مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی اور ضابطہ اخلاق بنایا جائے ،پیپلزپارٹی

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی اور ضابطہ اخلاق بنایا جائے ،پیپلزپارٹی

  

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں وقفہ سوالات میں ایک سوال کیا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی جو 1974 میں قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کے بعد وجود میں آئی تھی کے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی اور اس کے لئے کوئی ضابطہ بنایا گیا؟ جس پر جواب دیا کہ وفاقی وزیر حج اور اوقاف اس کمیٹی کے اراکین کو نامزد کرتے ہیں جبکہ اس کمیٹی کا چیئرمین تین سال کے لئے منتخب کیا جاتا ہے تاہم موجود چیئرمین گزشتہ تقریباً 15سالوں سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ صرف پارلیمنٹ کی قرارداد پر نہیں بنایا جا سکتا اور اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے طریقہ کار کے لئے بحث و مباحثے کے بعد رولز بنائے جاتے ہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کے اصرار پر سینیٹ کے چیئرمین نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ کے کسی دوسرے فورم پر اٹھائیں جس پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے رولز آف بزنس کے رول نمبر60 کے تحت اس پر بحث کے لئے نوٹس دیا۔ اب یہ معاملہ سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔ واضح رہے کہ حکومت کے جواب کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کے 26اراکین ہیں جو وفاقی حکومت کے گریڈ 20 کے افسران تصور ہوتے ہیں اور اسی حساب سے انہیں ٹی اے ڈی اے، رہائش اور دیگر سہولیات اجلاس کے موقع پر مہیا کی جاتی ہیں۔

مزید :

علاقائی -