شامی مہاجرین اور سعودی عرب کی خدمات

شامی مہاجرین اور سعودی عرب کی خدمات
شامی مہاجرین اور سعودی عرب کی خدمات

  

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرین نے حال ہی میں ایک رپورٹ جار ی کی ہے ،جس کے مطابق اس وقت دنیا میں ہر 122افراد میں سے ایک شخص پناہ گزیں ہے یا اندرون ملک بے گھر یا پناہ کی تلاش میں ہے۔سال 2014ء میں جنگ اور تشدد کے باعث اندرون ملک اور دیگر ممالک میں ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد 6 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جو کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ ہے ۔ ان مہاجرین میں سے 4 کروڑ کے قریب افراد تشدد اور خانہ جنگی کے باعث اپنے ہی ملک میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ یہ تعداد 2013ء کے مقابلے میں 80 لاکھ سے زائد ہے۔اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہجرت پر مجبور افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد جنگ عظیم دوم کے دوران بے گھر افراد سے بھی زیادہ ہوچکی ہے، جن میں سے نصف سے زائد بچے ہیں۔ مہاجرین کی حالیہ تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ شام میں جاری خانہ جنگی بتائی جاتی ہے ،جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ترکی سمیت مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اورشامی مہاجرین کی تعداد افغان مہاجرین سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا کے 107 ممالک میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ افغان مہاجرین کی تعداد 25 لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق ترکی میں پناہ لینے والے شامی مسلمانوں کی تعداد رواں برس 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور یوں ترکی اس وقت پاکستان جہاں پناہ گزینوں کی تعداد انیس لاکھ کے قریب ہے‘ کو پیچھے چھوڑ کر مہاجرین کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ شام کے شہری اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بے گھر اور پناہ گزین ہیں۔بشار الاسد حکومت کے مظالم کا شکار شہری مسلسل اپنی جانیں بچانے کے لئے ہجرت کر رہے ہیں لیکن اس دوران بھی انہیں تحفظ حاصل نہیں ہے۔ امن کی تلاش میں سرگرداں شامی مہاجرین اپنے ملک سے نکلنے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر شام کی انسانیت سے عاری فوج کے اہلکار ہجرت کی کوشش پر اپنے ہی ہم وطنوں کو گولیوں سے بھوننے سے باز نہیں آتے۔ شامی بحران کے آغاز پر ہی مہاجرین نے مختلف سرحدی راستوں سے اردن پہنچنے کی کوشش کی، تاہم دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہوئے جب وہ اردنی سرحد پر پہنچتے توشامی فوج کے اہلکار مہاجرین کے قافلوں پرفائرنگ کرتے اور نئی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے۔

اردنی فوج کے ذمہ داران بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بارہا کہہ چکے ہیں کہ شامی فوج سرحد کے قریب پھیل چکی ہے اور مہاجرین کے قافلوں کو ایک ہی آن میں ختم کرنے کے لئے بسا اوقات شامی فضائیہ کو بھی ان قافلوں پربمباری کے لئے استعمال کرتی ہے۔شام میں بشارالاسد حکومت کی طرف سے اپنے عوا م پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔اس ملک کی نصف کے قریب آبادی عرب اور دوسرے ممالک میں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے لیکن بشار الاسد کی اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش ابھی تک پوری نہیں ہوئی اور شامی شہریوں پر مظالم کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ حال ہی میں عیلان کردی نامی بچے کی ساحل پر اوندھے منہ پڑی لاش کی تصاویر میڈیا پر نشر ہوئیں تو مغربی ممالک نے بھی ہمدردیاں دکھانا شرو ع کر دیں اورانہیں پناہ دینے کی باتیں کی جانے لگی ہیں‘ وگرنہ یہی ممالک درحقیقت بشار الاسد کے اندرون خانہ پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔شامی مہاجرین کے حوالہ سے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کوئی واضح کردار ادا نہیں کیا اور معنی خیز خاموشی اختیا رکئے رکھی البتہ ان دنوں بعض قوتیں منظم سازشوں ومنصوبہ بندی کے تحت امت مسلمہ کے روحانی مرکز سعودی عرب کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہیں کہ اس کی طرف سے شامی مہاجرین کو پناہ نہیں دی جارہی ،حالانکہ یہ بات سرے سے غلط ہے۔

