شاہ شجاع سے حامد کرزئی

شاہ شجاع سے حامد کرزئی

افغانستان کاشاہ شجاع درانی تاریخ کا ایک دلچسپ کردار ہے ۔ یہ احمد شاہ ابدالی کا پوتا تھا۔ اس کا بڑا بھائی شاہ زمان بھی بادشاہ تھا،جس کو اس کے بھائی شاہ محمود نے تخت سے اتار کر آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اندھا کردیا تھا، بعدازاں 1803ءمیںشجاع بھی اپنے بھائی محمود کا تحتہ الٹ کر بادشاہ بنا، لیکن1809 ءمیں اسی محمود نے اس کا بھی تحت الٹ کر اس کو پنجاب جلاوطن ہونے پر مجبور کردیا۔ شجاع اور اس کا بھائی زمان دونوں اہل خانہ کے ساتھ راولپنڈی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور بعد میں لاہور آگئے ۔ رنجیت سنگھ کا زمانہ تھا، اس کو معلوم ہوچکا تھا کہ مشہور زمانہ ” کوہ نور“ ہیرا شجاع کے پاس ہے ۔ اس نے ہیرے کے لالچ میں اس خاندان کا گرم جوشی سے استقبال کیااور ان کی مصیبتوں پر دکھ کا اظہار کیا،لیکن بعد میں خودرنجیت سنگھ ہی اس خاندان کے لئے ایک بڑی مصیبت اور آفت بن گیا۔ اس نے شاہ شجاع سے ہیرے کا مطالبہ کردیااور کہا کہ اگر وہ اسے رنجیت سنگھ کے حوالے کردے گا تو بدلے میں اسے بڑی رقم اور جاگیر دی جائے گی، جبکہ شاہ نے اس کی موجودگی سے یہ کہہ کرانکار کیاکہ ہیرا کابل کے سوداگروں کے پاس گروی پڑا ہے ۔رنجیت سنگھ نے ان بہانوں کو نظر انداز کرکے شاہ اور اس کے اہل خانہ پر سختی کی انتہا کردی، کھانا پیناروک دیا، بہانوں سے ذلیل کرنا شروع کردیا۔ جان کو خطرے میں دیکھ کرشاہ شجاع کو آخر کار ”کوہ نور“ رنجیت سنگھ کو دینا ہی پڑا۔

 ہیر الیتے وقت رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع سے پوچھا کہ اس کی کیا قیمت ہوگی ۔ شاہ شجاع جلابھنا بیٹھا تھا،بولا کہ ” اس کی اصل قیمت لاٹھی ہے۔ میرے بزرگوں نے لوگوں کو لاٹھی مار کر ان سے چھینا تھا، تم نے مجھ کو لاٹھی مار کر چھینا ہے، کوئی اور زبردست ایسا آئے گاکہ وہ تم کو لاٹھی مار کر چھین لے جائے گا“۔ شاہ شجاع کی بات سچ ثابت ہوئی، انگریزوں نے آخری سکھ راجہ دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا چھینا اور برطانیہ پہنچا دیا.... ”کوہ نور“ دے کر بھی بدنصیب شاہ کی خلاصی نہیں ہوئی۔ اس شک میں کہ شاہ کے پاس ابھی بھی نادر جواہرات کا کافی خزانہ موجود ہے ، انتہائی ہتک آمیز انداز میں شاہ کی رہائش گاہ کی تلاشی لی جاتی رہی۔ تنگ آکر پہلے شاہ کے اہل خانہ فرار ہوکر لدھیانہ پہنچے ، بعدازاں شاہ بھی گند گی لے جانے والی بدرو، یعنی بڑی نالی میں گھس کر فرار ہونے میں کامیاب ہوااور یہ بھی انگریز حکومت کی عملداری میں شامل لدھیانہ پہنچا،جہاں انگریز حکام نے اسے اپنی پناہ میں لے کر اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔

