’ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے بلکہ ان کی تعلیم کے لئے یہ راستہ اپنائیں گے‘ والدین نے ایسا اعلان کردیا کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے

’ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے بلکہ ان کی تعلیم کے لئے یہ راستہ اپنائیں ...
’ہم اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے بلکہ ان کی تعلیم کے لئے یہ راستہ اپنائیں گے‘ والدین نے ایسا اعلان کردیا کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے

  

لندن (نیوز ڈیسک) آج کل ہر والدین کو اس سوال نے پریشان کر رکھا ہے کہ بچے کو کس سکول میں پڑھائیں۔ جہاں پڑھائی اچھی ہے وہاں فیس بہت زیادہ اور جہاں فیس کم ہے وہاں پڑھائی کا برا حال ہے، آخر کریںتو کیا؟اسی سوال سے پریشان ایک برطانوی جوڑے نے اس مسئلے کا ایسا حل نکالا ہے کہ دنیا حیران رہ گئی ہے، مگر ان والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل ک لئے اس سے اچھا فیصلہ نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ منفرد والدین پال کنگ اور کیرولین کنگ ہیں، جنہوں نے اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرانے کی بجائے اپنا سارامال اسباب فروخت کیا اور انہیں لے کر دنیا کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس جوڑے کا بڑا بیٹا ونگٹسن 6 سال کا اور چھوٹا بیٹا ہینری 4سال کا ہے، اور یہ دونوں بچے اپنے والدین کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ سال سے 15 ملکوں کا سفرکرچکے ہیں۔

پاکستانی کرنسی کا وہ سکہ جو امریکہ میں بھی چلتا ہے

پال اور کیرولین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی پہلے اپنے بچوں کو عام والدین کی طرح عام انداز میں تعلیم دینے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے 20 سے زیادہ سکولوں کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کا معیار اطمینان بخش نہ تھا جبکہ فیسیں بہت تھیں، لہٰذا انہوں نے بچوں کو دنیا گھما کر عملی تجربے سے تعلیم دینے کا حیرت انگیز فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے اپنا گھر اورتمام سامان دو لاکھ 80 ہزار پاﺅنڈ (تقریباً ساڑھے 4کروڑ پاکستانی روپے) میں فروخت کیا اور بچوں کو لے کر دنیا کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ دی سنڈے مرر سے بات کرتے ہوئے پال کنگ کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اپنی عمر کے دیگر بچوں سے کہیں زیادہ فائدہ مند اور بہتر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کبھی بھی سکول نہیں بھیجیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پال اور کیرولین کی اپنی ملاقات بھی سیاحت کے دوران ہی ہوئی۔ یہ 2003ءکی بات ہے کہ جب دونوں کشمیر کی سیر کو گئے ہوئے تھے کہ ان کی پہلی ملاقات ہوئی اور پھر وہ زندگی بھر کے ہمسفر بن گئے۔ وہ دونوں اب تک اپنے بچوں کو رومانیہ، دبئی، بھارت، مالدیپ، ملائیشیاء، انڈونیشیا، بورنیو، تھائی لینڈ، لاﺅس، امریکہ، کولمبیا، سپین، مصر، اٹلی اور چیک ری پبلک لے جاچکے ہیں۔

سکول میں پڑھنے والی نوعمر لڑکی نے ادھیڑ عمر جمعدار کو شادی کی پیشکش کردی، لڑکی کی عمر کتنی اور آدمی کی کتنی؟ جان کر پورا شہر ہی حیران پریشان رہ گیا

پال اور کیرولین کا کہنا ہے کہ بچوں کو مختلف زبانیں کتاب کے ذریعے کیوں پڑھائیں جبکہ وہ مختلف زبانیں بولنے والے حقیقی انسانوں کے ساتھ میل ملاپ کر کے ان کی زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تاریخ کا مطالعہ بھی کتب کی مدد سے کرنے کی بجائے حقیقی تاریخی مقامات بچوں کو دکھا کر ان کے علم میں حقیقی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے طرز تعلیم کے دوران مختلف ممالک میں بنائی گئی خوبصورت تصاویر بھی باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں جنہیں ہزاروں لوگ دیکھتے اور سراہتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -