جعلی نمبر پلیٹس کی روک تھام کا نیا نظام

جعلی نمبر پلیٹس کی روک تھام کا نیا نظام
جعلی نمبر پلیٹس کی روک تھام کا نیا نظام

  

پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے تیزی سے کا م ہو رہا ہے ، جعلی نمبر پلیٹوں کے حوالہ سے جا ری کردہ آرڈیننس نا فذ کر دیا گیا ہے اور صرف 15دنوں میں ڈیڑھ لا کھ نمبرپلیٹس مالکان کے گھروں تک پہنچائی جا چکی ہیں جبکہ آئندہ گاڑی کی نمبرپلیٹ بھی مالک کے نام پر ہو گی نیز جعلی نمبر پلیٹ والوں کے خلاف 30اکتوبر کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا جائیگا علاوہ ازیں جعلی نمبر پلیٹ والے کو 2سال قید اور 5لاکھ جرمانہ کیا جائے گا۔ گزشتہ روز ڈی جی پی آر پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے حوالہ سے ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمن سیکرٹری ایکسائز ڈاکٹر احمد بلال، ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل اور سینئر رکن چیف منسٹر سپیشل مانیٹرنگ یونٹ سلمان صوفی موجو دتھے ،میاں مجتبیٰ شجا ع الرحمن کا کہنا تھا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے سب سے تیزی سے کام ہو رہا ہے ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہی جعلی اوربغیر نمونہ نمبرپلیٹوں کی روک تھا م کو یقینی بنا یا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں جعلی نمبر پلیٹوں کے حوالے سے جاری کر دہ آرڈیننس نافذکر دیاگیا ہے ، اس آرڈیننس کو عید کے فوراً بعد اسمبلی سے بھی منظور کروالیا جا ئے گا ،اس آرڈیننس کے تحت جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال کرنے والے کو 2سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،اس کیلئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، پنجاب پو لیس اور سپیشل مانیٹرنگ یونٹ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اس آرڈیننس پر عملدرآمدگی کا آغاز حکومت پنجاب نے سب سے پہلے اپنے گھر جی او آر سے کیا ہے جہاں بغیر نمونہ اور جعلی نمبرپلیٹس والی گاڑیوں کو کسی صورت داخلے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی سہولت کیلئے پر اپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں ایک ماہ مزید توسیع کر دی گئی ہے اور اب آخری تاریخ 30ستمبر ہو گی ، انہوں نے کہا کہ رواں سال دسمبر تک ڈیلر وہیکل رجسٹریشن کا دائرہ کار پنجاب کے تمام اضلاع میں مکمل کر لیا جائے گا جبکہ انسداد منشیا ت کا منصوبہ پو ری کامیابی سے چل رہاہے لیکن اس کو مزید وسعت دینے کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چل رہی ہے ،آئندہ گاڑی کی نمبرپلیٹ مالک کے نام ہو گی ، نظام کو اتنا جدید کر دیا ہے کہ گاڑی فروخت کر تے وقت اس کے ذمہ تمام چالان کی ادائیگی کے بغیر اسے فروخت نہیں کیا جا سکے گا،مو ٹر وہیکل رجسٹریشن کے دفاتر میں اگر کوئی ایجنٹ یا سرکاری اہلکار نمبرپلیٹیں دلوانے کیلئے رشوت لیتے پکڑے گئے تو ان کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، بغیر نمونہ اور جعلی نمبرپلیٹس کی روک تھام کیلئے ہر سطح پر عوامی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے جس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آئے ہیں اور صرف 15دنوں میں ڈیڑھ لاکھ نئی نمبر پلیٹس صارفین کے گھروں تک پہنچائی جا چکی ہیں جو کہ وہ عرصہ دراز سے وصول کرنے ہی نہیں آرہے تھے، انہوں نے کہا کہ گاؤں میں نمبر پلیٹس پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی تھیں لیکن اس کیلئے بھی نادراسے بات ہوگئی ہے اور قومی شناختی کارڈ پر دئیے گئے پتہ کو ہی ترجیح دی جائے گی، اس کیلئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، ٹی سی ایس اور پنجاب پو لیس کے لو گ مل جل کر کام کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ شہری 30اکتوبر تک نمبر پلیٹ بنوا لیں اس کے بعد سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ماضی میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے جعلی نمبر پلیٹس کے ذریعے بہت سی گاڑیاں جرائم اور دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے لگی تھیں۔ چوری، قتل، و غارت گری اور بم دھماکوں میں استعمال ہونے والی گاڑیاں چرانے کے بعد اُن پر نمبر پلیٹس تبدیل کر دی جاتی تھیں اور انہیں محضوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا تھا اس کے علاوہ بھی اس نظام کے بہت سے نقصانات تھے جِس کی وجہ سے امن وامان کی صورت حال دن بدن خراب ہوتی جاری تھی ۔

