سی اینڈ ڈبلیو میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں میں کروڑوں کی بے ظابطگیوں کا انکشاف

سی اینڈ ڈبلیو میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں میں کروڑوں کی بے ظابطگیوں ...

  

لاہور (شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو میں سٹرکوں کی تعمیر ومرمت کے منصوبوں میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے۔ سی اینڈڈبلیو پنجاب کو ہر سال صوبے میں سٹرکوں کی مرمت اور توسیع کی مد میں اربوں روپے کے فنڈز دیئے جاتے ہیں تاکہ جو سٹرکیں خراب اور خستہ حال ہیں ان کی مرمت کی جاسکے اور جہاں ضرورت ہو سٹرکوں کی مناسب توسیع کی جاسکے ۔ لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ محکمے کے انجنئیران فنڈز کا اکثر اوقات غلط اور بے جا استعمال کرتے ہیں۔ایک ہی سٹرک کی مرمت کا کئی کئی بار تخمینہ دیا جاتا ہے۔اور کہیں معمولی مرمت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ تو کہیں معمولی مرمت کے بعد سٹرک کو اوکے کردیا جاتا ہے۔ اور سب سٹینڈرڈ مٹیریل استعمال کیا جاتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران جنوبی پنجاب کے علاقوں بہاولپور اور رحیم یارخان میں سٹرکوں کی توسیع اور مرمت کے نام پر کروڑوں روپے کی مبینہ خورد بر دکی گئی ہے۔ایگزیکٹو انجنئیر سہیل اکرم اور میاں اظہر نے بہت سے ایسے منصوبوں میں ادائیگیاں کی ہیں۔ جو محض ریکارڈ کا حصہ ہیں اور عملی طورپر سٹرکوں کی حالت بدستور خستہ اور مخدوش ہے۔محکمے کی طرف سے محسن شکور یہاں سپرنٹنڈ نٹ انجنئیر مقرر کئے گئے ہیں۔ لیکن ان کا سپروائزری کردار انتہائی کمزور ثابت ہوا اوروہ چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی بجائے اپنے ماتحت انجنئیروں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سٹرکوں کی تعمیر و توسیع اور ری سرفسنگ میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور بوگس منصوبوں کی شکایات کے باوجود محسن شکور ، سہیل اکرم وغیرہ کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔ذرائع کے مطابق بہاولپور اور رحیم یارخا ن میں سٹرکوں کی ری سرفسنگ میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور مرمت و توسیع کی حامل سٹرکوں پرسب گریڈ ، گریڈ ، سب بیس اور بیس پر طے شدہ معیار کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اور نہ ہی لک(بچومن )کے استعمال پر اس کی پرسنٹیج کو مد نظر رکھا گیا ہے۔بلکہ بعض علاقوں میں منظور شدہ ریفائنریوں کی بجائے سمگل شدہ ایرانی لک بھی استعمال کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ایگزیکٹو انجنئیر سہیل اکرم اس سے قبل جھنگ کے علاقے میں مختلف ٹول پلازوں سے ٹال ٹیکس کے طورپر اکٹھی ہونے والی رقم کا بڑا حصہ بھی خورد برد کرتے رہے ہیں۔اور بھوانہ برج کی تعمیر میں بھی ان کے خلاف ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ لیکن سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ نے صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات کی گڈ بک میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہ کی۔یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ سہیل اکرم فیلڈ میں رہنے کی بجائے آئے روز لاہور میں موجود ہوتے ہیں۔اور سیکرٹری آفس پائے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ایکسین بہاولپور سہیل اکرم نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیااور کہا کہ وہ پوری ایمانداری سے فرائض انجام دیتے ہیں۔جبکہ ان الزامات پر سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ہائی ویز بہاولپور محسن شکور کا کہناتھاکہ وہ معاملے کی چھا ن بین کرینگے۔

مزید :

صفحہ آخر -