ضمنی اور بلدیاتی انتخابات، اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں!

ضمنی اور بلدیاتی انتخابات، اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں!
ضمنی اور بلدیاتی انتخابات، اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں!

  

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی کے مقابلے میں نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد بن گیا، پھر انتخابی معرکہ ہوا اور پاکستان پیپلزپارٹی مجموعی طور پر جیت گئی، قومی اتحاد نے ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے دھاندلی کا الزام لگایا اور تحریک شروع کر دی، جو روز بروز قوت پکڑتی چلی گئی، کچھ بھی نہ تدبیر نے کام کیا، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی اور قومی اتحاد کے مذاکرات ہوئے۔ ان کے شروع ہونے اور اختتام پذیر ہونے کی الگ کہانی ہے،جو آج کا موضوع نہیں، اس لئے یہی بتا کر کہ 4،5جولائی کی شب کو یہ مذاکرات کامیاب ہوئے اور بقول نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) پیپلزپارٹی نے32میں سے ساڑھے 31نکات تسلیم کر لئے تھے، صرف بھٹو کے استعفے والا مطالبہ رہ گیا تھا کہ اس میں آئینی دشواری تھی، انتخاب قائد ایوان نے ہی کرانا تھے اگر بھٹو کا استعفیٰ بھی ہو جاتا، تو پھر یہاں خلا پیدا ہو جاتا تھا، اس کے باوجود جنرل ضیاء الحق نے اسی روز، اسی شب(4،5جولائی) کو بھٹو کا تختہ اُلٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا، اس کے لئے قومی اتحاد کی مجموعی لیڈر شپ کو دھچکا پہنچا تاہم ایر مارشل(ر) اصغر خان اور پیر پگارو سمیت جماعت اسلامی والے مطمئن تھے اور پھر جب جنرل ضیاء الحق نے عام انتخابات کا وعدہ کیا اور بعد میں تاریخ کا بھی اعلان کر دیا، تو قومی اتحاد نے بھی عبوری حکومت میں شرکت قبول کر لی تھی، آج کا موضوع تھوڑا مختلف ہے، اِس لئے ان واقعات سے صرف نظر کر کے آگے بڑھتے ہیں کہ5جولائی کے بعد کیا کیا ہُوا اور کس کس طرح پیپلزپارٹی کے جلوسوں پر ڈنڈے برسائے گئے، ذکر دراصل انتخابات اور اخلاقیات کا مقصود ہے، اس لئے ایسے حالات و واقعات کا ذکر بے معنی ہو گا، جو تلخ ہیں اور جن پر نہ صرف زمانے نے گرد ڈالی، بلکہ مفاہمت کی سیاست نے بھی بہت کام دکھایا۔

جنرل ضیاء الحق نے ابتدا میں اکتوبر77ء ہی میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا، اور الیکشن کمیشن نے شیڈول بھی دے دیا اور کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد انتخابی مہم بھی شروع ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، اس لئے مجموعی طور پر بڑے فریق پیپلزپارٹی اور پاکستان قومی اتحاد ہی تھے۔ لاہور کے پرانے شہر سے1977ء کے پہلے انتخابات میں سابق وزیر قانون ملک اختر ہی امیدوار تھے، تاہم مارشل لاء اور جنرل ضیاء الحق کے اس دور میں یہاں سے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ اس وقت جہانگیر بدر کو ملا جو اس وقت جیل میں تھے، ان کے خلاف جیل روڈ پر مولانا شاہ احمد نورانی (مرحوم محترم) کی پگڑی اچھالنے کا الزام لگایا گیا تھا، ان کے کاغذات نامزدگی بھی جیل ہی سے داخل ہوئے تھے، ان کے مقابلے میں قومی اتحاد کے امیدوار جناب محترم مولانا عبید اللہ انور تھے، جہانگیر بدر اور حضرت علامہ ایک طرح ہمسائے بھی تھے کہ جہانگیر کی رہائش جامع مسجد وزیر خان کے بالمقابل محلے میں تھی اور علامہ عبید اللہ انور شیرانوالہ دروازہ میں رہتے اور مکتب بھی وہیں تھا۔ جہانگیر بدر کی شہرت طالب علم لیڈر اور بھٹو کے وفادار کی تھی، تو مولانا عبید اللہ انور دینی لحاظ سے بہت محترم اور عزت دار تھے۔

