زرداری کی تضیحک کرتے عمران خان نے وزیراعلٰی کی حمایت کر دی

زرداری کی تضیحک کرتے عمران خان نے وزیراعلٰی کی حمایت کر دی

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

  قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے دھرنے کے بعد پھر سے میدان میں ہیرو بنے ہیں تو اے این پی کے صدر اسفند یارولی نے بھی انہی کے موقف کی تائید کی یوں دونوں کے بیانات سے وزیراعظم محمد نوازشریف کی تعریف ہوئی اور ان کی حمایت کا تاثر مضبوط ہوا ہے۔ خورشید شاہ، اسفندیارولی اور مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تو کوئی شک نہیں کیا جا سکتا لیکن حیرت تو تحریک انصاف کے عمران خان پرہے جنہوں نے اپنی طرف سے کی تو مخالف لیکن ایک پہلو سے وزیراعظم کی حمایت نکل آئی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری تو گرفتاری (احتساب) سے ڈر کر دوبئی جا کر چھپ گئے اور وزیراعظم پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ خود عمران خان بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ وزیراعظم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یوں ایک لحاظ سے وہ بھی حمائتی ہی نکلے ہیں۔

صورت حال یہ ہے کہ سید خورشید شاہ بہت کھل کر بولے اور انہوں نے سیاسی قائدین کے کارنامے بھی گنائے ہیں اور کرپشن کی ذمہ داری آمریت پر ڈالی ہے وہ بڑے سیانے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ہونے والے سوالات، اعتراض اور ان کے خوف کا بھی ازالہ کیا اور کہا میں ان کی حمایت کیوں نہ کروں اور ان کی تصویروں اور شہرت سے کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ شاہ جی پہلو بچا کر بات کرتے ہیں، اسفند یار ولی بھی سمجھدار ہی ہیں جو اب بے گھروں کی واپسی اور فاٹا کے حوالے سے اپنے موقف پر زور دے رہے ہیں فاٹا کے منتخب نمائندے تو الگ صوبہ مانگ رہے ہیں جبکہ عمران خان نے اسے خیبرپختونخوا صوبے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے، یوں ایک مسئلہ سے کئی اور مسئلے پیدا ہو رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ قائدین مسائل پر بات کررہے ہیں، انہی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ کا تازہ ترین بیان بھی قابل غور ہے ان کے مطابق خان آف قلات اور براہمداغ بگتی کی وطن واپس آکر قومی دھارے میں شامل ہونے کی شرائط پر غور ہو رہا ہے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اپیل کر دی کہ گوادر بلوچستان حکومت کے حوالے کیا جائے۔ مقصد بلوچستان سے ہی ملحق و منسلک ہے تو اسے صوبے کا حصہ ہونا چاہیے، یہ ایک نئی تبدیلی ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک قوم پرست رہنما ہیں، ان کی آدھی مدت دسمبر میں پوری ہونے والی ہے اور معاہدے کے مطابق وہ وزارت اعلیٰ سے سبکدوش ہو جائیں گے اور نیا وزیراعلیٰ مسلم لیگ(ن) سے ہوگا یہ معاہدہ ہے، تاہم ڈاکٹر عبدالمالک کے حالیہ رویے اور بیانات سے تو یہ تاثر نہیں بنتا کہ وہ دسمبر کے بعد بھی متمکن رہنا چاہتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے حوالے سے بوجوہ چند روز سے گریز تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ پارٹی کو اپنے انداز ہی سے چلائیں گے۔ مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل غیر فعال ہے۔ چیدہ چیدہ مقرب لوگ بلا کر مشاورت کی جاتی ہے، لیکن واضح پالیسی نہیں دی جاتی۔ اب بھی یہی کہا گیا کہ فرینڈلی اپوزیشن کا رول ختم کیا جائے لیکن ساتھ ہی جمہوریت کے استحکام کے نام پر پارلیمنٹ اور حکومت کی آئینی میعاد پوری کرنے کی بھی سعی کی جا رہی ہے۔آصف علی زرداری دوبئی میں مقیم ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں جو محنت کی وہ اب پھر نظروں سے اوجھل ہو رہی ہے۔

مسئلہ احتساب کا ہوگیا، حتیٰ کہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی صوبے میں احتساب کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا اور قانون بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہم خود احتساب کریں گے وفاق کیوں؟

مزید :

تجزیہ -