پاک امریکہ تعلقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تلخ نوائی

پاک امریکہ تعلقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تلخ نوائی
 پاک امریکہ تعلقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تلخ نوائی

  

پاکستان کولڈ وار کے زمانے میں وجود میں آیا۔ اس Biopolarدنیا میں ایک طرف نیٹو اتحادی ممالک تھے تو دوسری طرف وارسا پیکٹ ممالک۔ بوجوہ نوابزادہ لیاقت علی خان نے اپنا دورہءِ ماسکومنسوخ کیا اور واشنگٹن چلے گئے۔ پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر بن گیا۔ مارشل پلین کے تحت امداد ملنے لگی۔ PL-480کے ذریعے بالٹی مور کی بندرگاہ سے گندم کے جہاز کراچی پہنچنے لگے۔ اس کے بدلے میں پاکستان نے امریکہ کو پشاور کے نزدیک بڈھ بیر کا ہوائی اڈہ دے دیا جہاں بیلسٹک میزائل جن کا رخ ماسکو اور کریمن کی طرف تھا نصب کر دیئے گئے۔ بڈھ بیر سے جاسوسی کے لئے U-2اڑا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک جسے گیری پاورز اڑا رہا تھا روس نے مار گرایا۔ وہ بیل آؤٹ کر گیا۔ جب اس سے تفتیش ہوئی تو اس نے پشاور کا نام لے لیا جس پر خرو شیف نے پشاور پر سرخ نشان لگا دیا۔ پاکستان ایک عرصہ تک کے لئے اپنی ایک پڑوسی سپر پاور روس سے ،جس کے ساتھ ہمارا بارہ میل لمبا ’’واکھان‘‘بارڈر بھی مشترک ہے سفارتی طور پر بہت دور ہو گیا۔ یہ تھی پہلی قیمت جو پاکستان کو امریکہ کی دوستی کی چکانا پڑی۔

امریکہ کورین وار میں اُلجھا تو پاکستان کو فوجی دستے بھیجنے کے لئے کہا گیا،جس کا نوابزادہ لیاقت علی خان نے بڑی دلیری سے انکار کر دیا۔ 1962ء میں جب ہندوستان لیپا وادی اور لداخ میں چین سے اُلجھا تو اسے شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی ہندوستانی فوج اپنے خاص آرمرڈ ڈویژن ’’فخر ہند‘‘ کے سٹارٹ ٹینک چھوڑ کر پیدل بھاگ گئی۔ ہندوستان کے واویلا مچانے پر امریکہ نے فوجی امداد کا رخ ہندوستان کی طرف کر دیا ہندوستانی شکست خوردہ فوج کا مورال بلند کر نے کے لئے 1965ء کی پاک ہند جنگ کا منصوبہ بنایا گیا۔ ہندوستانی آرمی چیف جنرل چودھری نے بڑ ہانکی کہ وہ 6ستمبر کی سہ پہر کی وہسکی لاہور جمخانہ میں پئے گا۔ لیکن ہندوستان کی فوج کو منہ کی کھانا پڑی اور پاکستانی فوج نے تاریخی کامیابی سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کی۔ امریکہ نے اس نازک مرحلے پر پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا۔

چین انقلاب کے بعد چیئرمین ماؤژے تنگ اور چو اِن لائی کی قیادت میں ایک سپر پاور بن گیا۔ امریکہ نے ابھی تک چٹانگ کائی شیک کی حکومت کو اقوامِ متحدہ کا ممبر رکھا ہوا تھا۔ اسے وارسا پیکٹ ممالک اور روس کے خلاف ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور کی ضرورت تھی۔ ہنری کسنجر مری میں بیمار بن گئے ، پاکستان نے خفیہ انہیں چین پہنچایا اور امریکی صدر کے پہلے دورۂ چین کی راہ ہموار ہو گئی، لیکن امریکہ نے اس ’’پُل ‘‘ کو کبھی یاد نہ رکھا ۔ بنگلہ دیش کی تحریک کی امریکی سینیٹروں اور کانگریس ممبروں نے کھل کر حمایت کی۔ہندوستان نے اپنے فوجی مکتی باہنی کے بھیس میں مشرقی پاکستان بھیجے پھر باقاعدہ فوجی تربیت دی اس طرح سقوطِ ڈھاکہ ہوا۔ 93000 پاکستانی فوجی افسر اور جوان ہندوستانی فوج کے جنگی قیدی بن گئے۔ آدھا ملک ٹوٹ گیا اور یو ایس ایس انٹر پرائزز امریکی طیارہ بردار جہاز کبھی بھی بحیرہ ءِ عرب کے پانیوں تک پاکستان کی مدد کو نہیں پہنچا۔ پاکستان کو اس نازک وقت میں بھی اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ 1979ء میں روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں ۔ نیٹو اتحاد کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا تھا۔ پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا لیا گیا، جن طالبان پر آج ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت غصہ ہے وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم کیسی کی تجویز پر مولانا فضل الرحمن اور مولوی سمیع الحق کے مدرسوں سے ریکروٹ کئے گئے۔ پاکستان، پاکستانی فوج اور پاکستانی ایجنٹوں کی مدد سے روس کو نکال باہر کیا گیا۔ سوویت یونین کا اتنا نقصان ہوا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ امریکی فتح یاب ہو کر نکل گئے۔ پاکستان کو پھر تنہا چھوڑ دیا گیا۔انعام میں کیا ملا دہشت گردی، ہیروئین کلچر، کلاشنکوف کلچر اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین جن کو پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے قبائلی و شمالی علاقہ جات اور کراچی میں جرائم کی بھر مار کر دی۔ ناجائز اسلحہ لوٹ مار قتل و غارت گری اور نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ میں بنیادی طور پر یہی لوگ ملوث پائے جاتے تھے۔

