قابل ِ اعتراض ویب سائٹس کی بندش

قابل ِ اعتراض ویب سائٹس کی بندش

پاکستان میں یو ٹیوب ویب سائٹ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، اِس کے علاوہ سپریم کورٹ کے حکم پر گستاخانہ مواد رکھنے والی934ویب سائٹس بھی بند کر دی گئی ہیں۔ اِس سے پہلے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پیر کو ایک کیس کی سماعت کے دوران اسلام اور نبی پاک کی ذات ِ اقدس پر بننے والی گستاخانہ امریکی فلم کو پاکستان میں یو ٹیوب سمیت انٹرنیٹ کی تمام دیگر متنازع ویب سائٹس بلاک کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شان ِ رسالت کا تحفظ بنیادی فریضہ ہے۔ پیمرا اور پی ٹی اے آنکھیں کھلی رکھیں، ملک میں معاملات کہیں اور چل پڑے ہیں، عدالت نے مزید حکم دیا ہے کہ آئندہ بھی ایسا کوئی مواد پاکستان میں انٹرنیٹ کی ویب سائٹس پر دستیاب نہ ہو۔

پاکستان میں قابل ِ اعتراض ویب سائٹس کو جزوی طور پر بند کرنے کے لئے فلٹریشن کا نظام موجود نہیں، اِس لئے ویب سائٹ مکمل طور پر بند کی گئی، بھارت اور انڈونیشیا جیسے ملکوں نے گوگل اور یو ٹیوب انتظامیہ کے ساتھ پہلے ایسا معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت توہین آمیز مواد بلاک ہو جاتا ہے۔ پاکستان بھی ان سے ایسا معاہدہ کر سکتا ہے، اِس سے پہلے بھی گستاخانہ مواد کی بنا پر یوٹیوب چند روز کے لئے بند کی گئی تھی، لیکن پھر کھول دی گئی۔ اب کی بار معلوم نہیں یہ ویب سائٹ کتنے روز بند رہتی ہے اور دوبارہ کب کھولی جاتی ہے، لیکن اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہمارے ٹیکنالوجی کے ماہرین فلٹریشن کا نظام قائم کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں، کیونکہ دُنیا بھر میں اسلام کے خلاف جاری مخالفانہ پروپیگنڈہ اور خبث باطن تو اب آسانی سے رکنے والا نہیں ہے۔ مغرب چونکہ اِس ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے اِس لئے اس کی ایک ویب سائٹ بند ہوتی ہے تو وہ کوئی دوسری سائٹ لانچ کر دیتا ہے۔ اِس وقت گستاخانہ مواد والی934ویب سائٹس بند کی گئی ہیں پھر بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ابھی تک مزید کتنی ویب سائٹس ایسی ہیں جن پر قابل ِ اعتراض مواد موجود ہے اور مزید کتنی بنا دی جائیں گی۔

شاہراہِ اطلاعات کے اِس انقلاب کی وجہ سے جو آئی ٹی نے برپا کیا ہے ، ہر اُس گھر میں جہاں انٹرنیٹ موجود ہے۔ کمپیوٹر پر ایک کلک کی دوری پر ہر قسم کا مواد موجود ہے، جو بد باطن لوگ اسلام مخالف پروپیگنڈے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں وہ جونہی کوئی ایسا مواد تیار کرتے ہیں اسے فوراً اپنی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کر دیتے ہیں اور یوں اُن کا مخالفانہ پروپیگنڈہ پلک جھپکنے میں گھر گھر پہنچ جاتا ہے۔ ہم مسلمانوںکو اُس وقت ہوش آتا ہے جب ایسے مواد کا دائرہ بہت پھیل چکا ہوتا ہے، پھر ہم احتجاج شروع کرتے ہیں۔ یو ٹیوب پر یہ مواد تو کئی روزسے موجود تھا، لیکن جب تک پُرتشدد مظاہرے شروع نہیں ہوگئے، مختلف شہروں میں انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہو گیا اور املاک کو نذر آتش نہیں کر دیا گیا اُس وقت تک یہ و یب سائٹ بند کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پُرتشدد مظاہروں کے بغیر ہمارے متعلقہ حکام یہ اور ایسی ویب سائٹ پہلے ہی اپنے طور پر بند نہیں کر سکتے تھے، کیا اِس معاملے پر بھی کسی درخواست گزار کا سپریم کورٹ جانا ضروری تھا اور کیا متعلقہ حکام اِس کے لئے کسی حکم کے منتظر تھے۔ بہرحال اب یہ ویب سائٹس بند کر دی گئی ہیں تو اچھا ہے، لیکن آگے کیا ہونا چاہئے؟

