انجام سے بے خبر!

انجام سے بے خبر!

رسی جل گئی پر بل نہیں گئے۔ عوام کے اندر شعور کی ایک لہر موجود ہے، مگر سیاسی جماعتوں اور رہنماﺅں کے رویے اور سرگرمیاں دیکھیں تو یوں لگتا ہے، وہ آج بھی اپنے ارد گرد مٹی کے مادھو ہی دیکھ رہے ہیں۔ عوام کے لئے اور ان کے نام پر کیا کچھ نہیں ہو رہا، لیکن خدا لگتی کہیے کہ اس سب آپا دھاپی کا عوام کے حقیقی مسائل سے کچھ تعلق بنتا ہے؟.... ہرگز نہیں.... سب کچھ صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور ایک خاص طبقہءامرا کے تسلط کو دائم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ مجھے تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ سندھ میں کراچی و حیدر آباد کے لئے جو بلدیاتی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، اس کے پیچھے کیا رمزیت موجود ہے۔ ارے اللہ کے بندو! اگر کوئی قدم عوامی فلاح میں اٹھاتے ہی ہو تو پھر اسے چند علاقوں تک کیوں محدود کرتے ہو؟ اگر یہ نیا نظام جو در حقیقت پرانا نظام ہے، اتنا ہی عوام کے لئے مفید ہے، تو اس کا دائرہ پورے ملک تک کیوں نہیں بڑھایا جاتا؟ چلو مان لیا کہ ملک میں اور بہت سی طاقتیں بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں اور شاید اس بندر بانٹ پر آمادہ نہ ہوں، لیکن سندھ کہ جہاں آپ نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کر دیا ہے، کیوں آپ کی نظر کرم سے محروم ہے۔ اندرون سندھ رہنے والوں کا کیا قصور ہے کہ وہ اس نئے ”فلاحی نظام“ سے محروم رہیں۔

بات کچھ کرو، جواب کچھ ملتا ہے، عوام سوال گندم کا کرتے ہیں، جواب میں گنا پکڑا دیا جاتا ہے۔ اُلجھے اور بگڑے ہوئے ماحول میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنا حصہ بھی ڈال دیا، یقینا سیاست بہت گہری شے ہے، اس میں جگہ بنانے کے لئے پہلے سے موجود ”کھلاڑیوں“ کو ہلانا اور گرانا پڑتا ہے۔ یہی تکنیک ڈاکٹر خان نے استعمال کی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا اور دونوں بڑی جماعتوں کی چیخیں نکلوا دیں۔ ڈاکٹر قدیر نے تھوڑا سا آگے کا کام کیا ہے اور اپنے حملوں میں عمران خان کو ہدف بنا لیا۔ آج یہ حالت ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہیں سب مقدس گائے سمجھ کر قوم کا ہیرو قرار دیتے تھے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کے تیر و تفنگ کے سامنے سروقدکھڑے ہیں۔ کوئی انہیں چلا ہوا کارتوس کہہ رہا ہے اور کسی نے انہیں محسن کش کا خطاب دیا۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف تو ان کی صلاحیتوں کے سرے سے ہی منکر ہوگئے ہیں۔ ہمیں تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ انہیں اس منجدھار میں کودنے کا مشورہ کس نے دیا؟ اگر دیا بھی تھا تو کیا یہ ضروری تھا کہ وہ اپنی جگہ بنانے کے لئے روایتی سیاست کی زبان استعمال کرتے، کیا وہ اپنے قومی سطح کے قد کاٹھ اور مقبولیت کی بنیاد پر عوام کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتے تھے۔

 پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ان کے ”تازہ انکشافات“ نے خود پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو ایٹمی پھیلاﺅ کا ذمہ دار قرار دے کر گویا اپنی جان تو چھڑا لی ہے، مگر در حقیقت انہوںنے ان باتوں کی بھی علی الاعلان تصدیق کر دی ہے، جو ابھی تک ابہام زدہ تھیں....ایسے ”انکشافات“ تو ہمارے ہاں اکثر ہو جاتے ہیں، لیکن وہ انکشافات ،جن کا عوام شدت سے انتظار کر رہے ہوں کبھی نہیں ہوتے۔ ہمارے ہر دلعزیز وزیر داخلہ رحمن ملک نے یہ انکشاف تو کر دیا ہے کہ انہیں کراچی کے سانحہ میں تخریب کاری کی بو آرہی ہے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ وہ اس بات کا انکشاف بھی کریں کہ اس تخریب کاری کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ ہے؟