اسامہ بن لادن کو امریکیوں نے لا کر افغانستان میں جہاد کا آغاز کیا تھا۔ القاعدہ اور طالبان کی بنیاد رکھی تھی، مگر جب نائن الیون ہوا، جس کے با رے میں سب سے قابلِ بیان ایک فرانسیسی کتاب " Horribale Consipracy"ہے۔ اُن طیاروں میں ملوث سب سے زیادہ سعودی باشندے تھے، لیکن پاکستان کو دھمکی آمیز انداز میں پوچھا گیاکہ ’’دوست یا دشمن‘‘ ؟ اور ہم تمہیں زمانہ قبل از تاریخ میں پہنچا دیں گے۔ پھر امریکیوں کو ہر طرح کی راہ داری ، فضائی رسائی، شہباز بیس جیکب آباد کا اڈہ بخش دیا گیا۔ پانچ ہزارسال کی تاریخ شاہد ہے کہ افغانستان نے کسی غیر ملکی فوج کو وہاں ٹِکنے نہیں دیا۔ امریکی فوج وہاں بری طرح سے ناکام ہوئی جس کا اعتراف امریکی جنرل کر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ناکامی کے اعتراف کے لئے ایک قربانی کے بکرے کی تلاش ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جوشِ خطابت میں پاکستان کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا،جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ہندوستان کی کامیاب فارن پالیسی، افغان حکومت اسرائیلی موساد اور ان کی ایجنسیوں کا کابل میں غیر معمولی گٹھ جوڑ، پاکستان کو ایک بار پھر تنہا کر گیا۔ اس وقت تاریخ کے جس موڑ پر ہم ہیں حالات مختلف ہیں۔ عراق میں اجتماعی تباہی کے کیمیائی ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر وہاں نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی ۔ عراقی فوج اور داعش دونوں کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی تاکہ امریکہ کی ہتھیاروں کی صنعت جو سستی چینی مصنوعات کے مقابلے میں امریکہ کے پاس واحد صنعت بچی ہے، جو اس کی اقتصادی حالت کو سہارا دے سکتی ہے، اسے امریکہ کو پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ لیبیا اور یمن کی خانہ جنگی، لیکن شام میں حالات مختلف ہیں۔امریکہ کے بحری بیڑے کے سامنے روسی جنگی جہاز بھی تیار کھڑے ہیں ساؤتھ چائنہ سمندر میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے سامنے واحد چینی بحری بیڑہ اور جنگی جہاز سامنے کھڑے ہیں۔ شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے باوجود وہ جاپان اور گوام کا امریکی فوجی اڈہ ان کی زد میں ہے۔

مندرجہ بالا بحران میں ٹرمپ کا غیر ضروری بھڑکنا عقل اور سمجھ سے بالا ہے ۔ روسی اور چینی حکومتوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔ سی پیک پاکستان کا چائنہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع اور اقتصادی طور پر سود مند منصوبہ ہو گا۔ اسی طرح ایران بھی پاکستان کا ایک اہم اتحادی ہے۔ پاک سعودی تعلقات کی بناء پر اگرچہ وہ اس وقت پاکستان سے قدرے دوری پر ہے ۔ ایران جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اب بھی مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو امریکہ کی تاریخ کا متنازعہ ترین صدر ثابت ہوا ہے، اپنے مُلک میں شدید مخالفت اور اپنی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا سامنا کر رہا ہے اپنے مختصر عرصہءِ صدارت میں خود کو بے نقاب کر بیٹھا ہے۔ دوسری طرف پاکستان چائنیز ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ سے گوادر پورٹ کی تعمیر و ترقی اور وسط ایشیائی ممالک کی دلچسپی کی بدولت اہم مواقع دریافت کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ روس نے بھی پاکستان کے چین پر انحصار کو خوش آئند نظر سے دیکھا ہے۔ یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادیوں انڈیا اور اسرائیل کے ساتھ افغانستان یا اس خطہ میں کوئی فوجی مہم جوئی کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ کے میکسیکومیں ایک ہفتہ قبل حملوں،بعد میں وینزویلا اب پاکستان پر حملوں کے بعد اگلی دفعہ کوئی اور ہو سکتا ہے۔ پاکستان عظیم ہے پاکستان مضبوط ہے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات زمینی حقائق پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

مزید :

کالم -