نجی سکولوں کا پورا ضابطہ طے کیا جائے

نجی سکولوں کا پورا ضابطہ طے کیا جائے

  

نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے فیسوں میں زبردست اضافے کے بعد والدین نے احتجاج کیا تو حکمرانوں کو بھی ہوش آ گیا۔ وزیراعظم نے نوٹس لیا۔ چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کو بلایا، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔سندھ حکومت نے مذاکرات کی راہ اپنائی اور 10 فیصد تک اضافے پر رضامندی ظاہر کرکے اجازت دے دی ،جبکہ نجی سکولوں کے مالکان کی تنظیم نے کمی کا مطالبہ مسترد کر دیا اور انہوں نے عدالت سے رجوع کر لیا یوں یہ تنازع بن گیا ہے۔تعلیم کے شعبہ سے متعلق طویل عرصہ سے بحث جاری ہے۔ مُلک میں کئی نصاب ہیں اور مختلف النوع تعلیمی ادارے ہیں جن میں کورس بھی بیرونی پڑھائے جاتے ہیں۔ نجی سکول او لیول اور اے لیول کے کورس بھی کراتے ہیں۔ تعلیمی شعبہ میں سرکاری اور مِشنری تعلیمی ادارے مربوط ہیں، جبکہ نجی اداروں میں باقاعدہ گروپ بن چکے اور پھر گلی گلی کوچے کوچے یہ ادارے پھیلے ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر کا کوئی معیار بھی نہیں اکثر تو کرائے کی چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں ہیں، ان سکولوں کی کامیابی کا باعث ان کا معیار نہیں، سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی ہے، ماضی میں آبادی کم تھی ،تو یہ وبا بھی نہیں تھی۔ سرکاری اداروں کے مقابلے میں یا تو مِشنری ادارے اوریا پھر انجمن حمائت اسلام جیسی تنظیموں کے سکول اور کالج تھے جو رفاہی اور خدمت خلق کے نقطہ ء نظر سے چلائے جاتے تھے۔ آج اگر یہ شعبہ تجارت بن گیا ہے تو اس کی وجہ بھی سرکاری اداروں کی کمی ہے، حالانکہ تعلیم آئینی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے۔اب اگر فیسوں کے اضافے کی وجہ سے یہ مسئلہ سامنے آ ہی گیا ہے، تو حکومت کو بات صرف فیسوں کی حد تک نہیں رہنے دینا چاہئے، بلکہ مجموعی طور پر تمام مسائل کا احاطہ کرکے ایک ہی بار اب بنیادی اصول طے کر دینا چاہئیں، اس میں نصاب کا تعین، اداروں کی عمارت، تعلیمی ضروریات اور کھیلوں کے میدانوں تک کی بھی گنجائش ہونا چاہئے اور اِسی حوالے سے فیس بھی طے ہو۔ تاہم اصل ضرورت تو یہ ہے کہ خود سرکار اپنے تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے، معیار تعلیم اعلیٰ ہو اور ضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے تعمیر کرنے کے ساتھ پہلے سے موجود اداروں کی عمارتیں اصل حالت میں لائی جائیں۔

مزید :

اداریہ -