”بھرے مجمع کے سامنے کوڑے پڑنے کا انتظار کر رہی ہوں کیونکہ۔۔۔ “

”بھرے مجمع کے سامنے کوڑے پڑنے کا انتظار کر رہی ہوں کیونکہ۔۔۔ “
”بھرے مجمع کے سامنے کوڑے پڑنے کا انتظار کر رہی ہوں کیونکہ۔۔۔ “

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جکارتہ (نیوز ڈیسک) انڈونیشیا کے صوبے آچے میں شرعی قوانین کے نفاذ کے بعد مجرموں کو سرعام کوڑے لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور مقامی میڈیا میں حال ہی میں سامنے آنے والی تصاویر میں درجنوں مردوں اور خواتین کو عوامی مقامات پر کوڑے لگتے دکھائے گئے ہیں۔

آچے انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے کہ جہاں شرعی قانون نافذ کیا گیا ہے جبکہ باقی تمام ملک میں برطانوی قانون سے ماخوذ روایتی نظام انصاف نافذ ہے جس میں کوڑوں کی سزا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس صوبے میں تاریخی طور پر علیحدگی پسندی کی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور 2001ءمیں جب یہ تحریکیں زور پکڑ گئیں تو مرکز کی طرف سے اس صوبے میں امن وامان کے قیام اور علیحدگی پسندی کی تحریکوں پر قابو پانے کیلئے شرعی قانون کے نفاذ کی اجازت دے دی گئی۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

حالیہ دنوں میں بھی 14 خواتین اور 3 مردوں کو سرعام کوڑے لگائے گئے ہیں۔ ان پر ناجائز مراسم اور زناکاری کے الزامات تھے۔ میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر میںد یکھا جاسکتا ہے کہ سفید لباس میں ملبوس خواتین کو سرخ قالین پر بٹھا کر کوڑے لگائے جارہے ہیں۔ ایک تصویر میں مجرموں کی قطار نظر آتی ہے جو کوڑے لگنے کے منتظر ہیں۔

اس صوبے میں شرعی قوانین کے نفاذ کے بعد ہم جنس پرستی، شراب نوشی چوری اور زنا جیسے جرائم پر کوڑے لگانے کی سزائیں دی جارہی ہیں۔ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو اکٹھے موٹرسائیکل سواری کی بھی اجازت نہیں، جبکہ 11 بجے کے بعد خواتین محرم کے بغیر تفریحی مقامات پر بھی نہیں جاسکتیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس