قومی زبان

قومی زبان
قومی زبان

  

اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کے حوالے سے سپریم کو رٹ کے فیصلے کے بعد مُلک بھر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس فیصلے کو لے کر بحث و مبا حثے کا سلسلہ جاری ہے۔ 12سال پرانی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نہ صرف اردو کو سرکا ری سطح پر نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے،بلکہ اس حوالے سے 9ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ان رہنما اصولوں میں فوری طور پر آئین کے آرٹیکل 251کو نافذ کرنے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے تعادن کرنے، 3ماہ میں قومی اور صوبائی قوانین کا قومی اور صوبا ئی زبانوں میں ترجمہ کرنے، مقابلے کے امتحانات کو قومی زبان میں کرنے کے لئے حکومت کو اقدامات اٹھانے،مفاد عامہ پر مبنی فیصلوں کو اُردو میں ڈھالنے، سرکاری محکموں کو عدالتی سوالوں کے جوابات اُردو میں دینے کا پابند بنا نے،جیسے نکات شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے ان رہنما اصولوں کو دیکھنے سے پہلے ضروری ہے یہ دیکھا جائے کہ یہ فیصلہ کس حد تک قابل عمل ہے اور کس حد تک نہیں اور اس فیصلے کا عملی اطلاق کیا ہمارے سماج، معیشت، تعلیم، ریاستی اور انتظامی اداروں ، عدا لتی کارروائیوں، ادب اور جمالیات کے لئے کسی قسم کی بہتری لے کر آئے گا یا نہیں؟ان سوالوں کے جواب کے لئے ہمیں بعض حقائق کو سامنے رکھنا ہو گا۔

سب سے پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ آج دُنیا بھر میں زبان اور ماہرین لسانیات کی اکثریت کا اس امر پر اتفا ق ہے کہ کسی بھی انسانی دماغ کے لئے ایسے علوم کو اس زبان میں سمجھنا زیادہ آسان ہوتا ہے جس زبان میں اس انسان کا دماغ سوچتاہے یا خواب دیکھتا ہے، بلکہ علم کے کسی بھی شعبے میں چا ہے وہ سائنسی علوم ہوں یا سماجی ان میں زیادہ بہتر تخلیق بھی ایسی ہی زبان کے ذریعے کی جا سکتی ہے جس زبان میں تخلیق کار سوچتا ہے۔آج پاکستان میں کتنے فیصد آبادی ایسی ہے جو انگریزی میں سوچتی ہے اور کتنے فیصد آبادی ایسی ہے جو اُردو یا اپنی علاقائی زبانوں میں سوچتی ہے؟ یقیناًپاکستان میں اشرافیہ یا اس کے مرہون منت طفیلی طبقات کو نکال کر پاکستان کی واضح اکثریت اُردو یا اپنی علاقائی زبانوں میں ہی سوچتی ہے۔ اس نکتہ پر اتفاق کے بعد اب ہم ماہرین لسانیات کے اس نکتہ کی جانب رجوع کرتے ہیں کہ کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے کئی بنیادی شرائط ہوتی ہیں، اور کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے سب سے بڑی شرط یہی ہوتی ہے کہ یہ زبان معاشی ترقی میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک معاون کا سا کردار ادا کرے۔کیا پاکستان میں اُردو یا کوئی بھی اہم علاقائی زبان معاشی ترقی کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے؟ یقیناًنہیں۔

دراصل پاکستان میں زبان کا مسئلہ طبقاتی اور ایک حد تک تہذیبی بھی ہے۔ بر طانوی سامراجی مفادات کے لئے تخلیق کی گئی ہماری بیوروکریسی کا ڈھا نچہ آج بھی ایسا ہی ہے یہ کسی بھی طور اپنے آپ کو ’’عامیوں‘‘ کے ساتھ ملانے یا ان سے کسی بھی قسم کا تہذیبی یا ثقا فتی تعلق قائم نہیں رکھنا چاہتی۔بیورو کریسی جانتی ہے کہ انگریزی زبان ہی اس کی حکمرانی کا سب سے اہم ستون ہے ۔اگر یہ ستون ہی گر گیا اور ان کو عوام کی زبان اختیار کرنا پڑ گئی، تو اس دن ان کا آدھا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ایسے لبرل دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کی جانب سے بھی اعتراض کیا جا رہا ہے جن کی ’’دانشوری کی دکان‘‘ ہی اعلیٰ پائے کی انگریزی لکھنے یا بولنے سے چل رہی ہے۔ ایسے تجزیہ نگاروں کے،مطابق علاقائی زبانیں تو دور کی بات ، اُردو زبان میں بھی یہ صلاحیت نہیں کہ ان کے اندر سائنسی اور سماجی علوم کی اہم اصطلاحات کا ترجمہ ہو سکے۔اس دعویٰ کو پرکھنے کے لئے ہمیں تاریخ سے رجوع کر نا ہو گا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستانیوں کی جانب سے اتنی بڑی بغاوت کے اسباب جاننے کے لئے ایک کمیشن بٹھایا تو اس نے تین جلدوں پر مشتمل ’’انڈین میوٹنی رپورٹ‘‘ جاری کی۔اس رپورٹ میں بغاوت کے بہت سے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی بتایا گیا کہ زبان کا فاصلہ ہونے کے باعث بھی ہندوستانیوں کو انگریزوں کا اقتدار بالکل اجنبی معلوم ہوا۔

اِسی رپورٹ کی روشنی میں جہاں ایک طرف سول سروس اور فوج میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جانے لگا تو وہیں دوسری طرف ہندوستان میں اپنے طفیلی طبقات کو انگریزی سے اچھی طرح روشناس کروانے تک انگریزی سرکار نے تیزی سے اس وقت بنائے گئے قوانین کا اُردو میں ترجمہ کروانا شروع کر دیا۔یہ ذمہ داری ڈپٹی نذیر احمد کو دی گئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فوجداری،دیوانی اور تعزیرات ہند کے قوانین کا بھی اُردو میں ترجمہ کر دیا گیا یہاں اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ اگر اُردو میں یہ صلاحیت نہ ہوتی کہ سماجی علوم کا اس میں ترجمہ کیاجا سکے تو یقیناًانگریز اس کام میں ہا تھ ہی نہ ڈالتا۔ اِسی طرح عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن میں ڈاکٹر عثمان نے ایک سو سال پہلے تمام سائنسی اور میڈیکل کتب کا اُردو میں ترجمہ کر وایا ۔یہ تمام مضامین اُردو میں پڑھائے جا تے رہے۔حتیٰ کہ ایم بی بی ایس کے امتحانات بھی اُردو میں ہوتے رہے اس کا مطلب ہے کہ اُردو میں یہ صلاحیت ہے کہ اس میں اہم سائنسی اور سماجی علوم کو سمویا جا سکتا ہے۔دفتری اصطلاحات کے اُردو ترجمہ کا بہت سا کام قیام پاکستان کے ابتدائی 15,20سال میں کر لیا گیا تھا، میٹرک، ایف اے ایف ایس سی کے کئی مضامین بھی اُردو زبان میں ترجمہ کے ساتھ تیار ہو چکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انگریزی اتنی زیادہ ترقی یافتہ زبان ہے جس میں آئے دن سائنسی اور سماجی علوم کی نئی نئی اصطلاحات اور الفاظ داخل ہو رہے ہیں۔ ان کو اُردو میں ڈھالنا ایک جنا تی کام سے کم نہیں ۔تاہم اگر ان نئی اصطلاحات کو جرمن، فرانسیسی، ہسپانوی، عربی، فارسی، روسی اور چینی میں ڈھالا جا سکتا ہے تو اُردو میں کیوں نہیں۔مقتدرہ قومی زبان کو بھی ماضی کی طرح اختیارات دینے سے بہت سا کام آسان ہو سکتا ہے۔گجرات یونیورسٹی (پنجاب) واحد پاکستانی یونیورسٹی ہے جہاں پر باقاعدہ علوم ترجمہ کا شعبہ بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ ترجمہ ایک کورس کے طور پر بہت سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جا تا ہے،مگر یہاں علوم ترجمہ کے مضمون میں ڈگری کورسسز شروع کئے گئے ہیں۔ علوم ترجمہ بہت سے ترقی یا فتہ ممالک میں ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ اِسی طرح اب ’’مرکز تحقیقات لسانیات‘‘ Center for Language Engineering (CLE) کے باعث اُردو لغت کی بائیس جلدوں کو انٹرنیٹ پر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

مسئلہ اُردو یا ہماری علا قائی زبا نوں کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ ہمارے حکمران طبقات کی نیت کا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزی بھی تو شروع میں Anglo-Saxons قبیلوں کی ہی زبان تھی۔ چھ سو سال پہلے اس زبان کو بھی ’’عا میوں‘‘ کی زبان تصور کیا جا تا تھا، مگر آج اس زبان کو عالمگیر حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اُردو زبان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستانیوں کی اکثریت نے واضح طور پر سراہا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر اگر مکمل دلجمعی کے ساتھ عمل نہ کیا گیا تو اس سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ اُردو کے نفاذ کی با ت کی جا رہی ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں بھی اُردو کو اپنا نے کی با ت کی گئی تھی، مگر ایسا صرف علا متی طور پر ہی کیا گیا۔ ایک طرف سرکا ری سکولوں میں اُردو کا نفاذ کر کے مضامین کو اردو زبان میں کر دیا گیا تو دوسری طرٖف مقابلے کے امتحانات، اعلیٰ ریا ستی نو کریاں اور معاشی و کاروباری ترقی انگریزی سے ہی وابستہ رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غریب کا بچہ اُردو میڈیم کے سرکاری سکولوں میں پڑھ کر نوکریوں سے محروم اور غریب ہی رہا، جبکہ امیر کا بچہ پرائیویٹ انگریزی سکولوں میں پڑھ کر زندگی کی ہر دوڑ میں اُردو میڈیم بچے سے آگے نکل گیا ۔یوں اس منافقانہ رویہ نے مزید طبقاتی مسائل پیدا کر دےئے۔اب بھی اگر سپریم کو رٹ کے اس فیصلے کو من وعن نافذ کرنے کی بجائے محض علامت کے طور پر ہی اپنایا گیا اور معاشی ترقی، سرکاری نوکریاں اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہی ہوتے رہے تو اس سے پرائیویٹ انگریزی تعلیمی اداروں اور کیمبرج سکول سسٹم میں پڑھنے والے امیروں کے بچے سرکاری اُردو میڈیم میں پڑھنے والے غریبوں کے بچوں کو یوں ہی ٹھوکریں مار کر آگے نکلتے رہیں گے۔ *

مزید :

کالم -