلاتے ہو اور مسیح کے نام پر بنائے گئے چرچ میں جلاتے ہو۔ ارے! اپنے ہی مسیح کی سیرت کو جلاتے ہو اور کنواری مریم علیہا السلام کی سیرت کو راکھ بناتے ہو۔ بجائے اس کے اوباما اور ہلیری اس کو روکتے، اُلٹا کہتے ہیں کہ ہم مذمت تو کرتے ہیں، لیکن روکتے نہیں۔ یہ کیسی مذمت ہے، یہ تو مسلمانوں کے ساتھ مذاق ہے۔ انسانیت کے ساتھ مذاق ہے؟.... کیا مہذب لوگوں کا وتیرہ ایسا ہوتا ہے؟

صحیح مسلم میں ہے۔ حضوراکرم فرماتے ہیں: مَیں اس دنیا میں اور آخرت میں سب سے زیادہ حضرت عیسیٰ کے قریب ہوں، کیونکہ میرے اور حضرت عیسیٰ کے درمیان کوئی بنی نہیں، مزید فرمایا: کوئی بچہ ایسا نہیں کہ وہ پیدا ہو اور شیطان اسے کچوکہ نہ مارے۔ اسی کچوکے کی وجہ سے ہی بچہ چیخ مارتا ہے، مگر حضرت مریمؑ اوران کے بیٹے عیسیٰ ؑ کو شیطان نے کچوکا نہیں مارا۔

 اب آپ کی بائبل کہتی ہے کہ شیطان حضرت عیسیٰؑ کو ہمراہ لے کر گھومتا رہا....ارے بتلاو¿! اس کے باوجود تم لوگ حضرت محمد پر فلمیں بناتے ہو، توہین کرتے ہو۔ انجیل کا ذکر کتنی بار قرآن میں آیا۔ اپنے وقت کے لئے اس کو ہدایت اور روشنی قرار دیا۔ ہم مسلمانوں کا ایک عام اور اَن پڑھ شخص بھی چودہ سو سال سے احترام کرتا چلا آ رہا ہے.... اور تم لوگ آج کے دور میں اپنے آپ کو مہذب کہلانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود توہین کے انتہائی بدترین ہتھکنڈے استعمال کرتے چلے جا رہے ہو۔ ہاں تمہاری طرف سے زیادتی ہے۔ ہماری طرف سے نرمی ہی نرمی ہے۔ تمہاری طرف سے توہین ہے ۔ ہماری طرف سے تحسین ہے۔ تمہاری طرف سے نفرت ہے۔ ہماری طرف سے محبت ہے۔ تمہاری طرف سے بے معنی اور بے ہودہ انتقام ہے۔ ہماری طرف سے احترام ہی احترام ہے۔ مَیں سوال کرتا ہوں۔ پُرامن اور پُرسکون دلوں میں آگ لگانے والا کون ہے؟ مسلمانوں کی عقیدت اور عزت کے مرکز پر حملہ کرنے والا کون ہے؟ جی ہاں! جو ایسا کرنے والا ہے اور ملعون حرکتیں کرنے والے کا دفاع کرنے والا ہے۔ وہی تو امن کو غارت کرنے والا ہے۔ وہی تو دہشت گرد ہے۔ وہی تو مجرم ہے۔ اب بہت دیر ہوچکی۔ دنیا کے ذمہ داران کو آگے بڑھنا چاہتے، مجرموں کا ہاتھ پکڑنا چاہیے، ان کی زبان کو لگام دینی چاہئے....ایسا نہ ہو تو دنیا کا امن غارت ہو جائے گا.... اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے والے سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے.... اس سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے؟  ٭

مزید : کالم


loading...