ہال آف فیم پاکستان ۔۔ ایک خوبصورت اضافہ

ہال آف فیم پاکستان ۔۔ ایک خوبصورت اضافہ

  

ایک دفعہ پھر دہشت گردوں نے ہمارے شیر جوانوں کو للکارا ہے۔ ساری قوم کو شہداء پر فخر ہے۔ یہ وہ بہادر سپوت ہیں جو پوری قوم کے سپوت ہیں۔ دہشت گردی کا ہر واقعہ ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ ہم متحد ہوتے ہیں۔ دشمن اپنی شکست کو مزید قریب کر لیتا ہے۔ ہمارے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔ اور یہ یقین مزید مستحکم ہو جا تا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ اور یہ دہشت گرد ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ہمارے فوجی جوان ہر دفعہ جرات و بہادری کی ایسی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ کہ قوم کا سر فخر سے بلند ہو جا تا ہے۔

پاکستان کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا دہشت گرد ی کے واقعہ سے خطرہ نہیں ہے۔ ہم اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں سب سے بڑا خطرہ ان قوتوں سے ہے جو پاکستان کے اندر رہ کر ہر وقت پاکستان کے بارے میں منفی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو ہر وقت پاکستان کے تاریک مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں کچھ بھی ایسا نہیں ہو رہا۔ لیکن گزشتہ روز صبح دہشت گردی کے واقعہ نے دن کا آغاز ہی غمگین کر دیا۔ دن بھر شہادتوں کی وجہ سے افسردگی چھائی رہی ۔ لیکن شام کو ہال آف فیم کتاب کی تقریب رونمائی نے دل کو حوصلہ دیا۔ اس کتاب میں آٹھ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ان نامور ستاروں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے پاکستان کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دئے ہیں۔ یقیناًیہ کتاب آج کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو اپنے لیجنڈز ۔ آئیکونز۔ اور ہیروز کے بارے میں بتانا ہو گا۔ تا کہ وہ بیرونی لیجنڈز آئیکونز۔ اور ہیروز کی بجائے اپنے لوگوں کو جان سکیں۔ آج مغرب اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی میڈیاء یلغار نے ہماری نئی نسل کی سوچ اور فکر کو یر غمال بنا لیا ہے۔ ان کے ہیروز بھی وہیں کے ہیں۔ اور وہ اس میڈیا یلغار کی وجہ سے بھارت اور مغرب سے مرعوب نظر آتے ہیں۔

ہال آف فیم اس کتاب میں پہلے مرحلہ میں آٹھ شعبوں سے ہیروز ۔ لیجنڈ۔ اور آئیکونز منتخب کئے گئے ہیں۔ لیکن تقریب میں مقررین نے دلچسپ سوال اٹھائے جو اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں۔ سید بابر علی نے کتاب کے منتظمین کی توجہ اس جانب دلوائی کہ اس کتاب میں آزادی سے قبل کے ہیروز کو شامل کیا گیا ہے۔ تو ان میں سر گنگا رام۔ دیال سنگھ کے نام نظر انداز ہو گئے ہیں۔سر گنگا رام گنگا رام ہسپتال۔ اور دیال سنگھ دیال سنگھ کالج اور لائبریری کی وجہ سے یقیناًہمارے ہیروز ہیں۔ سید بابر علی سے یہ سن کر میں بھی حیران ہو گیا کہ صرف لاہور نے چار نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیات پیدا کی ہیں۔ ان کو بھی نظر انداذ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح جسٹس (ر) ثائر علی نے اپنے خطاب میں منتظمین کی توجہ دلائی کہ اس کتاب میں فوج اور عدلیہ کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یقیناًان شعبوں میں بھی بڑے بڑے ہیروز ہیں۔ گو کہ جسٹس (ر) ثائر علی کی جانب سے یہ توجہ دلوانے کے بعد ہال آف فیم فاؤنڈیشن کے بانی چیئر مین مسعود علی خان نے فوری وضاحت کی آرمڈ فورسز کے شعبہ سے لیجنڈ۔ آئیکونز ۔ اور ہیروز کے ایڈیشن کا ستر فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اور یہ ایڈیشن چند ماہ میں آجائے گا۔ تقریب میں موجود معروف صنعتکار میاں منشاء نے بھی موقع پر ہی اعلان کر دیا کہ آرمڈ فورسز کے ایڈیشن کو مکمل طور پر سپانسر کریں گے۔ لیکن عدلیہ کے حوا لے سے خاموشی رہی۔ تقریب میں سے عدلیہ کے ایڈیشن کے سپانسر کرنے کے لئے کوئی آواز نہیں آئی۔ میں نے دل میں سوچا کہ عدلیہ کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے۔ یہ عدلیہ عام آدمی کو انصاف دینے میں بحیثیت ادارہ ناکام رہی ہے۔ اس میں ہیروز۔ لیجنڈ۔ اور آئیکونز ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ اس لئے اس کی سپانسر شپ بھی مشکل ہو گی۔ اسی طرح اس کتاب میں تعلیم۔ صحت۔ سول سروس کے شعبوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ یہ شعبے بھی ایسے ہیں ۔ جن کی بحیثیت ادارہ کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو تقریب میں ماہرین تعلیم تو موجود تھے۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر بھی موجود تھے۔ لیکن ان یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ پر بھی ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ صرف لمز کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی میجر (ر) جیفری لینگ لینڈز نے بھی بہت متاثر کیا ۔ وہ ایک برطانوی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل فوج میں تھے۔ اور قیا م پاکستان کے بعد پاک فوج میں رہ گئے۔ بطور میجر ریٹائر ہوئے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے برطانیہ واپس جانے کے بجائے اپنی زندگی تعلیم کے لئے وقف کر دی۔ انہوں نے چترال میں کالج بنایا۔ ان کی اس وقت عمر 98 سال ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی پاکستان سے محبت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب1995 میں وہ عملی طور پر ریٹائر ہوئے توانہیں احساس ہوا کہ اتنے سال پاکستان میں رہنے کے بعد ان کا برطانیہ سے رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ اب انہیں برطانیہ میں کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے وہ پاکستان میں رہ گئے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ان کا نام بھی لیجنڈ ز میں شامل ہے۔ سید بابر علی جن کا اپنا نام اس کتاب میں بطور لیجنڈ شامل ہے کہ انہوں نے لمز جیسی یونیورسٹی قائم کی۔ اور وہ سالانہ ایک ملین ڈالر صرف تعلیم اور صحت کے لئے چندہ دیتے ہیں کو اس کتاب کی سب سے خوبصورت بات یہی لگی کہ اس میں ان غیر مسلموں کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ کتاب کی ایک خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ اس میں ہمارے نوجوان ہیروز کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ان میں ارفع کریم۔ ملالہ یوسف زئی۔ بابر اقبال۔ اور شافع تھوبانی کے نام بھی شامل ہیں۔ جہاں بزرگوں کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ وہاں ننھے اور نوجوان ہیروز بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ میں جیسے جیسے کتاب پڑھ رہا ہوں ۔ میرا پاکستان پر یقین پختہ ہو تا جا رہا ہے۔

مزید :

کالم -