مشرف دور میں شہریوں کی زمینوں کی سیاسی طور پر الاٹمنٹ کیس میں تمام متعلقہ ریکارڈ طلب

مشرف دور میں شہریوں کی زمینوں کی سیاسی طور پر الاٹمنٹ کیس میں تمام متعلقہ ...

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باد ی النظر میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سرکاری زمینیں الاٹ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ،سیاسی رہنما جلسوں میں ایسے وعدے کرلیتے ہیں جو سچ ثابت نہیں ہوتے اور پھر اشک شوئی کے لئے سیاسی شعبدہ بازی کا سہارا لیا جاتا ہے ۔مسٹر جسٹس عباد الرحمن لودھی نے یہ آبزرویشن غریب شہریوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق 2005ء سے زیر سماعت درخواست پر کارروائی کے دوران دی ۔فاضل جج نے رانا محمد اقبال سمیت متعدد شہریوں کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت 7اکتوبر پر ملتوی کرتے ہوئے تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا ہے ۔مسلم لیگ (ق)کے دور حکومت میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شہری حدود میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فاضل جج نے قرار دیا کہ متعلقہ دستاویز کا آغاز جناب وزیر اعلیٰ پنجاب اور عزت م�آب وزیراعظم پاکستان کے نام سے ہوتا ہے لیکن جب عدالت نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم یا وزیراعلیٰ کو شہریوں کو زمین الاٹ کرنے کا کون سا قانون اختیار دیتا ہے تو دلیل دی گئی کہ اصل میں ممبر بورڈ آف ریونیو نے مختلف مواقع پر پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لئے ہدایات جاری کی تھیں ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ عدالت کو نہ تو وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا جاسکا کہ ممبر بورڈ آف ریونیو نے ایسی ہدایات کیوں کر جاری کی تھیں جبکہ بورڈ آف ریونیو کی طرف سے کسی ہاؤسنگ سکیم کی منظوری کا بھی کوئی حوالہ موجود نہیں ہے ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ زیر نظر درخواستیں اس بات کی مثال ہیں کہ یہاں غریب شہریوں کے ساتھ حکمران کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں ،ایسے رویوں کی لازمی طور پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور سرکاری عہدوں پر فائز سیاستدانوں کو ایسے وعدے نہیں کرنے چاہئیں جو پورے نہ کئے جاسکیں۔فاضل جج نے اپنے فیصلے میں اردو شعر کا ایک مصرع بھی تحریر کیا ہے کہ "دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گرکھلا"۔فاضل جج نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 7اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

ریکارڈطلب

مزید :

علاقائی -