حکومت نے اقتصادی راہدای کے متفقہ مغربی روٹ کو نظر انداز کیا

حکومت نے اقتصادی راہدای کے متفقہ مغربی روٹ کو نظر انداز کیا

  

 اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے پاک چین اقتصادی راہداری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے 28مئی 2015کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر متفقہ مغربی روٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا، نام نہاد مشرقی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے 2017ء تک اسے آپریشنل کرنے کا اقرار کیا ، حکومت نے متفقہ مغربی روٹ پر اقتصادی راہداری کی تعمیر کیلئے بجٹ میں نہ تو مطلوبہ مقدار میں فنڈز مختص کئے جبکہ نہ ہی اس روٹ پر کوئی بجلی کا منصوبہ یا اکنامک زون تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے ملک پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کا فیصلہ ضائع کر دیا، خصوصی کمیٹی نے اس حوالے سے وزیراعظم کو تحفظات پیش کرنے کیلئے ملاقات کیلئے خط لکھ کر موقت مانگا جبکہ وزیراعظم نے خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جمعہ کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے سینیٹ کے اجلاس میں خصوصی کمیٹی برائے پاک چین اقتصادی راہداری کے کنوینئر سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خصوصی کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران متعلقہ سرکاری محکموں و اداروں نے ریکارڈ کی فراہمی میں عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور تاخیری حربے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران پر حقیقت آشکار ہوئی ہوئی کہ حکومت نے بجٹ 2015-16 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کیلئے مطلوبہ مقدار میں فنڈز مختص نہیں کئے جو 28 مئی کی اے پی سی کے متفقہ روٹ کو ترجیح دینے کا واضح ثبوت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کمیٹی کے صرف ایک اجلاس میں شرکت کی جبکہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی، وزارت مواصلات و دیگر محکموں نے کمیٹی کو اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے تسلی بخش جوابات پیش نہیں کئے۔ خصوصی کمیٹی نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کیلئے نئے منصوبوں کی منظوری نہیں دی گئی جبکہ ساری سر مایہ کاری کو نام نہاد و مشرقی روٹ پر جائز قرار دیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاسوں میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مغربی روٹ پر دو رویہ موٹروے اور دو رویہ ریلوے لائن تعمیر کرنے جبکہ آئیک فائبر لنک بچھانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، اس کے علاوہ بجلی کے منصوبے بھی مغربی روٹ سے سینکڑوں کلو میٹر دور بنائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کے 12 اگست کے اجلاس میں سیکرٹری میں سیکرٹری پلاننگ نے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ ترقی روٹ کا اہم ترین حصہ سمجھا جانے والا لاہور تا ملتان تا سکھر موٹروے منصوبہ 2017 کے آخر تک مکمل کیا جائے گا جبکہ مغربی روٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا ڈیزائن ٹریفک کی روانی کو دیکھ کر بنایا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیٹی نے مغربی روٹ کی اہمیت نہ دینے کے حوالے سے ارکان کے تحفظات پیش کرنے کیلئے وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھ کر وقت مانگا جبکہ وزیر اعظم آج تک مذکورہ خط کا جواب نہیں دیا۔ مزید برآں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کو گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں مقامی آبادی و نمائندوں کو نہ تو اعتماد میں لیا گیا جبکہ نہ ہی ان کی رائے کو شامل کیا گیا۔ مشرقی روٹ کی ترجیحاتی بنیادوں پر تعمیر کی وجہ سے کراچی اور بن قاسم پورٹس پر بوجھ بڑھ جائے گا جبکہ گوادر بندرگاہ اس حوالے سے محروم رہے گی، نیز صنعتی و ایکسپورٹ زون بھی مشرقی روٹ پر بنائے جا رہے ہیں جو کہ موجودہ حکومت کی غفلت مجرمانہ ہے، خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ موجودہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ فیصلے کو نظر انداز کر کے ملک پسماندہ علاقوں کوترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کا سنہری موقع کھو دیا ہے جو کہ افسوسناک ہے، کمیٹی کی رائے کے مطابق گوادر تا کاشغر کا مختصر ترین اور سستا روٹ وہی ہے جس کو مغربی روٹ کہا جاتا ہے جبکہ حکومت بلوچستان نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹیں فراہم کیں۔ اس کے برعکس مشرقی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ مغربی روٹ کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -