طالبان کی آخری ہچکی؟

طالبان کی آخری ہچکی؟

پچھلے دنوں افغانستان میں دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ تمام ناٹو فورسز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ان میں سے ایک واقعہ تو وہ ہے کہ جس میں ناٹو کے چھ فوجی مارے گئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ امریکیوں کا تو ایک سپاہی بھی مارا جائے تو وہ اس کی موت پر سخت ”رنجیدہ“ ہو جاتے ہیں، چہ جائیکہ بیک وقت ایک ہی ایکشن میں چھ یورپی اور امریکی سولجر مارے جائیں۔ یہ حملہ طالبان کا بہترین اور ناٹو کا بدترین واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ ایک عرصے سے ناٹو، افغان فوجیوں اور پولیس کو اپنے چلے جانے کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے تیار کر رہی ہے۔ ان سیکیورٹی فورسز کو تشکیل دینے، مسلح کرنے، ٹریننگ دینے اور پھر ان کو برقرار (Maintain)رکھنے کے لئے ناٹو فورسز کا جو خرچہ آ رہا ہے، اس کا اندازہ، میرے آپ کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے.... اس فوج اور پولیس کی تعداد لاکھوںمیں ہے۔ ان کی وردیاں، ہتھیار اور ٹریننگ سب کچھ امریکی معیاروں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی گدائے بے نوا کو جھونپڑی سے نکال کر تخت ِ شاہی پر بٹھا دیں گے تو ضروری نہیں کہ وہ آداب ِ شاہی سے کماحقہ باخبر بھی ہو سکے گا۔ امریکیوں نے اگرچہ کوشش کی ہے کہ زیادہ تر نفری فارسی بولنے والے شمالی اتحادیوں کے علاقوں سے لی جائے لیکن از راہِ مجبوری کچھ لوگ ایسے بھی شامل کرنے پڑے ہیں جو پشتون ہیں، فاقہ مست ہیں اور پشتو بولتے ہیں۔ یہ مجبوری، امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اصل خطرہ تو امریکہ کو ہے ہی ان علاقوں سے، جو پشتون علاقے کہلاتے ہیں اور پاکستان کی مغربی اور جنوبی سرحدوں سے ملحق ہیں....

انہی زیر ِ تربیت پشتون فوجیوں نے امریکہ کی دی ہوئی وردیوں، ہتھیاروں اور ٹیکٹکس سے مسلح ہو کر ایک امریکی ٹریننگ کیمپ پر حملہ کر دیا جس میںچھ ناٹو ٹروپس مارے گئے۔ ان مارے جانے والے ”بدنصیب“ فوجیوںکی صدائے ماتم کی باز گشت پورے امریکہ اور یورپ میں گونج گئی۔.... اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کل ٹوکیو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:” معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ، طالبان کی آخری ہچکی ہے۔“.... یہ آخری ہچکی، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،انسان کو مرنے سے چند لمحے پہلے آتی ہے، جیسا کہ چراغ ِ سحر تیل ختم ہونے پر بجھنے سے پہلے ایک بھڑکدار شعلہ نکالتا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے۔

لیکن طالبان کو اس”آخری ہچکی“ کے بعد ایک دوسری ہچکی بھی ایسی آئی ہے کہ گزشتہ دس گیارہ سالہ افغانستان وار میں ایک سنگ میل بن گئی ہے۔ یہ دوسرا واقعہ ابھی دو چار دن پہلے(جمعہ14ستمبر2012ئ) افغانستان کے ایک امریکی مستقر میں پیش آیا۔ یہ مستقر (Base) افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں بنایا گیا ہے۔ یہاں ایساف اور ناٹو نے بہت بڑے بڑے ملٹری کیمپ بنا رکھے ہیںجن میں ہزاروں ناٹو ٹروپس خیمہ زن رہتے ہیں، چونکہ بڑے بڑے اور جدید طیاروں کی ٹیک آف اور لینڈنگ کے لئے لمبے لمبے رن وے درکار ہوتے ہیں جو ہلمند کے اس علاقے میں کم تعداد میں بنائے جاتے ہیں، اس لئے اس کیمپ میں جس کا نام باشن کیمپ (Bastion Camp) ہے، ہیریئر (Harrier) قسم کے طیارے رکھے گئے ہیں۔ اس طیارے کے اترنے اور پراز کرنے کے لئے رن وے کی ضرورت نہیںہوتی۔ یہ ہیلی کاپٹر کی طرح فضا میں ساکت ہو سکتاہے اور کسی بھی جگہ لینڈ کر سکتا ہے۔ ان طیاروں کو زیادہ تر طیارہ بردار بحری جنگی جہازوں پر رکھا جاتا ہے، جن میں رن وے کا طول و عرض محدود ہوتا ہے۔ حملہ آور طالبان کی تعداد15بتائی جاتی ہے جن میں 14کو مار دیا گیا اور ایک کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ اس حملے میں بھی حملہ آور طالبان نے امریکی کمانڈوز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے نیچے خود کش جیکٹس بھی تھیں۔ دراصل یہ حملہ برطانوی شہزادے، پرنس ہیری (Harry) کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تھا جو اس کیمپ میں موجود تھا۔ ہیریئر ویسے بھی برطانوی ساخت کا جیٹ فائٹر طیارہ ہے، کیمپ میں بہت سے برطانوی فوجی بھی موجودہیں اور پرنس ہیری ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے آیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں وہ ان ہیریئر طیاروں کو اڑانے کا کافی تجربہ بھی رکھتا ہے۔ موصوف اگر مارے جاتے تو آپ تصور کیجئے کہ طالبان کی کامیابی اور مسرت کا کیا عالم ہوتا!

لیکن بیک وقت چھ جیٹ فائٹر طیاروں کو تباہ کر دینا اور دو امریکی ٹروپس کو بھی ہلاک کر دینا ایساف اور ناٹو کا بدترین جانی اور مالی نقصان سمجھا جا رہا ہے اور جہاں تک 14حملہ آور طالبان کے ہلاک کرنے کا دعویٰ ہے تو وہ لوگ آئے ہی سر پر کفن باندھ کر تھے۔ یہ محارہ البتہ بجائے سر پر کفن باندھنے کے، سینوں پر کفن باندھنے میں تبدیل کر دینا چاہئے کہ بارود سے بھری کوئی جیکٹ سر پر نہیںسجائی جا سکتی۔.... سب طالبان نے یہ جیکٹیں پہن ر کھی تھیں اور انہیں جیکٹوں میں رکھے گئے بارودی مواد سے یہ طیارے تباہ کئے گئے تھے۔.... اگر امریکی وزیر دفاع اس سانحے کو بھی طالبان کی آخری ہچکی قرار دیں گے تو طالبان ایک بار پھر ان کو انشا اللہ مایوس کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایساف کے ایک ترجمان بریگیڈیئر گنٹر کاٹظ (Gunter Katz) نے اگلے روز کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس حملے میں چھ ہیریئر تباہ اور دو ٹروپس ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی فرمایا: ”ہم نے اس حملے سے سبق سیکھا ہے اور آئندہ اپنی حفاظت کے لئے اِن اسباق سے ”مزید“ استفادہ کریں گے۔ بریگیڈیئر گنٹر نے وہی بات کہی ہے جو پاکستانی فورسز کسی خود کش حملے کے بعد اعلان کرتی ہیں کہ: ”سیکیورٹی ریڈ الرٹ کر دی گئی ہے “.... لیکن اب تمام دُنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ خود کش بمباروں کے خلاف کوئی بھی سیکیورٹی ”ریڈ الرٹ“ نہیں کی جا سکتی۔ ہاں اپنے دل کو ضرور بہلایا جا سکتا ہے۔

بعض اوقات سوچتاہوں کہ تاریخ اس تیرہ سالہ (2001ءتا2014ئ) جنگ کو کیا نام دے گی؟ .... اسے بہر کیف”جنگ“ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ جنگ تو ان دو فریقوں کے درمیان لڑی جاتی ہے جن میں فورسز کا تقابل کیا جا سکے اور اسلحہ کا توازن موجود ہو۔ لیکن مٹھی بھر طالبان اور ڈیڑھ لاکھ امریکی اور یورپی افواج کا آپس میں کیا تقابل ہے اور جدید ترین اسلحہ جات کا، اس خودکش جیکٹ سے کیا موازنہ ہے جو طالبان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے؟

اسے گوریلا جنگ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے لئے بھی کسی طرف سے(خواہ وہ مقامی ہی کیوں نہ ہو) اسلحہ اور لاجسٹک ضروریات کی فراہمی اولین شرائط ہیں۔ ماﺅزے تنگ کی فورسز کو جب چیانگ کائی شیک کی فورسز پر فتح حاصل ہوئی تھی تو جنگ کے بعد سرخ فوج ایک غالب قوت(Formidable Force) بن کر دُنیا کے سامنے آئی تھی۔ اسی فوج نے امریکہ کی آٹھویں فوج کو کوریا کی جنگ(1950ءکے عشرے میں) شکست دی تھی اور ویت نام کی جنگ کے پیچھے بھی یہی سرخ فوج تھی جس کی مسلسل ٹریننگ، گولہ بارود اور ہتھیاروں نے امریکہ کی پانچ لاکھ سے زیادہ بڑی فوج کو عبرت ناک شکست دی تھی۔ اس جنگ میں امریکہ کے 60 ہزار فوجی مارے گئے تھے۔.... زخمیوں کا اندازہ تاحال شائع نہیں کیا گیا۔

لیکن افغانستان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ 1980ءکے عشرے کی ”روس افغان وار“ کی پشت پر تو چلو امریکہ اور پاکستان کی امداد اور ٹریننگ تھی لیکن اس جنگ میں طالبان کو کس کی امداد اور کس کی ٹریننگ حاصل ہے؟.... کیا روس کی ؟.... چین کی ؟.... یا پاکستان کی ؟....

2014ءکے بعد عالمی جنگ و جدل کی جو بھی تاریخیں لکھی جائیں گی، ان میں اس جنگ کو ایک ایسی حیرت انگیز جنگ کے نام سے یاد کیا جائے گا جو کسی بھی حوالے، پس منظر اور زاویئے سے ”جنگ“ نہیں کہی جا سکتی۔ اس ”انوکھی جنگ“ میں جو پہلو طالبان کی کامیابی کا باعث بنے اور جو جنگ وجدال کے طالب علموں کے لئے سبق آموز ہوں گے وہ یہ ہوں گے:

(1) قدیم ترین مواصلاتی نیٹ ورک۔

(2) افغانوں کا ناقابل ِ شکست عزم و استقلال۔

(3) افغان معاشرے کا وہ تاریخی ورثہ جو ہلاکتوں کی پروا نہیں کرتا۔

(4) خود کش جیکٹیں، آئی ای ڈی( خانہ ساز بارودی ڈیوائس) اور سڑک کنارے لگائی اور بچھائی گئی بارودی سرنگیں۔

(5) خود کش بمباروں کی تیاری، ان کی موٹی ویشن اور ٹریننگ۔

(6) افغانوں کا جدید ترین ٹیکنالوجی کو قدیم ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔    ٭

مزید : کالم


loading...