شہباز کی شوبازیاں

شہباز کی شوبازیاں
شہباز کی شوبازیاں

  

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو ان کے مخالفین ’’شُوباز‘‘ بھی کہتے ہیں۔ شہبازشریف جس طرح کی ’’شُوبازیاں‘‘ کرتے ہیں، اس طرح کی ’’شُوبازیاں‘‘ اگر پنجاب اور دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ بھی کرتے تو آج پاکستان کے حالات کچھ اور ہوتے۔ شہبازشریف ’’جن‘‘ قسم کے بندے ہیں اور اپنی حرکات و سکنات سے بھی وہ جن ہی معلوم پڑتے ہیں۔ آرام نام کی کسی شے سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ صبح لاہور تو دوپہر کو اسلام آباد پائے جاتے ہیں۔ اسلام آباد سے ملتان کی طرف پرواز پکڑیں تو براستہ چین اور ترکی ہی ملتان پہنچتے ہیں، بیورو کریسی ان کے نام سے ڈرتی نہیں تو کم از کم کانپتی ضرور ہے۔بتایا جاتا ہے کہ قابل افسر کو وہ ’’چھیڑتے ‘‘ نہیں اور نااہل افسر کو وہ ’’چھوڑتے‘‘ نہیں ہیں۔ شہبازشریف پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ میٹرو اور روڈ بنانے کے چکر میں الجھے رہتے ہیں اور تو اور پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین نے بھی شہبازشریف کا نام لے کر کہا ہے کہ محض میٹرو بس سروس کے ذریعے ترقی کے خواب پورے نہیں ہوتے، بلاول نے یہ بات ایک انتہائی ٹھنڈے ٹھار قسم کے ہال میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے وہ اگر میٹروبس میں سفر کرکے دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ میٹروبس کے ذریعے کتنے لوگوں کو سفری سہولیت حاصل ہوئی ہے، مگر کیا کیا جائے، کہ بلاول کی ساری کی ساری معلومات ایسے لوگوں کی فراہم کردہ ہیں، جن کا سارا وقت اپنے اپنے ٹھنڈے ٹھار کمروں میں گزرتا ہے اور عوام سے زندگی کے مشاہدے کی جنہیں فرصت ہی نہیں ہے۔

بہرحال اس کی تمام تر تنقید کے باوجود شہبازشریف اپنے صوبے کے ترقیاتی کاموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جن دنوں میٹروبس کے روٹ پر بہت تیزی کے ساتھ کام مکمل کیا جا رہا تھا۔ شہبازشریف اس پراجیکٹ کے حوالے سے خاصے پرجوش تھے۔ وہ میٹروبس کے روٹ کو ہر حال میں 2013ء کے الیکشن سے پہلے پہلے مکمل کرنا چاہتے تھے، ان ہی دنوں کسی کام کے سلسلے میں مجھے رات کے تین بجے اچھرہ کے شمع سٹاپ جانا پڑا۔ رات کے اس پہر سڑک بالکل سنسان تھی ، البتہ صبح کے ناشتے کے لئے کہیں کہیں کوئی دکان کھلی نظر آئی۔ میں شمع سٹاپ پر پہنچا تو دیکھا کہ چند خوش لباس قسم کے افراد روٹ کے مختلف حصوں کا معائنہ کرنے میں مصروف ہیں، ان چند افراد میں سے ایک شہبازشریف بھی تھے جو سڑک کے مختلف حصوں کا معائنہ کررہے تھے۔

سڑک پر استعمال ہونے والے ’’سریئے‘‘ سے لے کر بجری تک اور سیمنٹ بھی چیک کررہے تھے، ان دنوں شمع سٹاپ اور ایل اوایس پر دو مسجدوں کے گرانے پر احتجاج ہورہا تھا۔ یہ دونوں مسجدیں سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی تھیں۔ مسجد کے امام صاحب مسجدوں کے حوالے سے خاصے غصے میں تھے ان میں سے ایک ایل او ایس کی مسجد کا رقبہ زیادہ تھا۔ لیکن شمع کے قریب والی مسجد ایک عدد کمرے پر مشتمل تھی۔ مولوی صاحب نے مسجد کے اوپر حصے پر اپنی رہائش گاہ بنائی ہوئی تھی جبکہ نچلے حصے پر دکان بنی ہوئی ، درمیان کے ایک کمرے میں مسجد تھی۔ شہباز شریف نے دونوں مساجد کی دوبارہ تعمیر کے لئے جگہ کے بندوبست کا حکم دیا۔ ایک مسجد ایل ایس او کے قریب بنائی گئی، یہ مسجد بہت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے۔ اس مسجد کو آپ لاہور کی چند خوبصورت مساجد میں شامل کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس مسجد کو دیکھنے کے لئے بھی آتے رہتے ہیں۔ دوسری مسجد شمع سٹاپ کے قریب بنائی گئی ہے۔ یہ مسجد بھی بہت خوبصورت ہے، شہباز شریف نے اسی رات دونوں مساجد کی تعمیر کا حکم دیا۔بتانا چاہتا ہوں کہ شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے لئے بہت تیزی کے ساتھ کام کررہے ہیں لیکن بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ پنجاب میں صرف میٹروبس سروس اور سڑکیں ہی بناتے جارہے ہیں سکولوں، کالجوں اور صحت کے لئے ہسپتالوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی، مجھے یہ جان کے حیرت ہوئی ہے کہ پنجاب میں میٹروبس کے علاوہ بھی بہت سے ترقیاتی کام ہورہے ہیں جن کی تشہیر شاید نہیں کی جارہی، اس حوالے سے بھی حکومت پنجاب کے مختلف اداروں کو اپنے اپنے انتظامات کے تحت کئے جانے والے کاموں کی تفصیل عوام تک پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ پنجاب حکومت کے وہ کام جو عوامی بھلائی کی خاطر کئے جارہے ہیں لوگوں کے سامنے آئیں۔