سعودی عرب تو وہ ملک ہے ،جس نے بحران کے آغاز کے ساتھ ہی اس مسئلہ سے خالصتا دینی اور انسانی بنیادوں پر نمٹنے کی کوشش کی اور شام میں بحران پیداہونے کے بعد سے 25لاکھ شامی شہریوں کو پناہ دی۔ اتنی کثیر تعداد میں شامی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے باوجود سعودی حکومت نے اپنی خدمات کی نمائش یا میڈیا کے ذریعہ چرچا کرنے کی کوشش نہیں کی ،البتہ اب جبکہ سعودی عرب کے خلاف گمراہ کن اور بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں تو حقائق سے عاری میڈیا رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے حقائق منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ شام میں بحران پیدا ہونے کے بعد سے اب تک سعودی عرب نے اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ لاکھوں شامی مہاجرین کے ساتھ پناہ گزینوں جیسا سلوک روا نہ رکھا جائے یا ان کو محض پناہ گزین کیمپوں میں محصور نہ کردیا جائے، بلکہ ان کے وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا اور ملحوظ خاطر رکھا گیاہے۔ انہیں نقل وحرکت کی مکمل آزادی فراہم کی گئی اور ان میں سے جن لاکھوں شامی شہریوں نے سعودی عرب میں رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ان اس سب کواسی طرح باقاعدہ رہائشی پرمٹ جاری کیے گئے ہیں جس طرح دیگر غیر ملکی سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ اسی طرح انہیں تعلیم اور طبی سہولتوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے شاہی فرمان مجریہ 2012 میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ شامی طلبہ و طالبات کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ کی اجازت ہے۔

اسی حکم نامہ کے تحت سعودی عرب میں ایک لاکھ سے زائد شامی طلبہ وطالبات سعودی عرب میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ شام میں انسانی سانحہ کے بعد سعودی عرب کی کاوشیں محض اپنے شامی بھائیوں کو پناہ دینے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اردن، لبنان اور دوسرے پڑوسی ممالک میں پناہ لینے والے لاکھوں شامی بھائیوں کی ضروریات زندگی بہتر بنانے کے لئے میزبان حکومتوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پربڑے پیمانے پر امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی امدادی اداروں اور تنظیموں کو بھی مسلسل امداد فراہم کی جارہی ہے، تاکہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔سعودی عرب کی خدمات کا اعتراف کویت میں 31 مارچ 2015 کو ہونے والی تیسری بین الاقوامی عطیہ دہندگان کانفرنس میں بھی کیا گیا اور شامی مسلمانوں کو اب تک 700 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی امداد میں خوراک، صحت، رہائش و تعلیم شامل ہے اور صحت کے میدان میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں سعودی کلینک قائم کئے گئے ہیں جن میں سر فہرست "زعتری کیمپ" ہے جو اردن میں واقع ہے۔ سرحدی چوکیوں پر قائم کیمپوں میں بھی اللہ تعالی کے فضل وکرم سے سعودی عرب نے جراحی کی سہولیات، ویکسین کی فراہمی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔

برادر اسلامی ملک کی طرف سے لبنان اور شام میں امداد کے مستحق محصور خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی پناہ دینے کی مہم کا آغاز کیاگیاہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب ہمیشہ برادر شامی مسلمانوں کی امداد کے لئے سب سے آگے رہا ہے اور اسے اس انسانی المیہ کا ہمیشہ احساس رہے گا‘ یقیناًاس بات میں کسی بھی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ مسلمانوں کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے بعض قوتیں جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ بظاہر شامی مسلمانوں کے لئے ہمدردی کا اظہار کرنے والی یہ قوتیں خود تو اندرون خانہ بشار الاسد حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں اور سعودی عرب جیسے محسن ملک اگر اپنے مظلوم بھائیوں کی امداد کر رہے ہیں تو انہیں بھی ا س عظیم عمل سے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اتحادویکجہتی کے ذریعہ اسلام دشمن قوتوں کے اس مذموم پروپیگنڈا کا توڑ کیا جائے اور شامی مسلمانوں کی دل کھول کر امداد کی جائے، تاکہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔

مزید :

کالم -