’میر ی ماں بچپن میں کہتی تھی تم لڑکی ہی ہوتے تو اچھا تھا‘

’میر ی ماں بچپن میں کہتی تھی تم لڑکی ہی ہوتے تو اچھا تھا‘
’میر ی ماں بچپن میں کہتی تھی تم لڑکی ہی ہوتے تو اچھا تھا‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بچپن میں وہ اتنا ڈرتے تھے کہ ان کی والدہ کہا کتی تھیں کہ ’تم لڑکی ہی ہوتے تو اچھا تھا‘۔ ایک نجی نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میرے ڈرنے کی وجہ سے میری ماں مجھے ہر وقت اپنے ساتھ ساتھ رکھتی تھیں اور میں رات کو بھی انہی کے ساتھ سوتا تھا۔

اپنے بچپن سے متعلق مزید واقعات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ایک غریب خاندان سے ہوں اور جہاں ہم لوگ رہتے تھے وہاں پانی لینے کیلئے بالٹی لے کر قطار میں لگنا پڑتا تھا مگر میں کبھی لائن میں کھڑا نہیں ہوتا تھا بلکہ سیدھا پانی لینے پہنچ جایا کرتا تھا۔

شیخ رشیدیاد کرتے ہیں کہ کیسے وہ پچپن سے ہی سیاستدان بننا چاہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں شروع سے ہی ایسا سیاستدان بننا چاہتا تھا اور میں بن بھی گیاجبکہ دوسرے بچے ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر وہ کلرک بن گئے۔

زندگی بھر شادی نہ کرنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’کوئی چڑیل میرے پاس سے بھی نہیں گزر سکی‘۔

عوامی مسلم لیگ کے صدر سے جب ان کی فوجی اداروں سے مبینہ تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ سب اداروں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ میں فوجیوں کے اشاروں پر سیاست کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کے کہنے پر سیاست کرنے والوں کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو۔

اسی طرح جب ان سے گزشتہ سال دھرنوں میں شمولیت سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان یا طاہر القادری نے فیصلہ نہیں کرنا تھا کہ میں کس جماعت کا ساتھ دوں گا بلکہ یہ تو میں فیصلہ کرنا تھا کیونکہ ہم تینوں میں سے سیاست دان تو میں ہی تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد نہیں بلکہ عمران خان سے دوستی ہے۔

مزید : قومی