اینگرو فوڈز ترنگ کے زیر اہتمام فلم "جوانی پھر نہیںآنی "کے گانے کی رونمائی

اینگرو فوڈز ترنگ کے زیر اہتمام فلم "جوانی پھر نہیںآنی "کے گانے کی رونمائی

  

لاہور(پ ر)اینگرو فوڈز ترنگ نے گزشتہ رات ایک رنگا رنگ تقریب رونمائی کا انتظام کیا جس میں بیتابی سے انتظار کیے جانے والی پاکستانی فلم کے ایک گانے کی رونمائی کی گئی۔اینگرو فوڈز نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی فلم انڈسٹری کی حمایت اور ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور عنقریب نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم کے گیتوں میں سے ایک خوش گوار گیت کو سپانسر کرکے مقامی صنعت سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس گانے میں مہندی کی تقریب دکھائی گئی ہے جس میں ایک جشن کا سا سما ہے اورگانے میں شرکا کو ترنگ سے بنی چائے سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا ہے جبکہ گانے کے بول 'جوڑ' کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح جس طرح ترنگ کا چائے سے جوڑ بیان کیا جاتا ہے۔پاکستان کے صف اول کے اداکاروں پر مشتمل اس مزاحیہ کامیڈی کی ہدایت کاری کے فرائض ندیم بیگ نے سر انجام دئیے ہیں۔ یہ نغمہ فلم میں اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب فلم میں ہونے والے واقعات کے تسلسل بلآخر کھل جاتے ہیں۔ چار منٹ کے دورانیہ پر مشتمل اس نغمے کا نام لگن کی ترنگ ہے۔ اس کو اے آر وائی فلمز اور سکس سگما نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں ہمایوں سعید کو سوہائی ابڑو کے ساتھ مہندی کی تقریب میں ناچتے دکھایا گیا ہے۔'جوانی پھر نہیں آنی' چار دوستوں کی کہانی ہے جب چاروں اپنی روز مرہ کی زندگی سے بے زار ہوکر بوائز ٹرپ پر نکل پڑتے ہیں۔ اس فلم کو تھائی لینڈ اور پاکستان میں عکس بند کیا گیا ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں فلم کے پروڈیوسر ہمایوں سعید، احمد بٹ، حمزہ علی عباسی اور واسع چودھری شامل ہیں۔ترنگ کے گیت کو کراچی میں فلمایا گیا ہے اور اس گیت کی رونمائی اور خصوصی نظارہ اینگرو فوڈز کی طرف سے کی گئی ایک رنگا رنگ تقریب میں پیش کیا گیا۔ اس تقریب میں پرجوش سامعین کو نہ صرف خصوصی نظارہ دیکھنے کو ملا بلکہ فلم کی کاسٹ سے رو برو ملاقات کا بہترین موقع ملا۔ فلم 23 ستمبر کوملک بھرکے سنیماؤں میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوے سلمان علی، جنرل مینیجر ترنگ بیوریج اینڈ میڈیا نے کہا کہ ترنگ نے ہمیشہ مقامی صنعت اور سنیما کو سپورٹ کیا ہے اور جب مقامی فلمی صنعت زوال پذیر تھی تب بھی ترنگ نے ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس کے علاوہ ترنگ نے مزید اقدامات کیے ہیں جیسے ایچ بی کے ٹی کے دو سیزن۔ اب میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ان سیزن میں کامیاب ہونے والے اب ٹی وی اور فلم میں اپنے ٹیلنٹ دکھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترنگ کا مقصد صرف مقامی صنعت کی ہی بہتری نہیں بلکہ ٹیلنٹ کوبھی مواقع دینا ہیں۔سالوں سے ترنگ لولی ووڈ کی بحالی کے لیے کوشاں ہے جیسے ٹی وی پروگرام "ہیرو بننے کی ترنگ" جس نے انڈسٹری میں نئے چہرے متعارف کروائے اس سے قبل 2013 میں ترنگ نے پاکستان فلمی صنعت کے سنہرے دور کی اچھے کامیاب سپر ہٹ فلموں کی رونماء کی جن کو جدیدطریقے سے دوبارہ فلمایا گیا تھا۔ ترنگ ہاؤس فل اپنی طرز کی ایک منفرد اورپہلی کمپین تھی۔

ان فلموں کو ان کی مقبولیت، ان کی گیت اور کہانی کی بنیاد پر سلیکٹ کیا گیا جنھیں آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔

مزید :

کلچر -