 اسی دوران کابل میں شاہ محمود کا تختہ بھی الٹا جاچکا تھا اور وہاں اب امیر دوست محمد خان حکمران تھا۔ عالمی حالات بھی تبدیل ہورہے تھے اور افغانستان کے دربار میں روسی سفیر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا۔ برطانیہ خائف تھا کہ افغانستان ، روس ، فرانس اور ایران مل کر ہندوستان پر حملہ نہ کردیں ،چنانچہ وہ ہر قیمت پرافغانستان پر اپنی حامی حکومت چاہتا تھا ، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے برطانوی گورنرجنرل لارڈ آک لینڈ نے کپتان برنس کو امیر دوست محمد خان کے پاس کابل بھیجا، مگر بات نہ بنی۔ آخرکار منصوبہ یہ بناکہ کابل پر حملہ کرکے شاہ شجاع کو حکمران بنایا جائے ۔ بظاہر شجاع ہی بادشاہ ہو ،لیکن درپردہ پالیسیاں برطانیہ کی ہوں ۔ رنجیت سنگھ بھی اس منصوبے میں شامل ہوگیا ،کیونکہ دوست محمد سے اس کو بھی مستقل خطرہ رہتا تھا۔ شجاع نے اس سے بھی ” کچھ لو اور کچھ دو“ والا معاملہ کرلیا۔

افغانستان پر دو اطراف سے چڑھائی کا منصوبہ بنایا گیا۔ 10 دسمبر1838ءکو فیروز پور سے فوجی دستے روانہ ہوئے۔ شاہ شجاع کے دستے شکارپور سندھ اور کوئٹہ کے راستے قندھار میں داخل ہوگئے ۔ قندھار کے حکمران قندھار کو خالی چھوڑ کر ایران کی طرف بھاگ گئے ۔ قندھار کے بعد غزنی پر بھی قبضہ مکمل ہوگیا اور اب باری کابل کی آئی، جس طرح حالیہ دور میں امریکی مدد سے حامد کرزئی کی کابل پر قبضے کی کارروائی سے پہلے ملا عمر نے چپکے سے کابل خالی کردیا اور ساتھیوں کے ساتھ روپوش ہوگئے۔ بالکل اسی طرح اس وقت بھی دوست محمد نے بخارا کی طرف روپوشی اختیار کرکے کابل شجاع کے لئے خالی کردیا۔

7 اگست1840ءکو شاہ شجاع کو تخت پر بٹھانے کے لئے نہایت شان وشوکت کے ساتھ غزنی سے کابل لایا گیا۔ سڑک کے دونوں جانب ہزاروں مقامی افراد یہ مناظر دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ برطانوی جھنڈوں کے سائے تلے انگریز فوجیوں کے دستوں کی منظم انداز میں پریڈ اور پیش قدمی مقامی لوگوں کے لئے انوکھی بات تھی، جسے وہ حیرت اور خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔ شاہ شجاع فوج کے ہجوم میں اپنی لمبی داڑھی کی وجہ سے نمایاں نظر آرہاتھا۔ اس کا لباس زرق برق اور قیمتی ہیروں سے جڑا ہوا تھا۔ شاہ کے ہمراہ سفیر برنس، وزیر سرجان کین اور دیگر انگریزفوجی افسر تھے ۔

  شاہ شجاع کی اقتدار پر بحالی کا مرحلہ کامیابی سے طے ہوگیا اور انگریزوں کی نگرانی میں حکومتی کام معمول سے ہونے لگے ۔ امیر دوست محمد خان نے بھی انگریزوں کے سامنے ”سرنڈر“ کردیا ،جس کو حفاظتی تحویل میں شملہ پہنچا دیاگیا۔اب کہیں کوئی سنجیدہ مزاحمت کا سامنا نہیں تھا اور ہر طرف سکون اور خاموشی تھی ،لیکن کیسی خاموشی؟ ۔۔۔ وہ خاموشی جو بڑے طوفان سے پہلے ہوتی ہے ۔ باغی عناصر دوست محمد کے بیٹے اکبر خان کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے گوریلا طرز پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردیں ۔ رات کی تاریکی میں پہاڑوں سے اتر کرحریت پسند آتے اور دو چار انگریز مارے جاتے۔ افغان معاشرے میں مذہبی عناصربڑا اثر و رسوخ رکھتے ہیں ۔ سبھی نمایاں ملاﺅں نے اکبر خان کی حمایت کردی ، یوں پہلی اینگلوافغان جنگ کا آغاز ہوگیا۔

