انتہائی نازک مقامات سمیت اپنے جسم کے 25 حصوں پر شہد کی مکھی سے ڈنگ مروانے والے نوجوان کیلئے انعام کا اعلان

انتہائی نازک مقامات سمیت اپنے جسم کے 25 حصوں پر شہد کی مکھی سے ڈنگ مروانے والے ...
انتہائی نازک مقامات سمیت اپنے جسم کے 25 حصوں پر شہد کی مکھی سے ڈنگ مروانے والے نوجوان کیلئے انعام کا اعلان

نیویارک (نیوز ڈیسک) دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں اور مفکروں و دانشوروں کے کارہائے نمایاں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہر سال نوبیل پرائز کا اعلان کیا جاتا ہے جس کا چرچا ساری دنیا میں ہوتا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نوبیل پرائز کی ہی طرز پر ہر سال ایک اور پرائز کا بھی اعلان کیا جاتا ہے، جسے اگنوبیل پرائز (Ig Nobel Prize) کہا جاتا ہے، مگر اس کے متعلق بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ انعام بھی اعلیٰ ترین تحقیق کاروں کو ہی دیا جاتا ہے، مگر ان کی تحقیق نہایت عجیب و غریب اور بعض اوقات شرمناک موضوعات پر ہوتی ہے۔ تحقیق جتنی مضحکہ خیز اور غلیظ ہوتی ہے پرائز ملنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔

جمعرات کے روز ہارورڈ یونیورسٹی نے 25 ویں سالانہ اگنوبیل پرائز کا انعقاد کیا اور ایک بار پھر دلچسپ و عجیب تحقیقات دنیا کے سامنے آئیں۔ مختلف شعبوں کے نمایاں تحقیق کار اور ان کا تحقیقی کام کچھ یوں رہا۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

فزیالوجی:

اس شعبے کا اگنوبیل پرائز کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدان مائیکل سمتھ کو دیا گیا۔ انہوں نے اپنے ہی مردانہ اعضاءپر شہد کی مکھیاں لڑا کر اس کے اثرات پر تحقیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ اعضاءپر شہد کی مکھی کا ڈنگ کھانا بڑے دل گردے کی بات ہے لیکن یہ اتنا خطرناک اور تکلیف دہ نہیں جتنا وہ سمجھ رہے تھے۔

کیمسٹری:

اس شعبے کا انعام کولن راسٹن، ٹام یوان، مریم افتخار اور سمرین کنجی وغیرہ کو دیا گیا جنہوں نے ابلے ہوئے انڈے کو دوبارہ کچا انڈہ بنانے کے موضوع پر تحقیق کی۔

فزکس:

اس شعبے کا انعام پیٹریسیا یانگ، ڈیوڈ ہیو اور ان کے ساتھیوں کو دیا گیا۔ انہوں نے تحقیق میں معلوم کیا کہ پیشاب کرنے کے دوران مثانہ 21 سیکنڈ میں خالی ہوجاتا ہے، البتہ مختلف افراد کیلئے اس وقت میں 13 سیکنڈ کی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔

ریاضی:

یہ اگنوبیل انعام ایک ایسی تحقیق پر دیا گیا جس میں ریاضیاتی مساواتوں سے معلوم کیا گیا تھا کہ مراکش کے حکمران مولے اسماعیل نے 1697ءسے 1727ءکے درمیان 888 بچے کس طرح پیدا کئے، اور کیا یہ واقعی ممکن بھی تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...