"مبارک ہو "

"مبارک ہو "

  

"مبارک ہو"، "مبارک ہو"، کا استعارہ انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کو مبارکباد دیتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا ہے، کوئی وجہ ہوتی ہے۔ کسی کی خوشی کے موقع میں شریک ہوا جاتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر مبارکباد دی جاتی ہے۔ کوئی سالگرہ ہو، شادی بیاہ کی تقریب ہو، کوئی انفرادی یا اجتماعی خوشی کا موقع ہو تو یہ الفاظ سن کر خوشی ہوتی ہے۔ "دھرنوں"، "لانگ مارچ"، "آزادی مارچ"میں "مبارک ہو"کا لفظ بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک جماعت کا لیڈر جب 10یا 20ہزار لوگوں کے مجمع کو جمع کر کے کہے کہ مبارک ہو، لیکن یہ لیڈر کو بھی پتہ نہ ہو اور سننے والے اجتماع کو کہ مبارک کس بات پہ دی جا رہی ہے تو اس لفظ کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

جب ایک جماعت کا لیڈر ماس میڈیا پر یہ اعلان کر کے کہ قوم کو مبارک ہو، آج میں ایسا اعلان کرنے جا رہا ہوںجس کو نواز شریف سن نہیں سکے گا۔لوگ سارا دن انتظار کرتے رہے کہ شاید ہمارے لیے کوئی خوش خبری ہے۔ اعلان کےا تھا کہ "ملک کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک"کا آغاز۔ واہ بھئی واہ! قوم تو واقعی مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ اپنی ہی منتخب کردہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسائی جا رہی ہے۔ جب عمران خان کہہ رہا تھاکہ مبارک ہو تو قریب ہی میری ملازمہ کھڑی تھی۔ پوچھنے لگی ، باجی یہ مبارکباد کیوں دے رہا ہے۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ۔ شاید کچھ ایسی بات ہے جو کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ شاید یہ الفاظ عمران نے قادری سے سیکھے ہیں۔ وہ بھی وقتاً فوقتاً قوم کو مبارکباد دیتا رہتا ہے۔ یہ الفاظ شاید "دھرنے"اور "مارچ"کیلئے مختص ہو گئے ہیں۔

"سنو ،سنو"،"میری بات سنو", سنو"کل شہزاد رائے خصوصی طور پر یہاں پہنچ رہا ہے۔ کس لیے؟ ان مارچز میں جوش جذبہ ابھارنے کیلئے۔ ایک طرف شہزاد رائے گانے بجانے کے لیے اور دوسری طرف عامر لیاقت نعتیں پڑھنے کیلئے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے ناچ گانا ہو گا یا نعت پڑھی جائے گی۔ مارچزکو پہلے ڈانس کرنا پڑے گا یا سر پر دوپٹہ اوڑھ کر نعتیں سننی پڑیں گی۔واہ کیا متضاد چیزیں پیش کی جا رہی ہیں۔آزادی مارچ کو ایسا تھیٹر بنا دیا گیا جس میں ہر طبقہ کے لوگوں کیلئے انٹرٹینمنٹ ہے۔ میرے خیال میں میڈونا کو بھی بلا لیا جائے تو اچھا ہو گا۔ مائیکل جیکسن زندہ ہوتا تو شاید وہ ضرور آتا ، زیادہ ہجوم اکٹھا ہو جاتا۔ویسے پولیس والوں پر پھول کی پتیاں پھینکنا بھی کوئی برا آئیڈیا نہیں تھا۔ خواتین، پولیس اور پھول کی پتیاں۔ قادری نے بھی تو کہا پولیس کو پھولوں کے ہار پہناﺅ۔ عمران اور قادری کے خیالات کتنے ملتے جلتے ہیں ویسے۔