 یکم نومبر1841 ءکی شب حریت پسند اکبر خان کی قیادت میں کابل میں داخل ہوگئے ۔ دو نومبر کو طوفان پھٹ پڑا اور کابل میں افراتفری کا سماں تھا۔ حریت پسند برطانوی سفیربرنس کے گھر میں گھس گئے اور چند ہی لمحوں میں گھر کے تمام لوگوں کوٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔برنس اور اس کاعملہ بھی گھیرے میں آگیا۔ اکبر خان نے برنس کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور حنجر سے اس کا گلا کاٹتے ہوئے کہاکہ ” از برائے خدا“ .... برطانوی حکومت کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھااور اس نے اپنی فوج فوری طور پر افغانستان سے نکالنے کا فیصلہ کیا، لیکن اب اس دلدل سے محفوظ نکلنا بھی مشکل تھا۔ جنرل ولیم ایلفنسٹن نے اپنی فوج کو کابل سے نکالنے کے لئے حریت پسندوں سے مذاکرات کئے، جس کے نتیجے میں اس کی فوج اور ان کے اہل خانہ کو جلال آبادکے لئے راستہ دے دیا گیا۔     6 جنوری2 184 ءکو تقریباً سترہ ہزار افرادکا قافلہ ، جس میںبرطانوی اور انڈین فوجی جوان،ان کے بیوی بچے ، ملازمین سبھی شامل تھے، کابل سے جلال آباد کی طرف روانہ ہوا۔ جس وقت قافلہ روانہ ہوا،اس وقت موسم انتہائی سرد اور ناقابل برداشت تھا۔ سخت برفباری کے بعد چاروں طرف برف پھیلی ہوئی تھی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

جس وقت یہ قافلہ پہاڑوں کے درمیان تنگ دروں میں پہنچا تو اوپر پہاڑوں میں گھات لگائے افغانوں نے ان پرحملہ کردیا۔ قافلہ مکمل گھیرے میں آچکا تھا۔ سبھی راستے مسدود ہو چکے تھے ۔ حملہ آور اوپر پہاڑوں پر تھے اور نشانے پر جو تھے، وہ نشیب میں ۔ یہ لوگ جوابی حملہ تو درکنار، دفاع کی صلاحیت سے بھی مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ٹمپریچربھی منفی 15سنٹی گریڈ تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ قافلے میںشریک ہر فرد، بہترین برطانوی سپاہی ،آفیسر، ان کے بیوی بچے ہر کوئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ افغانوں نے صرف ایک ڈاکٹر برائیڈن (BRYDON)کو اس لئے زندہ چھوڑا کہ وہ جلال آباد چھاﺅنی پہنچ کر یہ ساری داستان اپنے حکمرانوں کو بتا سکے ۔یہ ڈاکٹر ایک ہفتے بعد زخمی گھوڑے پر سوار خود بھی نیم جان حالت میں جلال آباد پہنچا، جس کے بعد نہ صرف ہندوستان اور برطانیہ، بلکہ دنیا بھر میں اس کارروائی کا شور پڑگیا۔ یہ برطانیہ کو زبردست شکست تھی جو اس کو افغان سرزمین پر ملی ۔ اس کارروائی کے بعد بھی غزنی، جلال آباد اورافغانستان کے دیگر علاقوں میں برطانیہ کے سینکڑوں فوجی جان سے گئے۔ غزنی میں موجود ساری برطانوی فوج قتل کر دی گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں قتل ہونے والی برطانوی فوج کی تعداد45 ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ شاہ شجاع کو بھی ایک حریت پسند شجاع الدولہ نے گھات لگا کر موت کے گاٹ اتار دیا۔

حرف آخر۔ لگتا یہی ہے کہ افغانستان میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے ۔ شجاع برطانوی جھنڈوں کے سائے تلے کابل میں داخل ہوا، اسی طرح حامد کرزئی بھی امریکی اور برطانوی جھنڈوں تلے کابل پہنچا۔شجاع کو بھی کابل میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا، حامد کرزئی کو بھی کابل خالی ملا۔ شجاع دو ر میں حریت پسندوں نے کچھ عرصے بعد گوریلا جنگ چھیڑی اور انگریز فوجیوں کا شکار کھیلنا شروع کیا ،یہی صورت اب حامد کرزئی کو درپیش ہے ۔ افغانستان میں تاریخ کا آخری باب ابھی مکمل نہیں ہوا، اس کے لئے آپ بھی انتظار کریں ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۱

( شاہ شجاع درانی کی زندگی پرراقم کے تفصیلی مضمون کے لئے دیکھئے ۔ قومی ڈائجسٹ ۔ ستمبر کا تازہ شمارہ)    ٭

مزید : کالم


loading...