کینیڈا میں جعلی ڈگریوں کا شور اورایک پاکستانی ادارہ

کینیڈا میں جعلی ڈگریوں کا شور اورایک پاکستانی ادارہ
کینیڈا میں جعلی ڈگریوں کا شور اورایک پاکستانی ادارہ

  



جعلی ڈگریوں پر بڑی نوکریاں حاصل کرنا پاکستان کا ہی بڑا مسئلہ نہیں ،کینیڈا میں بھی یہ وباء پھیل چکی ہے اور اس کے جراثیم پھیلانے میں پاکستانی فیم ایگزٹ ملوث ہے۔کینیڈا کے ذرائع ابلاغ میں جعلی ڈپلومہ اور ڈگریز کھنے والے مختلف کالجز، یونیورسٹیز اور اداروں اساتذہ اور ملازمین کے بارے میں ایک سٹوری شائع اورنشر ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 8ہزار افراد کے پاس آن لائن کالجز اور یونیورسٹیز کی جاری کردہ ڈگریاں ہیں اور اسی طرح کے ڈپلومہ بھی ہیں۔ یہ ادارے جعلی ہیں اور محض رقوم لے کر مختلف شعبہ جات کی ڈگری گھر بیٹھے دیتے رہے ہیں۔

سی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر زیگرابلک جودیگر تین اور اداروں میں پڑھانے کا دس سالہ تجربہ رکھتے ہیں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ماسٹر ان کمپیوٹرسائنسز کی ڈگری کہاں سے حاصل کی تو وہ جواب دینے اور ادارے کا نام بتانے سے گریزاں تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر کی ڈگری ’’المیڈا یونیورسٹی‘‘ نام آن لائن تعلیمی ادارے کی جاری کردہ ہے جو اب بند ہوچکا ہے۔ یہ ادارہ مبینہ طور پر پاکستان میں قائم ادارہ ’’ایگزٹ ‘‘کے تحت کام کرتا رہا ہے جس نے مبینہ طور پر ایسی ہزاروں ڈگریاں اور ڈپلومہ جات جاری کئے تھے۔نشریاتی ا دارہ ایسے ڈگری ساز آن لائن تعلیمی اداروں کو ’’ڈپلومہ ملز‘‘ قرار دے رہا ہے۔

جعلی ڈگریوں اور ڈپلومہ جات کے انکشاف کے بعد کینیڈا کے مختلف سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں ہلچل بھی ہے کہ ملازمین کی تعلیمی اسناد کے بارے میں جانچ پڑتال کی جائے اور جعلی ڈگری پر کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کینیڈا کے متعدد اداروں میں اسناد کی تصدیق کے بارے زیادہ استفسار کی بجائے سی ویز اور انٹرویز پر انحصار کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہاں کے ایک ہسپتال میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے میل نرس کو دو سال بعد ملازمت سے فارغ کردیا تھا کہ وہ اپنی اصل اسناد وڈپلومہ دکھانے میں ناکام رہا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو اس کے بارے میں کوئی رپورٹ لکھنے پر شک ہوا تو انکوائری میں جب اس سے اصل اسناد مانگی گئیں تو وہ اس کے پاس تھی نہ وہ پیش کرسکا۔اس صورتحال کی وجہ سے پورے کینیڈا میں تشویش پھیل گئی ہے اور سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جعل سازی سے ڈگریاں حاصل کرنے والوں کا محاسبہ کرتے ہوئے حکومت کو اس سے پہلے کون کون سے اقدامات اٹھاناہوں گے تاکہ عوام کا حکومت پر اعتماد قائم رہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