ویب سائٹس مستقلاً تو بند نہیںکی جا سکتیں، جو بند ہوں گی اُن کی جگہ نئی آتی جائیں گی تو بندش کا فائدہ بھی نہیںہو گا اِس کا حل یہی ہے کہ پاکستان فلٹریشن کا پورا سسٹم ڈویلپ کرے، جس کے ذریعے قابل ِ اعتراض مواد کو ویب سائٹ سے ختم کیا جائے اور باقی مواد موجود رہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے اِس دور میں اس سسٹم کا جلد حصول ممکن ہے، بلکہ اب تک پاکستان میں ایسا سسٹم موجود ہونا چاہئے تھا اگر پہلے نہیں ہو سکا تو اب بغیر کوئی وقت ضائع کئے اسے حاصل کرنا چاہئے۔ آئی ٹی میںپاکستان کے پاس بڑے بڑے ماہرین موجودہیں جنہوں نے دُنیا بھر میں اِس شعبے میں نام پیدا کیاہے، اُن کی خدمات بھی اِس مقصد کے لئے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اِس موقع پر یہ سوال بھی اہم ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے اِس دور میں کیا ہم اِس گمراہ کن پروپیگنڈے کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ضرورت تو اِس امر کی ہے کہ گستاخانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا ایسا مسکت جواب دیا جائے کہ آئندہ ایسے گستاخوںکو دوبارہ گستاخی کی جرا¿ت نہ ہو، ایسی بے ہودگیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج اور جذبات کا اظہار اپنی جگہ درست ہے، لیکن منطق و دلائل کے ساتھ بھی مخالفین کے منہ بند کرنا ضروری ہے۔ دُنیا بھر میں بہت سے مسلم سکالر ایسا جواب دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ اُن کی تحریریں بھی منظر ِ عام پر آتی رہتی ہیں، لیکن یہ سارے جوابات ایسی ویب سائٹوں پر بھی دستیاب ہونے چاہئیں تاکہ جو لوگ اسلام کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کو دیکھیں اور سُنیں انہیں مسلمانوں کا جواب اور نقطہ ¿ نظر بھی فوری طور پر دستیاب ہو، انٹرنیٹ کا جو سیل ِ رواں اِس وقت پوری دُنیا کو لپیٹ میں لے چکا ہے اِس سب کے آگے بند باندھنا تو شاید ہمارے لئے ممکن نہ ہو، لیکن یہ عین ممکن اور ہمارے بس میں ہے کہ ہم مخالفانہ پروپیگنڈے کا بروقت اور دندان شکن جواب تیار کریں۔ ایسے ازلی مخالفین جو اسلام کے خلاف اُدھار کھائے بیٹھے ہیں وہ تو شاید اِن جوابات سے مطمئن نہ ہوں، لیکن دُنیا میں ایسے سلیم الطبع لوگوں کی کمی نہیں، جنہیں مسلمانوں کے دلائل مطمئن کر سکتے ہیں ا ور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کا کوئی اثر نہ لیں۔

دُنیا میں ویب سائٹس کی کوئی کمی نہیں، اِن ویب سائٹوں پر ہر قسم کا گمراہ کن مواد موجود رہتا ہے، وقتی بندش اِس کا مستقل حل نہیں، فنی طور پر اِس مسئلے کا حل تو فلٹریشن ہے۔ مسلمان اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وہی کام لیں جو غیر مسلم لے رہے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ہم اِس میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔گستاخوں سے نمٹنا مجموعی طور پر اُمہّ کی ذمہ داری ہے، اِس لئے یہ ضروری ہے کہ پوری دُنیا کے جید علماءسر جوڑ کر بیٹھیں اور ایک ایسا ادارہ بنائیں جو مخالفانہ پروپیگنڈے کا بروقت جواب دے۔ یہ ذمہ داری او آئی سی بھی لے سکتی ہے یا رابطہ ¿ عالم اسلامی جیسے ادارے یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں پہلے ہی ایسے ادارے موجود ہیں جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جدید ذہن کے شبہات کا جواب دیتے ہیں، ایسے اداروں کا دائرہ وسیع کر کے اِس میں اسلام مخالف پروپیگنڈے کے جواب کا باب شامل کیا جا سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلم اُمہ ّ مظاہروں سے آگے بڑھ کر علمی محاذ سنبھالے اور مخالفین کے دلائل کا بطلان کر کے اُن کی زبانیں گنگ کر دے تاکہ وہ آئندہ گستاخانہ فلموں جیسے واہیات اقدامات کا اعادہ نہ کر سکیں۔

مزید : اداریہ


loading...