پنجاب چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں کے لوگوں کا ایک مسئلہ بیروزگاری بھی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پریشان پھر رہے ہیں، ان پڑھے لکھے نوجوانوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کوئی عام کام بھی نہیں کرسکتے۔ زیادہ سے زیادہ کسی پرائیویٹ آفس میں کلرک، پھر آفس میں کسی دوسرے کام کے لئے کوئی نہ کوئی نوکری تلاش کرلیتے ہیں، لیکن زیادہ تر نوجوان بیروزگاری کی وجہ سے پریشان بھی رہتے ہیں، سو ان نوجوانوں کو اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے بعض لوگ اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں اور یوں ایک پڑھا لکھا نوجوان منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتا ہے اس حوالے سے کافی سوچ بچار کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے بیروزگاری کے خاتمے کے لئے فنی تعلیم کو اہمیت دی، اس پروگرام کے تحت پنجاب بھر کے نوجوانوں کو فنی تعلیم کے لئے ایک ادارے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا ) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 1999ء میں ادارے کے قیام کا حکم دیا۔ وہ اس ادارے کے ذریعے پنجاب کے نوجوانوں کی قسمت بدلنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن بدقسمتی سے جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور شہباز شریف خاندان سمیت جلاوطن کردیئے گئے، گو کہ شہباز شریف کے بنائے گئے اس ادارے کو کام سے تو نہ روکا گیا لیکن اس کی رفتار میں کمی آگئی ، اور وہ نتائج سامنے نہ آسکے جن کی توقع تھی۔

2008ء میں دوبارہ وطن واپسی اور اس ادارے کے مقاصد کو جلد ازجلد حاصل کرنے کے لئے شہباز شریف نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ادارے کے کام کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دراصل شہباز شریف نے اس ادارے کے قیام کے سلسلے میں اس بات کو بنیاد بنایا کہ ہر سال ہزاروں طلبہ وطالبات اپنی تعلیم مکمل کرکے بہتر مستقبل کے لئے مختلف اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، سو پنجاب کے نوجوانوں کو ملک اور ملک سے باہر اپنی صلاحیتوں کو آزمانے اور مختلف خاندانوں کو مالی طورپر آسودہ کرنے کے لئے فنی تعلیم کی بہت ضرورت ہے یہ ادارہ اس وقت سالانہ دو لاکھ کے قریب نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تعلیم دے رہا ہے کہ ان نوجوانوں کو تین ماہ سے تین سال تک کا کورس کرایا جاتا ہے، الیکٹریشن، ویلڈر ، موٹرسائیکل مکینک ، بیوٹیشن ، کک۔ میسن، کارپینٹر ،موٹر مکینک اور مختلف دوسو کے قریب ہنر سکھائے جاتے ہیں اور جو فنی تعلیم یہاں دی جاتی ہے تعلیم حاصل کرنے والے نہ صرف یہ کہ پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی ملازمت حاصل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے اس وقت اندرون ملک اور بیرون ملک بھی نہ صرف پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خزانے میں بھی اضافہ کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس ادارے کے سربراہ کے طورپر قومی اسمبلی کے رکن قیصر شیخ کے فرزند عرفان قیصر شیخ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عرفان قیصر شیخ خود بھی بہت بڑے صنعت کار ہیں اور ان کا بہت وسیع کاروبار بھی ہے۔ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ نصابی تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم کے ذریعے بھی نوجوان نسل کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خواہش پر اس ادارے کو بہت فعال ادارے کی شکل میں آگے بڑھانے کے لئے دن رات کام شروع کررکھا ہے، عرفان قیصر شیخ ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ فنی تعلیم دلانے کے لئے لاہور کے علاوہ پورے پنجاب میں اس ادارے کو پھیلا رہے ہیں یہ ادارہ اس وقت پنجاب کے تقریباً تمام اہم اضلاع میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ سو امید ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی سرپرستی میں عرفان قیصر شیخ پنجاب کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے مزید کارنامے انجام دیں گے۔ *

مزید :

کالم -