بھارت ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا تو نہ کھیلے ، پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ، شاہد آفریدی

بھارت ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا تو نہ کھیلے ، پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ، ...

  

 لاہور(اے پی پی)قومی ٹی 20 کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتا تو نہ کھیلے ہمیں اس کے پیچھے بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا منیجر رضا راشد کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے بھارت کو کئی بار کھیلنے کی دعوت دی ہے لیکن اگر وہ نہیں کھیلنا چاہتا تو ہم دنیا کی دیگر ٹیموں کے ساتھ کھیل کر خوش ہیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں بھارت کا ساتھ دیا اور ہمیشہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا ہے۔ پاکستان میں بھارت کے ساتھ ہونے والی آخری سیریز میں جس طرح بھارتی ٹیم کو خوش آمدید کیا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ پاک بھارت سیریز میں اصل مسئلہ بھارتی حکومت کا ہے ، پتہ نہیں بھارتی حکومت کیا فیصلہ کرنا چاہتی ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے شائقین دونوں ملکوں کے مابین کرکٹ سیریز کا انعقاد چاہتے ہیں اور اگر پاک بھارت سیریز ہو تو یہ ایشز سے بڑی سیریز ہوگی ۔شاہد آفریدی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ زمبابوے کی ٹیم سمیت دنیا کی کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں سمجھتے اور خاص طور پر ٹی 20 میچز میں تو ایک دفعہ گیم ہاتھ سے نکل جائے تو کم بیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ زمبابوے کی ٹیم اچھا پرفارم کررہی ہے اور پاکستان میں زمبابوے کے خلاف ہونے والی سیریز میں بھی ہماری ٹیم ان کے خلاف آسانی سے نہیں جیتی تھی ۔ زمبابوے کے خلاف دو نوں ٹی 20 میچز اچھے ہوں گے اور ٹیم کو ورلڈ ٹی 20 سے قبل پریکٹس کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی نے زمبابوے کے خلاف نئے لڑکوں کو چانس دے کر اچھا فیصلہ کیا ہے اور ابھی حال ہی میں راولپنڈی میں ہونے والے ڈومیسٹک ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ میں کئی اچھے کھلاڑی سامنے آئے ہیں انہیں بھی چانس ملنا چاہئے۔ نئے لڑکوں میں عمران ، نعمان ، آصف اورافتخار اچھے کھلاڑی ہیں، عمران سلو بال زبردست کراتا ہے جبکہ افتخار اچھا ہٹر ہے۔ ٹی 20 ٹورنامنٹ کا سٹینڈرڈ پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔

انور علی کو فٹنس مسائل کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف اے ٹیم کے سائیڈ میچز کھیلنا چاہتے ہیں اور انہوں نے سلیکشن کمیٹی کو اس سے آگاہ کردیا ہے ۔ورلڈ ٹی20 سے قبل ہمارا اچھا کمبی نیشن بن جائے گا ۔ شاہد آفریدی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر پی سی بی کو کریڈٹ دیا جانا چاہئے لیکن جس طر ح زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں ہمارے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی تھی اور کرکٹ کی بحالی اسی وقت اچھی ہوتی جب ہماری کرکٹ ہمارے ملک میں ہی ہوتی۔ اس طرح اگر پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں ہوتا تو سونے پہ سہاگہ ہوجاتا۔ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی ہمارے ملک میں آتے ہیں کہ نہیں لیکن پی ایس ایل کے پاکستان میں انعقاد سے ہمارے گراؤنڈ آباد ہوجاتے اور ہمارے کھلاڑیوں کو فائدہ ہوتا تاہم ایسی بات بھی نہیں ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی ہمارے ملک میں نہ آئیں۔ میری چند کھلاڑیوں سے بات ہوئی تھی اور وہ کھیلنے کے لئے تیار ہیں۔ انہیں اچھی پیشکش ہو تو وہ ضرور پاکستان میں کھیلیں گے۔ ہمارے ملک میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپاٹ فکسنگ میں سزا پانے والے کھلاڑی سلمان بٹ سے ملاقات میں اسے مشورہ دیا کہ کرکٹ کھیلو تاہم اپنی غلطی کو محمد عامر کی طرح پہلے تسلیم کرلیتے تو بہترتھا۔سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے کم بیک کرنے کے بارے میں پی سی بی ہی فیصلہ کرسکتا ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -