وکلاءکی ہڑتالیں عدالتوں کو ٹارگٹ سے مہینوں دور کردیتی ہیں ،چیف جسٹس ہائی کورٹ

وکلاءکی ہڑتالیں عدالتوں کو ٹارگٹ سے مہینوں دور کردیتی ہیں ،چیف جسٹس ہائی ...
وکلاءکی ہڑتالیں عدالتوں کو ٹارگٹ سے مہینوں دور کردیتی ہیں ،چیف جسٹس ہائی کورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی ایک عبادت ہے جس کا صلہ اس دنیا میں تو ملتا ہی ہے لیکن اس کا سب سے بڑا صلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر ہونے والی ہڑتال فراہمی انصاف میں بہت بڑی رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے اور ہم اپنے ٹارگٹ سے مہینوں دور ہو جاتے ہیں۔

فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکلاءکی مثبت معاونت شامل حال رہے تو تمام زیر التواءمقدمات کے فیصلے ایک سال کے مختصر عرصہ میں کئے جا سکتے ہیں۔فاضل چیف جسٹس پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں صوبے بھر کی تحصیل بار ایسو سی ایشنوں کو کتابیں دینے کےلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر عدالت عالیہ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود، ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی جسٹس(ر) چودھری شاہد سعید اور رجسٹرار طارق افتخار احمدبھی موجود تھے۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ضلعی عدلیہ میں کچھ ٹارگٹ سیٹ کئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، انہوں نے کہا صوبہ بھر کے کم از کم 25 اضلاع میں 2012 تک کے تمام زیر التواءمقدمات نمٹائے جاچکے ہیں، انکا کہناتھا کہ 24 دسمبر 2015تک زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کے حوالے سے مزید ٹارگٹ دیئے جارہے ہیں۔فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ کبھی ہار نہیں مانتے ، وہ اللہ تعالیٰ کی مدد،جوڈیشل افسران کی محنت و لگن اور وکلاءکے بہترین تعاون پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے مقدمات کو جلد نمٹانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مقدمات سے جان چھڑوائی جائے، نچلی سطح پر فیصلے قانون اور میرٹ کے مطابق ہوں گے تو لوگوں کو عدلیہ پر اعتماد مزید مستحکم ہو گا۔فاضل چیف جسٹس نے وکلاءسے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی خود کو وکیل سمجھتے ہیں، بار میری ماں ہے اور انکا اوڑنا بچھونا بھی بار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنوں کو کچھ دے کر ان پر احسان نہیں کیا جارہا بلکہ ان کے لئے باعث فخر ہے کہ وہ بار ایسوسی ایشنوں کو کچھ لوٹا رہے ہیں اور وہ اپنے وسائل کے مطابق یہ جاری رکھیں گے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور ہر چیز آن لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال انہوں نے ضلعی بار ایسو سی ایشنوں کولاءبکس کی جگہ کمپیوٹر سسٹم اور لاءسائیٹ تک رسائی کے پاسورڈ دیئے اور انشاءاللہ بہت جلد تحصیل سطح تک بھی یہ لاءسائیٹ تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا وکلاءکےلئے قانونی کتب کا مطالعہ بہت ضروری ہے، اس سے انکے علم میں اضافہ ہوگا اور وہ عدالتوں کی بہترین معاونت جاری رکھیں گے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ دنیاکی سب سے بڑی طاقت دلیل ہوتی ہے اور یہ طاقت صرف اسی وکیل کے پاس ہوتی ہے جوقانون کے علم پر مکمل دسترس رکھتا ہو اور ایسے وکلاءجج صاحبان کو اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے بار نمائندوں سے کہا کہ آپ لوگوں کے مسائل قانون کے مطابق حل کرواتے ہیں، فریقین کے درینہ معاملات کو طے کرنے میں انکی معاونت کرتے ہیں جو کہ بہت مقدس فریضہ ہے۔

مزید : لاہور