ایک راز جو ہندوستانیوں نے جان لیا ہے

ایک راز جو ہندوستانیوں نے جان لیا ہے
 ایک راز جو ہندوستانیوں نے جان لیا ہے

  

یہ حیران کن منظر مَیں نے کئی ممالک میں دیکھا، نوٹ کیا، مگران عید کی چھٹیوں میں پہلی بار اس پر لکھنے اور کسی ایسے نتیجے تک پہنچنے کا موقع ملا،جس کا ہمارے نوجوانوں کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔مجھے مختلف اوقات میں قطر [دوحہ] ملائشیاء ،سعودی عرب مصر اور ترکی جانے کا اتفاق ہوا،یہ وزٹ سیر سپاٹے کے لئے نہیں تھے،اس لئے ملاقاتوں اور مشاہدات کے نوٹس لیتا رہا۔مَیں ہر جگہ اِس بات کو سمجھنے اور اس راز کی ٹوہ میں لگا رہا کہ ان ممالک کے نوجوان کیسے نوکریاں پاتے ہیں، کیسے ترقی کرتے ہیں۔یہ ایم اے ایم فل، پی ایچ ڈی والی بھیڑ چال تو ان کے ہاں بہت تھوڑے پیمانے پر ہے ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساری کمائی بیرونی طالب علموں کی فیسوں سے جڑی ہے جو واپس جا کر اکثربے روز گا کے بے روزگا رہتے ہیں ،ظاہر ہے جو وہ پڑھ کر آتے ہیں، ان کا یہاں کے ماحول اور ضرورت سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں ہوتا ۔مجھے پروفیسرفیض اللہ خان کے بیٹے سے اپنی اتفاقی ملاقات کبھی نہیں بھول پائے گی،جو ایس ای کالج بہاولپور میں ایف ایس سی کے سپیشل سیکشن ڈی میں میرا کلاس فیلو تھا اور اس کے ابو ہمارے کیمسٹری کے ٹیچر ،مال روڈ پر ہماری ملاقات ہوئی ۔اس نے بتا یا کہ وہ بہت دُکھی ہے واپڈا میں جاب کر تا ہے اور جاب کے دوران پی ایچ ڈی کرنے امریکہ چلا گیا ،جہاں سے اس نے آبدوزوں کی جدید ٹیکنالوجی پر پی ایچ ڈی کی اور اب شدید ڈیپریشن میں تھا کہ واپسی پر اس کی پروموشن کرنے کی بجائے اسے سٹور کا انچارج بنادیا گیا ہے ۔مَیں نے اس سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں واپڈا سے تو اپنے میٹر نہیں بنتے وہ بنے بنائے لیتے ہیں یا چین سے منگواتے ہیں آپ کو کس اندر کے آدمی نے بتایا تھا کہ عنقریب لاہور میں واپڈا سمندر کا آغاز کر کے اس میں آبدوزیں بھی چلائے گا اور آپ ہی کو ان کی مرمت اور ان میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرنے کا اعزاز بخشا جائے گا۔

اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا آپ پہلے آدمی ہیں جو واپڈا کو برا بھلا کہنے کی بجائے بڑی معصومیت سے تیروں کا رُخ میری طرف کر رہے ہیں۔ مَیں نے قریباً ہنستے ہوئے پوچھا آپ کے پاس کوئی ایسا سرکاری خط ریکارڈ میں تو ضرور ہو گا کہ جس میں واپڈا نے آپ سے ریکویسٹ کی ہو کہ جائیں جا کر آبدوزوں پر پی ایچ ڈی کر کے آئیں ۔ہم اس حوالے سے قحط الرجال کا شکار ہیں اور بجلی کی ترسیل اور انتظامات کے مسائل کا مکمل حل آبدوزوں کی ٹیکنالوجی جاننے اور ان کی مرمت کرنے میں ہی پوشیدہ ہے ،آپ کی واپسی پر ایک ا علیٰ ترین انتظامی عہدہ آپ کا منتظر ہو گا۔ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں،اس نے نہ سمجھنے والی نظروں سے مجھے دیکھا ،مَیں نے چائے کے ساتھ کچھ اور بسکٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا اول تو یہ پی ایچ ڈی کرنا بنتی ہی نہیں تھی ،کر لی تھی تو وہاں سے واپسی کی کیا تُک تھی اور آ ہی گئے ہیں تو کراچی رک جاتے، وہاں سمندر ہے،کبھی نہ کبھی تو کوئی آبدوز خراب ہوتی اور آپ کی ضرورت محسوس ہوتی،آپ کو مشورے کے لئے بھی بُلا لیا جاتا،یہاں لاہور میں اور وہ بھی مال روڈ پر واقع واپڈا ہیڈ آفس میں کوئی آپ کی ہمت افزائی اور حوصلہ بڑھائی کے لئے آبدوز کہاں سے لائے ،آپ کی پی ایچ ڈی کا واپڈا ہی کیا کوئی اور بھی کیا کرے؟

پی ایچ ڈی عام طور پر اعلیٰ ترین ڈگری مانی جاتی ہے،مگر صرف پڑھانے اور ریسرچ کروانے کے لئے، پکی سرکاری نوکریوں میں ایک سکیل آگے جانے والے ٹول سے زیادہ نہ تو کوئی ان کا استعمال ہے اور نہ ہی تعلق واسطہ ،اِسی لئے ہماری یونیورسٹیا ں غیر متعلق موضوعات پر پی ایچ ڈی کرنے والوں سے بھری پڑی ہیں اور مجال ہے اس علم کا کوئی رتی برابر فائدہ اس مُلک قوم اور معاشرے کو ہو جائے۔اب مثلاًغالب کی پنشن پر آپ چار بندوں کو بھی پی ایچ ڈی کروا لیں،ریسرچ کروانے والے ایڈوایزر کو جرمانہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ بھائی صاحب آپ نے ایچ ای سی سے لمبا مال کما لیا ،سپروائزر ہونے کا اعزاز بھی کما اور پا لیا،مگر یہ تو بتایئے کہ کہیں باڈی آف دا نالج کو تو کوئی فائد ہ نہیں ہو نے دیا ناں، جس کے لئے یہ پی ایچ ڈی کروائی تھی ؟ یہ اعلیٰ ٹرین ڈگری کر کے بھی وہ مُلک اور اعلیٰ تعلیم کے کسی کام کا نہیں،ایسے میں پی ایچ ڈی اور اسی طرح کے ناموں والے ایم اے کرنے والے کیا بیچیں گے ۔وہ اپنی ڈگری اور ریسرچ تک کو جسٹی فائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے،جبکہ ان کو روزگار بہترین سے کم نہیں چاہئے ہوتا،مُلک چھوڑیں کوئی ڈھنگ کی کمپنی بھی انہیں کوئی آفر نہیں کر سکتی کہ ان کا اور ان کی ڈگری کا سرے سے کوئی استعمال ہی نہیں ہوتا جو ان کے یا کسی اور کے کام ہی آسکے ۔

انڈیا والے آپ کو سو بار اچھے نہ لگیں وہ وقت سے پہلے سوچنے لگے ہیں ،یہ بات سمجھ نہ آئے تو ان کی تازہ ترین فلم ٹیوب لائٹ دیکھ لیں ،ہمارے ہاں کوئی انڈیا سے دوستی کا سوچ بھی نہیں سکتا چاہے وہ دِل سے اس کا کتنا ہی قائل اور اسے مُلک وقوم کے لئے بہتر سمجھتا ہو، انہوں نے چین سے حالت جنگ میں ہونے کے باوجود چین سے دوستی پر فلم بنا ڈالی وہ بھی سلمان خاں سٹارر، سوچ دیکھئے ،اس کی ٹائمنگ پر غور کیجئے ۔اسی طرح زندگی میں ترقی کرنی ہے، کارپوریٹ میں اپنے کام سے نام اور زیادہ پیسہ کمانا ہے تو غور سے دیکھئے انڈیا کے لوگ کیا کر رہے ہیں،وہ کئی برسوں سے اس نسخے کو اپنی جانوں سے لگائے ایمان کی طرح مان رہے ہیں اور عمل کر رہے ہیں۔ کسی عرب ریاست میں چلے جائیں،دبئی، کویت، قطر،وہاں ہر ہوٹل ،ہر دکان اور ہر کارخانے یہاں تک کہ کاروں میں گیس گھر گھر پہنچانے والوں میں، ملیالم کے لوگ نظر آئیں گے،ساؤتھ کے یہ کالے ،سانولے ینگ لڑکے سکولنگ مکمل کرتے ہی آ جاتے ہیں اور آنے سے قبل اس بات کو یقینی بنا کر آتے ہیں کہ وہ آسانی سے انگلش سُن، سمجھ اور بول سکیں۔انہیں آتے ہی دو سے اڑھائی ہزار کی جاب مل جاتی ہے جسے وہ ہنسی خوشی کر لیتے ہیں ۔ان کی کونسلنگ ایسی عمدہ اور عملی کی جاتی ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں وہ عربی روانی سے بولنے لگ جاتے ہیں اور پہلے سال کے اندر اپنا ڈرایؤنگ لائسنس بنوا لیتے ہیں اور یاد رکھئے ان کی عمر اس وقت ہوتی ہے بیس سے بائیس برس۔ ہمارا بچہ اس عمر میں کالج سے یو نیورسٹی جانے کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے اور عملاًکچھ نہیں کر رہا ہوتا ۔

دوحہ میں اپنے عزیز دوست خالد بھٹی صاحب [جو نوری نت کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں] کی معیت میں ادریس انور صاحب کی کمپنی میں آتے جاتے ،شیر محمد صاحب کے کاروباری دوستوں سے ملتے،اپنے ہوٹل میں قیام کے دوران ملیالم ،ٹامل ناڈو اور ساوتھ کے جتنے لوگوں سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا انہوں نے مجھے تجسس میں ڈال دیا، ہوٹل کی راہداریوں میں استقبالیہ پر ،لانڈری ،شاپ کوکنگ،انہیں جہاں موقع ملا ایڈجسٹ ہو گئے ،اگلے برس وہ کسی نہ کسی کورس میں داخلہ لے چکے ہوتے ہیں، بنیادی کورسز۔۔۔یہ ڈگری کورسز نہیں ہوتے ،سکل بیسڈ ہوتے ہیں، سافٹ سکلز ،کمیونی کیشنز سکلز آفس مینجمنٹ ، ایٹی چیوڈ ٹرینگ اور ساتھ ساتھ اس شعبے میں جس میں وہ کام کر رہے ہو تے ہیں ،اپنی صلاحیت کو مسلسل بڑھاتے ہیں،دو دوکام تو ایوریج لڑکے کرتے ہیں،یہ ہندوستانی لڑکے عا م طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کسی تعصب کے بغیر تعاون کرنے کے عادی ہیں ایک دوسرے کا حامی اور مددگار ہوتے ہیں ،ان کے مزاج میں نرمی ،،تابعداری اور سخت محنت کی عادت شامل ہے ۔عام طور پر یہ دھوکہ نہیں دیتے ،مالی طور پر یا جذباتی طور پر آپ کا ملازم آپ کو تکلیف نہ دے تو کسی کو بھی نہیں بُرا لگتا ۔سال سے پہلے ہی اس کو ترقی بھی ملتی ہے،کوئی بھی ملازم آپ کا عزیز ہو یا کسی اور قوم اور برادری کا اگر آپ کو اس پر یقین ہے کہ وہ آپ کو چیٹ نہیں کرتا،دھوکہ نہیں دیتا ،آپ کے اعتبار اور اعتماد پر پورا اترتا ہے اور آپ کی باتیں کہیں اور جا کر نہیں کرتا ،نگاہ اور نیت کا بھی اچھا ہے تو اس کا مذہب، رنگ اور شکل بالکل ہی میٹر نہیں کرتا ، اس کا ساتھ ہمیشہ لمبا چلتا ہے۔یہ گراور راز ان سب نے پا لیا ہے۔ عملاً صورت یہ ہے کہ تمام گھروں میں کام کرنے والی لڑکیاں فلپائن کی ہیں،چھوٹے کام کرنے کا بہت بڑا شیئر بنگلہ دیش کے لوگوں نے لے لیا ہے ،وائٹ کالر جاب کے لئے ہر کسی کو تین چار سال کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔جب ہمارا ایم اے پاس جاکر وہاں نوکری کی درخواست دیتا ہے تو پہلا سوال ہی تجربہ کا ہوتا ہے جو زیرو ہے ،پھر وہ وہاں کے ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھتے ہیں جس کا ابھی سوچا ہی نہیں ہوتا،ہمارے لڑکے کی اوسط عمر اس وقت 27برس ہوتی ہے۔اس کو تنخواہ ملے گی قریباً دو ہزار ریال اور ہندوستانی کو سات سے آٹھ ہزار، انٹرویو میں اسے تین باتوں پر مار پڑتی ہے اورشرمندگی سہنی پڑتی ہے۔۔۔ اس کی دلچسپ تفصیل اِن شاء للہ بعد میں دی جائے گی۔

مزید :

کالم -