 حیرانی تو اس پر ہے کہ ہر خود کش دھماکے یا عام دھماکے پر جائے وقوعہ سے شہادتیں اکٹھی کرنے کا بگل بجانے والے ادارے ابھی تک فیکٹری کے اندر سے ایسی کوئی شہادت نہیں ڈھونڈ سکے کہ وہاں آگ کیسے لگی؟ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا جنریٹر کے جلنے سے ایسی خوفناک آگ بھلا کیونکر بھڑک سکتی ہے ، جو کئی منزلہ عمارت کو بیک وقت اس طرح اپنی لپیٹ میں لے کہ سینکڑوں انسانوں کا وہاں سے نکلنا ناممکن ہو جائے۔ ایسی تباہ کن اور سرعت سے پھیلنے والی آگ کسی کیمیکل کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر فرانزک شعبے کے ماہرین کو یہ فرض سونپا جائے تو وہ آسانی سے بتا دیں گے کہ آگ کس چیز سے لگی اور کیسے دیکھتے ہی دیکھتے آتش فشاں کا روپ دھار گئی؟ رحمن ملک کو تو اس سانحہ میں صرف تخریب کاری کی بو آرہی ہے، جبکہ ملک کے عوام کو تو پوری سڑاند محسوس ہو رہی ہے، مگر جب سیاست نے ہر چیز کے ہاتھ پاﺅں باندھ رکھے ہوں اور اقتدار ہی ہر بندے کی منزل ٹھہرے تو پھر چند سو انسانوں کو جلا کر بھسم کر دینے کا واقعہ بھی ایک معمول کی کارروائی کے ضمن میں آتا ہے۔ دیکھو اے ساکنان خطہ ءپاک! اس کو کہتے ہیں....” عالم آرائی“!

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ مَیں آج بے ربط سی باتیں کر رہا ہوں، شاید ایسا ہی ہو، مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہمارے ہاں اب ربط رہ ہی کہاں گیا ہے۔ نظام میں کوئی ربط ہے ،نہ اداروں میں کوئی ہم آہنگی.... سب کچھ ایک ایسی گاڑی کی مانند چل رہا ہے، جو منزل اور ڈرائیور سے محروم ہے۔ کہنے کو تو جمہوری عمل اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہا ہے، تاہم شکوک و شبہات کے سائے روز بروز گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بارہا کہا گیا ہے کہ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، ایثار کا تقاضا کرتی ہے، آمر اور جمہوری حکمران میں ایک گہری حد فاصل ہوتی ہے، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہاں اقتدار کو دوام دینے کے لئے کوئی بھی آخری حد تک جا سکتا ہے، اس میں جمہوریت یا آمریت کی کوئی تفریق نہیں۔ جب کھیل اس انداز سے کھیلا جائے تو کسی بھی انہونی سے واسطہ پڑنے کا سو فیصد امکان ہوتا ہے۔

اگلے چند ماہ بہت اہم ہیں، جب اس جمہوری عمل کی تکمیل ہونے جارہی ہے، لیکن کیا یہ چند ماہ بخیر و عافیت گزر جائیں گے؟.... جمہوریت کے دیوانے عوام اس جمہوری حکومت کے ہاتھوں بُری طرح نڈھال ہیں، لیکن وہ ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ پھر کسی نئے جنجال میں پھنس جائیں۔ عوام کو اس جمہوری عمل کے جاری رہنے کی جتنی فکر ہے، اتنی شاید اس جمہوریت سے فیض یاب ہونے والوں کو نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ابھی تک یہ بھی طے نہیں کر سکے کہ الیکشن کب ہوں گے اور نگران حکومت کیسے بنے گی؟ بلکہ سارا زور اس بات پر ہے کہ چوہے بلی کے کھیل میں اپنے لئے راہ کیسے نکالی جائے؟ یہ بہت خطرناک راستہ ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ ایسے راستوں پر چلنے والے آخر وقت تک اپنے انجام سے بے خبر رہتے ہیں۔    ٭

مزید : کالم


loading...