دہشتگردی کیخلاف فتح تک جنگ جاری رہیگی ، وزیراعظم سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں ، سینیٹ

دہشتگردی کیخلاف فتح تک جنگ جاری رہیگی ، وزیراعظم سیاسی قیادت کو اعتماد میں ...

  

اسلام آباد (آئی این پی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سمیت ارکان سینیٹ نے بڈھ بیر ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے افسران و جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا،ایوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فتح تک جاری رہے گی۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف مصروف افواج کے شانہ بشانہ ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بارے ایوان کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے،وزیراعظم نواز شریف اے پی سی بلا کر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں۔ جمعہ کوپیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے بڈھ بیر ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کا معاملہ ایوان میں نکتہ اعتراض پر زیر بحث لایا، جس کے بعد قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن ، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر رحمان ملک، اعظم خان موسیٰ خیل، جاوید عباسی،محسن عزیز، مولانا عطاء الرحمن و دیگر نے دہشت گردی کے واقعہ کی پرزور مذمت کی اور افواج پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ اس ایوان میں موجود ہر سینیٹر پاک فضائیہ کے ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور ہم سب اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہیں گے اور دہشت گردوں اور دہشت گردی کے واقعات کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے حکومت ایوان کو ان کیمرہ بریفنگ دے، داعش پاکستان میں داخل ہو چکی ہے، میں حکومت اور قوم کو خبردار کرتا ہوں کہ داعش، طالبان اور لشکر جھنگوی نے ملک کے خلاف خطرناک ٹرائیکا بنالیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اے پی سی بلا کر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں۔ سینیٹر سلیم ضیاء نے بھی سانحہ بڈھ بیر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جذبات اور احساسات بھی وہی ہیں جو ساری قوم کے ہیں، دہشت گرد شکست فاش سے دوچار ہوں گے۔ سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز بھی ایوان میں کہا تھا کہ اگر ہم نے افغانستان کے بارے اپنی پالیسی نہ بدلی تو ہمیں پشاور اور کوئٹہ میں لاشیں اٹھانا پڑ سکتی ہیں اور آج ہی یہ واقعہ رونما ہو گیا، میں ایک دفعہ پھر یہ کہتا ہوں کہ افغانستان بارے پالیسی تبدیل کئے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا، بڈھ بیر پر حملہ افسوسناک ہے اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ سینیٹر اعظم خان موسیٰ خیل نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا بزدلانہ فعل ہمیں دہشت گردوں کے خلا ف جنگ سے باز رہنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ دہشت گردوں کے علاقے ان سے چھین لئے گئے ہیں اور ایئر بیس پر حملہ ان کی مایوسی کا نتیجہ ہے، دشمن بھاگتے ہوئے بزدلانہ کارروائیاں کر رہا ہے، ایوان سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم سانحہ بڈھ بیر کی مذمت کرتے ہیں، پاک افواج نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن سول ادارے بیک اپ میں اقدامات نہیں کر سکے جس کی وجہ سے اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، دہشت گردوں کے حملہ کرنے کی صلاحیت کا برقرار رہنا فکر مندی کی بات ہے، حکومت سینیٹ کو صورتحال بارے ان کیمرہ بریفنگ دے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔ سینیٹر محسن عزیز بڈھ بیر ایئر بیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تین روز قبل وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ہٹانے کی سازش ہو رہی ہے، ایسی کوئی بات نہیں، وزیراعظم خود ہی گھر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ ان کی پارٹی بڈھ بیر ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کرتی ہے تاہم ان وجوہات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جن کی وجہ سے آج قوم اس صورتحال سے دوچار ہے، اگر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ کی قرار دادوں پر عمل کیا جاتا اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جاتا تو آج یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی۔

مزید :

علاقائی -