"اوئے نواز شریف میں آ رہا ہوں "، "نواز شریف جب امپائر انگلی اٹھا دے تو پویلین واپس جانا پڑتا ہے"، "نواز شریف میں فاسٹ باﺅلر ہوں"،"نواز شریف آخری اوور ہے"،"نواز شریف استعفیٰ دو"،"سنو سنو ، یہ ہیلی کاپٹر آ رہا ہے نواز شریف کو لینے"۔ لگتا ہے عمران خان کو کرکٹ کے دن بہت یاد آتے ہیں۔وہ سیاست میں بھی کرکٹ ہی کھیلنا چاہتے ہیں۔کیوں نہ کنٹینر پر کرکٹ میچ ہی کھیلا جائے۔ عمران سے جب صحافی نے پوچھا کہ دن کو آپ بنی گالہ چلے جاتے ہیں اور رات کو واپس آ جاتے ہیںتو خوب کہنے لگے۔ میں دن کو کیا کروں، سب لوگ ادھر ادھر چلے جاتے ہیں۔میں فریش ہونے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔ان کو یہ مشورہ کسی نے نہیں دیا کہ دن کے وقت کرکٹ میچ کھیلا جا سکتا ہے۔ اتنے کھلاڑی شایددوبارہ جمع ہو سکیں یا نہ۔ شیخ رشید تو ویسے کمنٹری بہت اچھی کر لیں گے اور جیتنے والے پر پھول کی پتیاں بھی برسائی جائیں گی۔ وقت بھی گزر جائے گا اور کرکٹ کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔

"عمران خان وزیراعظم آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گا"بہت شوق ہے وزیراعظم بننے کا ۔ ادھر قادری صاحب ہیں! جنہوں نے اپنے آپ کو وزیراعظم کیلئے نامزد کر لیا ہے۔ وہ تو عمران سے بھی آگے نکل گئے۔ ان کی تو عوامی پارلیمنٹ بھی ہے جو قادری کے ایک اشارے پر پوری پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کر سکتی ہے۔ عوامی پارلیمنٹ نے منتخب قومی پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کر لیا۔ کیسی تضحیک ہے قانون کی اور قانونی اداروں کی۔ جو عوامی رہنما انصاف لینے اور انصاف دلانے آئے ہیں ،انہوں نے قانون کی دھجیاں کتنی بے دردی سے بکھیری ہیں۔ اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ انصاف تو ملنا ہی چاہیئے۔

"میرا اسٹائل مہاتما گاندھی جیسا ہے"،"لوگ التحریر اسکوائر کو بھول جائیںگے"،"نواز شریف پاکستان کا حسنی مبارک ہے"۔ یہاں پاکستانی کون ہے۔ ملک کے موجودہ وزیراعظم یا وزیراعظم عمران خان یا پھر وزیراعظم قادری جو کینیڈین نیشنیلٹی رکھتے ہیں۔

یہ سب تو ہو گیا ان دھرنوں کا منظر نامہ اور ان ماڈرن دھرنوں کے رہنماﺅں کے احوال جو نئی نئی اصلاحات اور دھرنوں کے مروجہ طریقوں اور اصولوں سے ہٹ کر ماڈرن دھرنوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ان کو اتنا تو سوچنا چاہیئے کہ ہم موجودہ نظام سے بغاوت کر کے کس نظام کو لانا چاہتے ہیں۔ان کی سوچ، ان کے الفاظ اور ان کی نعرے بازی کن روایات کو جنم دے رہی ہے۔یہ اس ملک کی نوجوان نسل کو کیا تربیت دینے جا رہے ہیں۔ناچو، گاﺅ، خود بھی مست رہواور مست رکھو یا مذہب کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کرواور انہیں ریاست اور قانون کے خلاف مشتعل کرو۔ دونوں رہنماﺅں کے طریقے متضاد ہیں۔ایک میوزک اور گانوں سے عوام کے جذبات کو ابھار رہا ہے اور دوسرا قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر۔ دونوں کا مقصد وزارت عظمیٰ پر قابض ہونا ہے۔ نئی نسل کیلئے کیا پیغام ہے کہ ذاتی مقاصد کے حصول کے لےے کسی بھی حد تک جانا پڑے تو چلے جاﺅ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان سے عوام نے ایک امید لگائی تھی کہ شاید یہ ملک میں کسی اچھی تبدیلی کا مظہر بنے گا۔ اللہ نے اسے کے پی کے میں حکومت کا موقع دیا لیکن یہ موقع اس نے گنوا دیا۔ اپنی زبان، نعرے بازی، شعلہ بیانی اور اپنی حرکات و سکنات سے اس نے ظاہر کر دیا کہ وہ اس قابل نہیں کہ نوجوان نسل کو کسی تعمیراتی عمل کا حصہ بنا سکے اور اس ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ قوم مایوس ہے اپنے مذہبی رہنما سے بھی اور نوجوان نسل کے نمائندہ رہنما سے بھی۔ قوم کو اس پر "مبارکباد ہو"۔

مزید :

کالم -