جب انتخابی مہم کا آغاز ہوا، تو یہ بڑی زور دار تھی، جہانگیر بدر خود تو جیل میں تھے، اِس لئے ان کے بھائی ہی انتخابی مہم کے ذمہ دار تھے، لیکن ہوا یوں کہ جہانگیر بدر کے یونیورسٹی، محلے اور بچپن کے دوست از خود چل کر ان کی رہائش اور انتخابی کیمپ میں پہنچ گئے۔ یہ سب رضا کار تھے، اور انہی رضا کاروں میں ایک میڈیا ٹیم بھی بن گئی تھی، جو پوسٹر ڈیزائن کرتی اور ان کی انتخابی مہم کے حوالے سے بیانات بھی جاری کرتی تھی،پھر جلد ہی یہ حلقہ لاہور کا اہم ترین حلقہ بن گیا اور انتخابی مہم میں زور پیدا ہوا، پھر جلسے ہونے اور جلوس نکلنے لگے، اور یہ جلسے یقیناًبڑے زور دار ہوئے تھے، حتیٰ کہ لنڈا بازار میں جہانگیر بدر کے جلسے کی تاریخ کا تعین ہوا تو اس سے تین روز قبل مولانا عبید اللہ انور کا جلسہ وہاں ہو گیا، جو بہت اچھا جلسہ تھا، جہانگیر بدر کے کیمپ میں تھوڑی سی سراسیمگی نظر آئی اور یہ تجویز پیش کی گئی کہ دو تین روز مزید لئے جائیں، جلسے کی تاریخ بڑھا دی جائے، لیکن اس انتخابی مہم میں اثر رکھنے والے دوستوں نے اسے رد کر دیا اور اس جلسے کے لئے پبلسٹی بڑھا دی اور پھر یہ جلسہ ہوا اور قومی اتحاد کے جلسے سے کچھ بڑا ہی ہو گیا۔یہ عمومی حالات تھے اور دونوں طرف بہت جوش تھا۔5جولائی کے بعد پیپلزپارٹی کے جلوس پر لوہاری دروازہ کے باہر ڈنڈے برسے تھے، چنانچہ تصادم کا بھی خوف رہتا، لیکن دونوں طراف سے انتخابی مہم چلانے والے خبردار تھے وہ ایسی نوبت نہیں آنے دیتے تھے، جہاں کہیں کوئی تنازعہ پیدا ہوتا فوراً پہنچ جاتے اور معاملہ بحسن و خوبی رفع دفع کرا دیا جاتا۔

یہاں ایک واقعہ کا ذکرکر کے مقطع عرض کرتے ہیں کہ ایک روز اخبارات میں مولانا عبید اللہ انور سے موسوم یہ بیان شائع ہوا کہ جہانگیر بدر ایک پکوڑے بیچنے والے کے بیٹے ہیں ان کے پاس اتنے انتخابی اخراجات کہاں سے آ گئے۔ بدر کی میڈیا ٹیم کی طرف سے جواب دیا گیا کہ جہانگیر بدر کو ایک محنت کش کا بیٹا ہونے پر فخر ہے، ان کے والد نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم محنت کی کمائی سے دلائی اور آج وہ صاحبِ علم ہیں۔ حضرت مولانا اپنے ذریعہ آمدنی سے آگاہ کریں تو ان کی مہربانی ہو گی۔یہ تلخ بیان اور جوابی بیان تھا، جس روز مولانا عبید اللہ انور کا بیان شائع ہوا، اور ادھر سے جواب بھیجا گیا اُسی روز از خود مولانا عبید اللہ انور کی طرف سے سختی سے تردید کی گئی کہ انہوں نے کوئی ایسا بیان دیا،جو اخلاق پر پورا نہیں اُترتا، تو صاحبو! یہ انتخاب تو ملتوی کر دیا گیا، لیکن سخت مقابلے کے باوجود تلخی پیدا نہ ہوئی۔ اس واقع کا ذکر کر کے یہ درخواست کرنا ہے کہ اب ضمنی اور پھر بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں ان میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق سے زیادہ انسانی اقدار اور اخلاق کو پیش نظر رکھنا ہو گا کہ الیکشن تو ہوتے رہتے ہیں، ہم سب نے یہیں رہنا ہے۔ *

مزید :

کالم -