صورت حال کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک ایسے نظام کی ضروت تھی جو شفاف اور امنُ امان بہتر بنانے کیلئے کارگر ہو۔ اِن حالات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے گاڑیوں کی یونیفارم رجسٹریشن کے نظام کی منظوری دی اِ س نظام کے تحت پنجاب میں تمام گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو یکسانیت حاصل ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعلٰی پنجاب کی صدارت میں ہونے والے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے اجلاس میں اہم فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیرقانون ایکسائز و ٹیکسیشن سیکرٹری قانون و ایکسائز و ٹیکسیشن ، انفارمیشن و خزانہ کے صوبائی سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن، ڈائریکٹرجنرل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈاور وزیراعلیٰ ٹاسک فورس برائے اطلاعات و ثقافت نے شرکت کی۔

اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل تھے جن کے نہ صرف پنجاب میں امن وامان کی صورت حال بلکہ پورے پاکستان میں دورس اثرات مرتب ہوگئے۔ اجلاس میں جن اصلاحات پر غور گیا گیا اُن میں یونیورسل لائسنس پلیٹس اور رجسٹریشن بُک کی جگہ خود کار رجسٹریشن کارڈ ملے گا۔ ان اصلاحات کا اصل مقصد پورے صوبے میں یکساں نمبرپلیٹس اور ایک جیسے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شامل ہے۔ اس وقت مختلف اضلاع میں نمبر پلیٹس اور لائسنس کے اجرا کے مختلف طریقے استعمال کئے جارہے ہیں۔ نئی جاری ہونی والی نمبر پلیٹس کی خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ سڑکوں کے کنارے لگے کیمروں سے ان نمبر پلیٹس کو کمپیوٹر کی مدد سے باآسانی پڑھا جاسکے گا۔ جدید ترین کیمرے خفیہ ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت صوبے بھر میں سڑکوں پر لگائے جائیں گے اور اگر کسی نمبر پلیٹ کی ضرورت ہو گی تو اسے خفیہ ڈیٹا کی مدد سے ڈھونڈا جائے گا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی شناخت بھی انہیں کیمروں کی مدد سے کی جاسکے گی اور جرمانہ کے نوٹس ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے گھروں کے پتہ پر بھیجے جائیں گے۔

حکومت پنجاب کے موٹر وہیکل سسٹم کو جدید نظام میں تبدیل کرنے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیوں کہ اس سسٹم کے ذریعے گاڑیوں میں بدعنوانی، جعلی نمبر پلیٹس اور دہشت گردی میں ایسی گاڑیوں کے استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی ۔ یہ ایک بہترین نظام ہے کیونکہ اس نظام کے تحت رجسٹرڈ کی گئی گاڑی کا مکمل ڈیٹا کمپیوٹر میں موجود ہو گا اور وہ گاڑی واردات کی صورت میں کسی بھی وقت ڈھونڈی جا سکے گی ۔ جہا ں تک نئے نظام کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس کا تعلق ہے تو وہ بھی اتنی زیادہ نہیں 2000روپے کار کے لیے اور 500 روپے موٹر سائیکل کے لیے مقرر کی گئی ہے ۔ اس طرح گاڑیوں کے مالکان کو گاڑی کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس ایک کمپیوٹر کارڈکی صورت میں مہیا کی جائے گی جس میں گاڑی کی خریدوفروخت کا تمام ڈیٹا موجود ہو گا ۔

آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلا ن کے حوالہ سے اگر اس نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ نظام دہشت گردی کے خاتمہ ، دہشت گردوں کی گرفتاری ، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور جرائم پیشہ افراد پر گرفت کے لئے انتہائی مو ثر ثابت ہو گا ۔ دہشت گردی کے حوالہ سے پنجاب حکومت کا یہ نظام ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت ہے اور دوسرے صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے تاکہ ایسا نظام پورے پاکستان میں نافذ ہو سکے اور قومی سطح پر امن و امان بہتر بنانے کیلیے مدد گار ثابت ہو ۔

مزید :

کالم -